زیادہ پاس مت آنا
زیادہ پاس مت آنا میں وہ تہہ خانہ ہوں جس میں شکستہ خواہشوں کے ان گنت آسیب بستے ہیں جو آدھی شب تو روتے ہیں پھر آدھی رات ہنستے ہیں مری تاریکیوں میں گمشدہ صدیوں کے گرد آلود نا آسودہ خوابوں کے کئی عفریت بستے ہیں مری خوشیوں پہ روتے ہیں مرے اشکوں پہ ہنستے ہیں مرے ویران دل میں رینگتی ہیں ...