بنارس
بھٹکتی ہوئی وقت کی آتمائیں ترے گھاٹ کے پتھروں کی زباں سے یگوں کی صداؤں کی صورت ابھر کر گھلی جا رہی ہے بجھے پانیوں میں تری سانس کی شاہراہوں پر پھوٹی وہی تنگ گلیاں، وہ گلیوں میں گلیاں! کہ جیسے رگوں کا بنے جال کوئی جہاں لاکھ بھٹکو، نہ کوئی سفر ہو سفر فاصلہ ہے، سفر مرحلہ ہے یہیں پر ...