قومی زبان

اے ننگ عشق باز بھی آ آہ آہ سے

اے ننگ عشق باز بھی آ آہ آہ سے وہ حشر رنگ رنگ اٹھا جلوہ گاہ سے اٹھو کہ دل کو تمکنت عشق پر ہے زعم الٹو نقاب آگ لگا دو نگاہ سے بیگانہ وار عشق کی منزل کو طے کیا بچ کر چلا میں خار و خس رسم و راہ سے وہ غم تو دے کہ فرصت یک لحظہ ہو محال شرمندہ ہو رہا ہوں غم گاہ گاہ سے اس کو نہ ہو سکی کہیں ...

مزید پڑھیے

شام فراق صبح درخشاں ہے آج کل

شام فراق صبح درخشاں ہے آج کل ہر اشک جیسے نیر تاباں ہے آج کل یا رب متاع درد محبت کی خیر ہو پھر چشم ناز سلسلہ جنباں ہے آج کل اللہ رے جذب عشق کی پندار حسن دوست مجروح التفات‌‌‌ گریزاں ہے آج کل برپا ہے چشم ناز میں پھر حشر التفات سچ مچ جفا پہ کوئی پشیماں ہے آج کل لو دے اٹھے ہیں دیدہ ...

مزید پڑھیے

اب مجھے رنج کیوں نہ ہو اس دل سوگوار سے

اب مجھے رنج کیوں نہ ہو اس دل سوگوار سے وہ جو تڑپ تڑپ گئے نالۂ بے قرار سے کون یہ جان رنگ و بو روٹھ گیا بہار سے غنچے بھی ہیں اداس سے گل بھی ہیں سوگوار سے بھیگی ہوئی فضا میں ہے ابر بھی ہے ہوا بھی ہے ایسے میں چھیڑ محتسب کفر ہے بادہ خوار سے صبح ازل سے تا ابد دور فراق الاماں اے کہ ٹپک ...

مزید پڑھیے

رات آ بیٹھی ہے پہلو میں ستارو تخلیہ

رات آ بیٹھی ہے پہلو میں ستارو تخلیہ اب ہمیں درکار ہے خلوت سو یارو تخلیہ آنکھ وا ہے اور حسن یار ہے پیش نظر شش جہت کے باقی ماندہ سب نظارو تخلیہ دیکھنے والا تھا منظر جب کہا درویش نے کج کلاہو بادشاہو تاجدارو تخلیہ غم سے اب ہوگی براہ راست میری گفتگو دوستو تیمار دارو غم گسارو ...

مزید پڑھیے

وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں

وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں میں خود تو زندہ رہا وقت مر گیا مجھ میں سکوت شام میں چیخیں سنائی دیتی ہیں تو جاتے جاتے عجب شور بھر گیا مجھ میں وہ پہلے صرف مری آنکھ میں سمایا تھا پھر ایک روز رگوں تک اتر گیا مجھ میں کچھ ایسے دھیان میں چہرہ ترا طلوع ہوا غروب شام کا منظر نکھر گیا ...

مزید پڑھیے

سکوت شام میں گونجی صدا اداسی کی

سکوت شام میں گونجی صدا اداسی کی کہ ہے مزید اداسی دوا اداسی کی بہت شریر تھا میں اور ہنستا پھرتا تھا پھر اک فقیر نے دے دی دعا اداسی کی امور دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں یہاں فقط تری چلتی ہے یا اداسی کی چراغ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا کہ آج رات چلے گی ہوا اداسی کی وہ امتزاج تھا ...

مزید پڑھیے

بلو باربر

ارے ہیرو! اداکاری نہ کر چل اٹھ کہ لاکھوں دل تری آنکھوں سے دھڑکن لینے آئے ہیں چلو مانا تری آنکھیں کچھ ایسی تھیں کہ اس بے کار سیارے پہ ان کا دیر تک رہنا نہ بنتا تھا مگر پیارے! ترپن سال تو کچھ بھی نہیں ہوتے تو کیوں خاموش ہے کچھ کہہ کہ تیری بے کراں آواز میں تو لاکھوں صدیوں کی صدائیں ...

مزید پڑھیے

لا تحزنو

وبائے عام سے مرنے کا خوف اپنی جگہ کواڑ کھول کے دیکھو بہار آئی ہے گلوں سے بھرنے لگے ایشیا کے لالہ زار وہ دیکھو ہو گئے یورپ کے آسماں شفاف بہت چمکنے لگا ہے ہمارا سیارہ پرندے گانے لگے ہیں ہوائیں ہو گئیں صاف گھروں کے صحنوں میں کلکاریاں ہیں بچوں کی محبتوں کے دیے ہیں ہر اک شبستاں ...

مزید پڑھیے

شہر بانو کے لیے ایک نظم

تمہیں جب دیکھتا ہوں تو مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں تمہیں سنتا ہوں تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے تمہارا نام لیتا ہوں تو صدیوں قبل کے لاکھوں صحیفوں کے مقدس لفظ میرا ساتھ دیتے ہیں تمہیں چھو لوں تو دنیا بھر کے ریشم کا ملائم پن مری ...

مزید پڑھیے

سیلفی

ہجر کے بے صدا جزیرے پر کنج تنہائی میں کوئی لڑکی خال و خد پر لگا کے آس کا رنگ چشم و لب پر سجا کے دل کی امنگ آنکھوں آنکھوں میں مسکراتی ہے شام کی سرمئی اداسی میں اپنی تصویر خود بناتی ہے ادھ کھلے ہونٹ نیم وا آنکھیں بے نوا ہونٹ بے صدا آنکھیں ایسی خاموشی ایسی تنہائی خود تماشا ہے خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1564 سے 6203