قومی زبان

مجھ کو نہ دل پسند نہ دل کی یہ خو پسند

مجھ کو نہ دل پسند نہ دل کی یہ خو پسند پہلو سے میرے جائے دل آرزو پسند تجھ کو عدو پسند ہے وضع عدو پسند مجھ کو ادا پسند تری مجھ کو تو پسند روز ازل تھے ڈھیر ہزاروں لگے ہوئے چپکے سے چھانٹ لائے دل آرزو پسند تم نے تو آستیں کے سوا ہاتھ بھی رنگے آیا شہید ناز کا اتنا لہو پسند اے دل تری جگہ ...

مزید پڑھیے

جی اٹھے حشر میں پھر جی سے گزرنے والے

جی اٹھے حشر میں پھر جی سے گزرنے والے یاں بھی پیدا ہوئے پھر آپ پہ مرنے والے چوس کر کس نے چھڑائی ہے مسی ہونٹھوں کی سامنے منہ تو کریں بات نہ کرنے والے شب ماتم کی اداسی ہے سہانی کتنی چھاؤں میں تاروں کی نکلے ہیں سنورنے والے ہم تو سمجھے تھے کہ دشمن پہ اٹھایا خنجر تم نے جانا کہ ہمیں تم ...

مزید پڑھیے

یہ کافر بت جنہیں دعویٰ ہے دنیا میں خدائی کا

یہ کافر بت جنہیں دعویٰ ہے دنیا میں خدائی کا ملیں محشر میں مجھ عاصی کو صدقہ کبریائی کا یہ مجھ سے سخت جاں پر شوق خنجر آزمائی کا خدا حافظ مرے قاتل تری نازک کلائی کا نہ ہو پہلو میں میرے دل تو کوئی بات کیوں پوچھے یہی تو اک ذریعہ ہے حسینوں تک رسائی کا تم اچھے غیر اچھا غیر کی تقدیر بھی ...

مزید پڑھیے

بام پر آئے کتنی شان سے آج

بام پر آئے کتنی شان سے آج بڑھ گئے آپ آسمان سے آج جب کہا ہم خفا ہیں جان سے آج بولے خوش کر دیں امتحان سے آج کس مزے کی ہوا میں مستی ہے کہیں برسی ہے آسمان سے آج بے تکلف نہ ہو کوئی ان سے بنے بیٹھے ہیں میہمان سے آج میں نے چھیڑا تو کس ادا سے کہا کچھ سنو گے مری زبان سے آج دل کے ٹکڑوں کی ...

مزید پڑھیے

کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگا

کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگا اے میں قربان وفا وعدۂ فردا ہوگا حشر کے روز بھی کیا خون تمنا ہوگا سامنے آئیں گے یا آج بھی پردا ہوگا ہم نہیں جانتے ہیں حشر میں کیا کیا ہوگا یہ خوشی ہے کہ وفا وعدۂ فردا ہوگا تو بتا دے ہمیں صدقے ترے اے شان کرم ہم گنہ گار ہیں کیا حشر ہمارا ...

مزید پڑھیے

درد ہو تو دوا کرے کوئی

درد ہو تو دوا کرے کوئی موت ہی ہو تو کیا کرے کوئی نہ ستائے کوئی انہیں شب وصل ان کی باتیں سنا کرے کوئی بند ہوتا ہے اب در توبہ در مے خانہ وا کرے کوئی قبر میں آ کے نیند آئی ہے نہ اٹھائے خدا کرے کوئی تھیں یہ دنیا کی باتیں دنیا تک حشر میں کیا گلا کرے کوئی نہ اٹھی جب جھکی جبین نیاز کس ...

مزید پڑھیے

جوبن ان کا اٹھان پر کچھ ہے

جوبن ان کا اٹھان پر کچھ ہے اب مزاج آسمان پر کچھ ہے کیا ٹھکانا ہے بات کا ان کی دل میں کچھ ہے زبان پر کچھ ہے وعدہ ہے غیر سے یہ حیلہ ہے کام مجھ کو مکان پر کچھ ہے حور کا ذکر کیوں کیا دم مرگ شبہ میرے بیان پر کچھ ہے گمشدہ دل نہ ہو کہیں میرا ان کی محرم کی پان پر کچھ ہے ہو کے رسوا کسے کیا ...

مزید پڑھیے

یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کی

یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کی راتیں ہیں ان میں بند ہماری شباب کی پوچھو نہ ہم سے عالم غفلت کے خواب کی دنیا کچھ اور ہی تھی ہمارے شباب کی یہ نشہ آنکھ دیکھ کے اس مست خواب کی جیسے ابھی چڑھائی ہو بوتل شراب کی سرخی شفق کی شکل مہ و آفتاب کی چھلکی ہوئی شراب ہے جام و شراب کی کیوں ...

مزید پڑھیے

کوئی منہ چوم لے گا اس نہیں پر

کوئی منہ چوم لے گا اس نہیں پر شکن رہ جائے گی یوں ہی جبیں پر گری تھی آج تو بجلی ہمیں پر یہ کہئے جھک پڑے وہ ہم نشیں پر لہو بیکس کا مقتل کی زمیں پر نہ دامن پر نہ ان کی آستیں پر بلائیں بن کے وہ آئیں ہمیں پر دعائیں جو گئیں عرش بریں پر یہ قسمت داغ جس میں درد جس میں وہ دل ہو لوٹ دست ...

مزید پڑھیے

جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی

جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی پرانی دوستی بھی طاق پر اے مہرباں رکھ دی قفس میں شاخ گل صیاد نے اے آسماں رکھ دی بنا کر شاخ گل ہاں تیری شاخ کہکشاں رکھ دی یہ کیسی آگ بھر کر جام میں پیر مغاں رکھ دی جو توڑی مہر ساغر سے تو کچھ اٹھا دھواں رکھ دی ذرا چھیڑا جو اس نے ہو گئی ایسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1525 سے 6203