قومی زبان

جانے کیا ہے جسے دیکھو وہی دلگیر لگے

جانے کیا ہے جسے دیکھو وہی دلگیر لگے شہر کا شہر ہی اب معتقد میر لگے صبح آشفتہ مزاجوں کی پریشاں سخنی رات اک مار سیہ جیسے عناں گیر لگے اب تو جس آنکھ کو دیکھو وہی پتھرائی ہوئی اب تو جس چہرے کو آواز دو تصویر لگے جانے کس شہر طلسمات میں آ نکلا ہوں اپنے قدموں کی صدا حلقۂ زنجیر لگے یہی ...

مزید پڑھیے

دو بادل آپس میں ملے تھے پھر ایسی برسات ہوئی

دو بادل آپس میں ملے تھے پھر ایسی برسات ہوئی جسم نے جسم سے سرگوشی کی روح کی روح سے بات ہوئی دو دل تھے اور ایک سا موسم جس کی سخاوت ایسی تھی میں بھی اک برکھا میں نہایا وہ بھی ابر صفات ہوئی اس کے ہاتھ میں ہاتھ لیے اور دھوپ چھاؤں میں چلتا ہوا یوں لگتا تھا ساری دنیا جیسے میرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

اے صبح امید دیر کیا ہے

اے صبح امید دیر کیا ہے اب کتنے دیوں کا فاصلہ ہے اب کتنی ہے دیر روشنی میں اب کتنی شبوں کا مرحلہ ہے ہم ہجر کی رات کے مسافر اس دشت سے ہم کو کیا ملا ہے وہ خواب تو جل بجھے ہیں سارے وہ خیمہ تو راکھ ہو چلا ہے اب کیسے چراغ کیا چراغاں جب سارا وجود جل رہا ہے باہر بھی وہی فضا ہے ساری اندر ...

مزید پڑھیے

دستک سی یہ کیا تھی کوئی سایا ہے کہ میں ہوں

دستک سی یہ کیا تھی کوئی سایا ہے کہ میں ہوں اک شخص مری طرح کا آیا ہے کہ میں ہوں سب جیسا ہوں لیکن مرے تصویر گروں نے چہرہ مرا اس رخ سے بنایا ہے کہ میں ہوں کیا نیند تھی وہ اپنے نہ ہونے کے نشہ کی کیوں یہ مرے ہونے نے بتایا ہے کہ میں ہوں میں ہوں کہ ہیں موجود مرے دیکھنے والے خود مجھ کو تو ...

مزید پڑھیے

نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا

نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا بس اب بقدر غزل اس سے نسبتیں رکھنا یہ کس تعلق خاطر کا دے رہا ہے سراغ کبھی کبھی ترا مجھ سے شکایتیں رکھنا میں اپنے سچ کو چھپاؤں تو روح شور مچائے عذاب ہو گیا میرا سماعتیں رکھنا فضائے شہر میں اب کے بڑی کدورت ہے بہت سنبھال کے اپنی محبتیں رکھنا ہم ...

مزید پڑھیے

ہم جہاں نغمہ و آہنگ لیے پھرتے ہیں

ہم جہاں نغمہ و آہنگ لیے پھرتے ہیں لوگ ہاتھوں میں وہاں سنگ لیے پھرتے ہیں ہم ہی اس عہد کا معیار تغیر ہوں گے ہم کہ ہر دور میں سو رنگ لیے پھرتے ہیں کیا ہو شوریدہ سروں کی گزر اوقات کہ لوگ دست بے فیض و دل تنگ لیے پھرتے ہیں سب ترا حسن ترے حسن سہی قد میں نہیں ہم بھی آنکھوں میں عجب رنگ لیے ...

مزید پڑھیے

کیسے اس شہر میں رہنا ہوگا

کیسے اس شہر میں رہنا ہوگا ہائے وہ شخص کہ مجھ سا ہوگا رنگ بکھریں گے جو میں بکھروں گا تو جو بکھرے گا تو ذرہ ہوگا خشک آنکھوں سے اسی سوچ میں ہوں ابر اس بار بھی برسا ہوگا اب بھی پہروں ہے یہی سوچ مجھے وہ مجھے چھوڑ کے تنہا ہوگا وہ بدن خواب سا لگتا ہے مجھے جو کسی نے بھی نہ دیکھا ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ الزام لگاتے کیوں ہو

مجھ پہ الزام لگاتے کیوں ہو بات پے بات بناتے کیوں ہو زخم پچھلے نہ بھرے اب تک پھر اک نئی چوٹ لگاتے کیوں ہو میری ہر بات دبا کر بولو صرف اپنی ہی چلاتے کیوں ہو مچھلیوں پر بھی ترس کھاؤ کچھ آگ پانی میں لگاتے کیوں ہو سر کے ماتھے پہ پسینہ آیا بے سرا ساز بجاتے کیوں ہو بچ کے طوفاں سے چلے ...

مزید پڑھیے

رات پھر بولتی رہیں آنکھیں

رات پھر بولتی رہیں آنکھیں راز سب کھولتی رہیں آنکھیں کس طرح اعتبار کر پاتے ہر طرف ڈولتی رہیں آنکھیں میرے کپڑوں سے گھر سے گاڑی سے حیثیت تولتی رہیں آنکھیں چہرے کتنے نقاب پہنے تھے صورتیں مولتی رہیں آنکھیں تھی وہاں مے نہ ساقی پیمانے پر نشہ گھولتی رہیں آنکھیں

مزید پڑھیے

خوشبو ہیں تو ہر دور کو مہکائیں گے ہم لوگ

خوشبو ہیں تو ہر دور کو مہکائیں گے ہم لوگ مٹی ہیں تو پل بھر میں بکھر جائیں گے ہم لوگ یہ شعلۂ بے مہر تو بس آنچ ہی دے گا ہاں اور ترے حسن سے کیا پائیں گے ہم لوگ کیا ہم سے بچو گے کہ جدھر جائیں گی نظریں اس آئنہ خانے میں جھلک جائیں گے ہم لوگ کہنا ہے یہ ناقدریٔ ارباب جہاں سے اک بار جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1579 سے 6203