شب کا سفر
آخرش آ گئی وہ شب اے دل صبح سے انتظار جس کا ہے میری تنہائی کی رفیق یہ شب کون کہتا ہے کہ تاریک ہے شب میرے ہر درد سے پیوند بنے آرزوؤں کی اک ردا ایسی جس کی زنبیل میں میں نے اپنے دل جگر ذہن بچھا رکھے ہوں اپنے معشوق کے اس آنچل میں کتنے ارمان چھپا رکھے ہیں کتنے احساس سجا رکھے ہیں میرے ...