قومی زبان

زیادہ پاس مت آنا

زیادہ پاس مت آنا میں وہ تہہ خانہ ہوں جس میں شکستہ خواہشوں کے ان گنت آسیب بستے ہیں جو آدھی شب تو روتے ہیں پھر آدھی رات ہنستے ہیں مری تاریکیوں میں گمشدہ صدیوں کے گرد آلود نا آسودہ خوابوں کے کئی عفریت بستے ہیں مری خوشیوں پہ روتے ہیں مرے اشکوں پہ ہنستے ہیں مرے ویران دل میں رینگتی ہیں ...

مزید پڑھیے

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں آپ ہی کی بہار ہے سائیں آپ چاہیں تو جان بھی لے لیں آپ کو اختیار ہے سائیں تم ملاتے ہو بچھڑے لوگوں کو ایک میرا بھی یار ہے سائیں کسی کھونٹی سے باندھ دیجے اسے دل بڑا بے مہار ہے سائیں عشق میں لغزشوں پہ کیجے معاف سائیں یہ پہلی بار ہے سائیں کل ملا کر ہے جو ...

مزید پڑھیے

عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین

عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین دل کو ہر روز عطا نعمت غم ہو آمین میرے کاسے کو ہے بس چار ہی سکوں کی طلب عشق ہو وقت ہو کاغذ ہو قلم ہو آمین حجرۂ ذات میں یا محفل یاراں میں رہوں فکر دنیا کی مجھے ہو بھی تو کم ہو آمین جب میں خاموش رہوں رونق محفل ٹھہروں اور جب بات کروں بات میں دم ہو ...

مزید پڑھیے

دل کو درون خانہ ہی بہلاؤ گھر رہو

دل کو درون خانہ ہی بہلاؤ گھر رہو تم کو قسم ہے بھیڑ میں مت جاؤ گھر رہو زندہ رہے تو یار بہت محفلیں بہت فی الحال میرے انجمن آراؤ! گھر رہو مانا کہ عید ملنا بھی دستور ہے مگر سینوں سے لگ کے موت نہ پھیلاؤ گھر رہو چوکھٹ نہ پار کرنا کہ باہر ہے قتل عام گلیوں میں چل رہی ہے اجل داؤ گھر ...

مزید پڑھیے

نظر اٹھائیں تو کیا کیا فسانہ بنتا ہے

نظر اٹھائیں تو کیا کیا فسانہ بنتا ہے سو پیش یار نگاہیں جھکانا بنتا ہے وہ لاکھ بے خبر و بے وفا سہی لیکن طلب کیا ہے گر اس نے تو جانا بنتا ہے رگوں تلک اتر آئی ہے ظلمت شب غم سو اب چراغ نہیں دل جلانا بنتا ہے پرائی آگ مرا گھر جلا رہی ہے سو اب خموش رہنا نہیں غل مچانا بنتا ہے قدم قدم پہ ...

مزید پڑھیے

سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ہو جانا

سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ہو جانا کیا غضب کام ہے راضی بہ رضا ہو جانا بند آنکھو وہ چلے آئیں تو وا ہو جانا اور یوں پھوٹ کے رونا کہ فنا ہو جانا عشق میں کام نہیں زور زبردستی کا جب بھی تم چاہو جدا ہونا جدا ہو جانا تیری جانب ہے بتدریج ترقی میری میرے ہونے کی ہے معراج ترا ہو جانا تیرے ...

مزید پڑھیے

صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے

صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے میں اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے پھر اس کے بعد زمانے نے مجھ کو روند دیا میں گر پڑا تھا کسی اور کو اٹھاتے ہوئے کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے پھر اس کے بعد عطا ہو گئی مجھے تاثیر میں رو پڑا تھا کسی کو ...

مزید پڑھیے

میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں

میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں مگر اے یار تیرا یار ہوں میں جو دیکھا ہے کسی کو مت بتانا علاقے بھر میں عزت دار ہوں میں خود اپنی ذات کے سرمائے میں بھی صفر فیصد کا حصے دار ہوں میں اور اب کیوں بین کرتے آ گئے ہوں کہا تھا نا بہت بیمار ہوں میں مری تو ساری دنیا بس تمہی ہو غلط کیا ہے جو ...

مزید پڑھیے

غم کیسا کوئی ہم سے جو بیگانہ رہے گا

غم کیسا کوئی ہم سے جو بیگانہ رہے گا دیوانہ تو ہر حال میں دیوانہ رہے گا کعبہ ہی رہے گا نہ صنم خانہ رہے گا جب تک کہ نظر میں در جاناں نہ رہے گا ہاں میں نے بہت نقش وفا چھوڑ دیے ہیں جب میں نہ رہوں گا مرا افسانہ رہے گا آیا ہوں تری بزم سے لیکن نہیں آیا ہر وقت تصور میں پری خانہ رہے ...

مزید پڑھیے

جب کبھی بازار سے گھر آئے ہیں

جب کبھی بازار سے گھر آئے ہیں اپنے پیچھے چند پتھر آئے ہیں کرب بے چینی اذیت بے بسی ہم پہ ایسے وقت اکثر آئے ہیں ایک قطرے نے ابھارا جب بھی سر دیکھنے اس کو سمندر آئے ہیں اس زمانے میں ہمیں جینا پڑا واہ کیا لے کر مقدر آئے ہیں پھر فصیل دل شکستہ ہو گئی آج پھر یادوں کے لشکر آئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1565 سے 6203