قومی زبان

یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نے

یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نے پھر بھی جتنا تجھے چاہا نہیں لکھا میں نے یہ تو اک لہر میں کچھ رنگ جھلک آئے ہیں ابھی مجھ میں ہے جو دریا نہیں لکھا میں نے میرے ہر لفظ کی وحشت میں ہے اک عمر کا عشق یہ کوئی کھیل تماشا نہیں لکھا میں نے لکھنے والا میں عجب ہوں کہ اگر کوئی ...

مزید پڑھیے

کبھی خورشید ضیا بار ہوں میں

کبھی خورشید ضیا بار ہوں میں کبھی سایہ پس دیوار ہوں میں یہ جو کچھ رنگ مری ذات میں ہیں کون سمجھے گا کہ دشوار ہوں میں نا رسیدہ ہے ابھی میری مہک شاخ نوخیز دگر انبار ہوں میں ہے کوئی ناز اٹھانے والا ایک ٹوٹا ہوا پندار ہوں میں لوگ یوں بچ کے گزر جاتے ہیں جیسے گرتی ہوئی دیوار ہوں ...

مزید پڑھیے

ہلاک کشمکش رائیگاں بہت سے ہیں

ہلاک کشمکش رائیگاں بہت سے ہیں کہ زندگی ہے تو کار زیاں بہت سے ہیں میں اس ہوا میں بہت دیر روشنی دوں گا ابھی دیے سر محراب جاں بہت سے ہیں اسے بھی اپنے سنورنے کا کب خیال آیا جب اہل عشق کو کار جہاں بہت سے ہیں اس ایک بات پہ حیراں ہے وقت کا منصف کہ اس میں کون سا سچ ہے بیاں بہت سے ہیں عجب ...

مزید پڑھیے

چھیڑ کے ساز زر گری خلق خدا ہے رقص میں

چھیڑ کے ساز زر گری خلق خدا ہے رقص میں یوں کہ تمام شہر ہی ڈوب چلا ہے رقص میں یہ جو نشہ ہے رقص کا اک مری ذات تک نہیں کوزہ بہ کوزہ گل بہ گل ساتھ خدا ہے رقص میں کوئی کسی سے کیا کہے کوئی کسی کی کیوں سنے! سب کی نظر ہے تال پر سب کی انا ہے رقص میں حسن کی اپنی اک نمو عشق کی اپنی ہاؤ ہو ایک ہوا ...

مزید پڑھیے

سنگ ہیں ناوک دشنام ہیں رسوائی ہے

سنگ ہیں ناوک دشنام ہیں رسوائی ہے یہ ترے شہر کا انداز پذیرائی ہے کتنا پھیلے گا یہ اک وصل کا لمحہ آخر کیا سمیٹو گے کہ اک عمر کی تنہائی ہے کچھ تو یاروں سے ملا سنگ ملامت ہی سہی کس نے اس شہر میں یوں داد ہنر پائی ہے ایک پتھر ادھر آیا ہے تو اس سوچ میں ہوں میری اس شہر میں کس کس سے شناسائی ...

مزید پڑھیے

ریلیاں ہی ریلیاں

یہ ہمارا شہر جو شہر کلیمؔ و شادؔ ہے دوست اس کا آج کل چرخ ستم ایجاد ہے اک زمانہ تھا کہ گنگا کا یہ ہمسایہ نگر شعر و حکمت کے لیے تھا درس گاہ معتبر بھائی چارہ اور روا داری کا تھا ہر سو رواج اپنے اپنے شغل میں مصروف رہتا تھا سماج شاعران خوش نوا دن رات آتے تھے نظر گنگناتے شعر کہتے ہر گلی ...

مزید پڑھیے

گھریلو منصوبہ بندی

اب کے بیگم مری میکے سے جو واپس آئیں ایک مرغی بھی بصد شوق وہاں سے لائیں میں نے پوچھا کہ مری جان ارادہ کیا ہے تن کے بولیں کہ مجھے آپ نے سمجھا کیا ہے ذہن نے میرے بنائی ہے اک ایسی سکیم دنگ ہوں سن کے جسے علم معیشت کے حکیم آپ بازار سے انڈے تو ذرا دوڑ کے لائیں تاکہ ہم جلد سے جلد آج ہی ...

مزید پڑھیے

لیلائے کرپشن

آئی ہے مرے شہر میں اک شوخ حسینہ سرشار جوانی ہے کہ ساون کا مہینہ رعنائی کے تیور ہیں کہ طوفاں کا قرینہ اک محشر جذبات ہے ظالم کی جوانی مستانہ ادائیں ہیں کہ دریا کی روانی ہر منہ میں بھر آتا ہے جسے دیکھ کے پانی شوخی ہے کہ برسات کی گنگھور گھٹائیں یا بزم خرابات کی مخمور ہوائیں یا وادئ ...

مزید پڑھیے

اپیل

امیدوار تھا واہیؔ بھی ممبری کے لئے کہ شارٹ کٹ ہے یہی اک تونگری کے لئے مگر بہ فیض حریفاں اسے ٹکٹ نہ ملا پھنسا جو کہر سیاست میں شارٹ کٹ نہ ملا اپیل بورڈ میں پہونچا تو یوں شکایت کی حضور کی نہ گئی قدر میری خدمت کی یہ خود ستائی نہیں بلکہ یہ حقیقت حال کسی حریف سے کمتر نہیں مرے اعمال وہ ...

مزید پڑھیے

شاعر بسیار گو

شاعر بسیار گو سے ہے یہ میری التماس آپ یوں للہ سامع کو نہ کیجے بد حواس مختصر سی رسم ختنہ اور اس پر تیس شعر عقد کے دو بول کی تقریب اور چالیس شعر میں نے مانا شاعری کا آپ کو بحران ہے آپ کی فکر سخن پرچون کی دوکان ہے آپ ڈھیلی کر کے رکھ دیتے ہیں نس نس شعر کی اف یہ چو غزلہ اور اس پر ہر غزل دس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1580 سے 6203