قومی زبان

شب کا سفر

آخرش آ گئی وہ شب اے دل صبح سے انتظار جس کا ہے میری تنہائی کی رفیق یہ شب کون کہتا ہے کہ تاریک ہے شب میرے ہر درد سے پیوند بنے آرزوؤں کی اک ردا ایسی جس کی زنبیل میں میں نے اپنے دل جگر ذہن بچھا رکھے ہوں اپنے معشوق کے اس آنچل میں کتنے ارمان چھپا رکھے ہیں کتنے احساس سجا رکھے ہیں میرے ...

مزید پڑھیے

خواب فروش

پھر اسی شہر میں آئے ہو پلٹ کر کہ جہاں چند ہوتے ہیں جو تم نے دکھائے تھے خواب چند دن ہوتے ہیں جب تم نے سجائے تھے گلاب جن میں خوشبو بھی تھی اور رنگ بھی مانند شہاب تم گئے خواب رہے اور زمانے کے عذاب ڈھونڈتے رہ گئے لب کتنے سوالوں کے جواب اب جو آئے ہو تو اتنا سا کرم کر جانا اب کے بیمار سے ...

مزید پڑھیے

حال دل اس طرح چھپاتا ہوں

حال دل اس طرح چھپاتا ہوں جب بھی ملتا ہوں مسکراتا ہوں رات بھر خواب جو سجاتا ہوں دن نکلتا ہے بھول جاتا ہوں میرے کمرے میں صرف کاغذ ہے میں چراغوں سے خوف کھاتا ہوں آج کل وہ بھی کچھ نہیں کہتا میں بھی خاموش لوٹ آتا ہوں اونچے لوگوں میں بیٹھ کر میں بھی اپنی اوقات بھول جاتا ہوں جوار ...

مزید پڑھیے

ساری بات نہ پوچھا کر

ساری بات نہ پوچھا کر کچھ خود بھی تو سمجھا کر میں بچھنے کی چیز نہیں پاگل مجھ کو اوڑھا کر اس نے منزل پا لی ہے لیکن مجھ کو بھٹکا کر لوگ تجھے پہچانیں گے ہر دن ایک تماشا کر دروازے کچھ چھوٹے ہیں تھوڑا جھک کر نکلا کر پکنے کو ہے سرخ انار زینہ دھیرے اترا کر دنیا گونگی بہری ہے جو منہ ...

مزید پڑھیے

چمک یوں ہی نہیں لفظوں میں آئی

چمک یوں ہی نہیں لفظوں میں آئی کیا ہے خون دل کو روشنائی مرے چہرے سے چپکی تھی اداسی ہنسی مایوس ہو کر لوٹ آئی تمناؤں نے کی صحرا نوردی جنوں نے شہر میں ہی خاک اڑائی میں دل کی بات سننے کا ہوں عادی مبارک تم کو پتھر کی خدائی کتابیں عشق کی گم ہو گئی ہیں ادھوری رہ گئی میری پڑھائی اجالا ...

مزید پڑھیے

ہے گلی سنسان کھڑکی بند رکھ

ہے گلی سنسان کھڑکی بند رکھ میں یہاں انجان کھڑکی بند رکھ کیا پتہ کب پار ہو جائیں حدیں تیز ہے طوفان کھڑکی بند رکھ میں تو بنجارا ہوں مجھ سے اس قدر مت بڑھا پہچان کھڑکی بند رکھ اب ہمارے گاؤں کے معصوم بھی ہو گئے شیطان کھڑکی بند رکھ

مزید پڑھیے

کاش پڑتے نہ ان عذابوں میں

کاش پڑتے نہ ان عذابوں میں ڈھونڈتے ہیں تمہیں سرابوں میں کبھی کانٹوں کبھی گلابوں میں کھو گئے ہم یہ کن عذابوں میں نشۂ یار کا نشہ مت پوچھ ایسی مستی کہاں شرابوں میں اس کا جلوہ دکھائی دیتا ہے سارے چہروں پہ سب کتابوں میں سامنے ہوں تو آنکھ کھلتی نہیں جاگتے ہیں ہم ان کے خوابوں میں

مزید پڑھیے

درد و غم سب سنانے بیٹھے ہیں

درد و غم سب سنانے بیٹھے ہیں چھیڑ اپنے فسانے بیٹھے ہیں آشیاں کو جلا کے جی نہ بھرا اب وہ ہم کو جلانے بیٹھے ہیں تم نہ تھے تو یہاں پہ کوئی نہ تھا آج کتنے دوانے بیٹھے ہیں اس فقیری کی پادشاہی تو دیکھ فرش کو عرش مانے بیٹھے ہیں آستانہ ترا خدا کا گھر اور ہم آزمانے بیٹھے ہیں

مزید پڑھیے

اپنے محور سے جب اتر جاؤں

اپنے محور سے جب اتر جاؤں پھول کی طرح پھر بکھر جاؤں لوٹ پھر آؤں کیسے محور پر کوئی بتلاؤ کیا میں کر جاؤں جانے کیا کہہ رہی ہے دنیا اب پہلے کہتی تھی کیوں نہ مر جاؤں مجھ سے ہرگز سے نہ ہو سکے گا کبھی خود کو اوروں کے جیسا کر جاؤں ڈوب جاؤں بھنور کے ساتھ کہیں لہر کے ساتھ پھر ابھر ...

مزید پڑھیے

کوہ غم اتنا گراں اتنا گراں ہے اب کے

کوہ غم اتنا گراں اتنا گراں ہے اب کے ہے کہاں تیشہ گراں آہ گراں ہے اب کے میکشوں اتنا نہ پی جاؤ کہ غم ڈوب جائے پھر نہ پھٹ جائے یہ آتش جو فشاں ہے اب کے تنگ‌ دامان یہ دنیائے ستم زور الم بڑھتا جائے ہے رواں اور دواں ہے اب کے چشمۂ ناب نہ بڑھ کر جنوں سیلاب بنے بہہ نہ جائے کہ یہ مٹی کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1556 سے 6203