جانے کیا ہے جسے دیکھو وہی دلگیر لگے
جانے کیا ہے جسے دیکھو وہی دلگیر لگے شہر کا شہر ہی اب معتقد میر لگے صبح آشفتہ مزاجوں کی پریشاں سخنی رات اک مار سیہ جیسے عناں گیر لگے اب تو جس آنکھ کو دیکھو وہی پتھرائی ہوئی اب تو جس چہرے کو آواز دو تصویر لگے جانے کس شہر طلسمات میں آ نکلا ہوں اپنے قدموں کی صدا حلقۂ زنجیر لگے یہی ...