قومی زبان

بنارس

بھٹکتی ہوئی وقت کی آتمائیں ترے گھاٹ کے پتھروں کی زباں سے یگوں کی صداؤں کی صورت ابھر کر گھلی جا رہی ہے بجھے پانیوں میں تری سانس کی شاہراہوں پر پھوٹی وہی تنگ گلیاں، وہ گلیوں میں گلیاں! کہ جیسے رگوں کا بنے جال کوئی جہاں لاکھ بھٹکو، نہ کوئی سفر ہو سفر فاصلہ ہے، سفر مرحلہ ہے یہیں پر ...

مزید پڑھیے

صابن

دو عالم کی سیاحی میں گزرے ہیں نکہت نکہت میرے لب اجلے پستانوں سے زیر ناف گھنی راتوں کے ایوانوں سے بھیگی بھیگی کھال کی اندھی رونق سے واقف ہوں میں بھی جسموں سے سیلابی پیچ و خم سے گھس کر لمحہ لمحہ جان گنوائی ہے میں نے بھی جھاگ بنا کر ہستی اپنی مٹی کے سپنے دھوتا ہوں تیرے خلیوں کے حلقوں ...

مزید پڑھیے

معذرت

مجھے معاف کرنا ہواؤں کے پرسوز چہرو کہ میں نے تمہارے فلک در فلک تیوروں کا سراب بھی پایا نہیں ہے مجھے معاف کرنا ستاروں کے سایو تمہاری سیاہی کے بوسیدہ نقطوں میں ڈھلنے سے اب تک میں قاصر رہا ہوں غیابوں کی نظروں سے تنہا بہا ہوں مجھے معاف کرنا محبت کے حامل سرابو کہ بانہوں میں آ کر بسا ...

مزید پڑھیے

وینس

پہنا کے زنجیر آبی بنا تاب کی اب بھی جکڑے رکھا ہے مجھے پانیوں نے نفس میرا پانی مری روح پانی مرے عکس کی لہر در لہر سطحوں میں سیال پتوار کھولے ہیں در اور دریچوں کی تاریخ کے مرتعش مرتعش اپنی پھیلی رگوں کی فراوانیوں میں بہاتا ہوں میں نغمہ زن کشتیوں کے چراغ آسمانوں کا آئینہ سر پہ ...

مزید پڑھیے

مستقبل کی آنکھ

میرے ماضی کی آنکھ مستقبل اور یہ میرا ثبوت بوند جو پہلے سمندر تھی کبھی یہ ہوائیں جو کبھی تھیں سانسیں اور اس پیڑ کی تنہائی مری آواز کے پانی میں کبھی بھیگے گی مرے ماضی کی آنکھ مستقبل اور یہ میرا ثبوت وقت ناپید سے آتے جاتے اس کی تاریخ میں سو جاؤں گا میں اگر تھا تو میں ہو جاؤں گا

مزید پڑھیے

نا مکمل تعارف

اور جنموں سے ترے اندر چھپا تھا وہ بھی میں اور ترے اظہار سے باہر اڑا تھا وہ بھی میں اور تجھ سے تجھ تلک جو فاصلہ تھا وہ بھی میں اور سارے فاصلوں میں راستہ تھا وہ بھی میں اور تیری رات کی زد پر جلا تھا وہ بھی میں اور ایوان فلک میں جو بجھا تھا وہ بھی میں اور کھنڈر کے دل میں جو نغمہ سرا تھا ...

مزید پڑھیے

گائے

گھاس کے سبز میدان تو رہ گئے ہیں فقط خواب میں میرا بھاری بدن چاروں پیروں کی تحریک پر اٹھ کے چل تو پڑا ہے ان آوارہ گلیوں کی انگڑائیوں میں مگر شہر کی دوڑتی پھرتی سانسوں سے ٹکرا کے مسمار ہونے لگی ہے مری ہر ادا اب تو آوارہ گلیوں کی پرچھائیں میں مکھیاں شوق سے کر رہی ہیں زنا مری مغموم ...

مزید پڑھیے

مرے سمٹے لہو کا استعارا لے گیا کوئی

مرے سمٹے لہو کا استعارا لے گیا کوئی مجھے پھیلا گیا ہر سو کنارا لے گیا کوئی بس اب تو مانگتا پھرتا ہوں اپنے آپ کو سب سے مری سانسوں میں جو کچھ تھا وہ سارا لے گیا کوئی بدن میں جو خلاؤں کا نگر تھا وہ بھی خالی ہے مری تہذیب کا تنہا منارا لے گیا کوئی جہاں سے بھاگ نکلا تھا وہیں پتھر ہوا ...

مزید پڑھیے

تاخیر آ پڑی جو بدن کے ظہور میں

تاخیر آ پڑی جو بدن کے ظہور میں ہم نے خلائیں گھول دیں بین السطور میں مٹی کو اپنی رات میں تحلیل کر دیا اک سر زمیں سمیٹ لی تاروں کے نور میں ممکن ہے ترک ہی کرے وہ حشر کا خیال دل کا سکوت پھونک کے آیا ہوں صور میں اک نقطۂ غیاب میں ڈھلنے لگے فلک بھٹکا ہوں اتنی دور بھی تحت الشعور ...

مزید پڑھیے

ہر ایک خلیہ کو آئینہ گھر بناتے ہوئے

ہر ایک خلیہ کو آئینہ گھر بناتے ہوئے بہت بٹا ہوں بدن معتبر بناتے ہوئے میرے نزول میں سات آسماں کی گردش ہے اتر رہا ہوں دلوں میں بھنور بناتے ہوئے عدم کی رگ میں جو اک لہر ہے وہیں سے کہیں گزر گیا ہوں سفر مختصر بناتے ہوئے مری ہتھیلی پہ ٹھہرا ہے ارتقا کا بہاؤ جہاں کی خاک سے اپنا کھنڈر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1505 سے 6203