قومی زبان

سویرا

میری سانسوں میں سویا ہوا آسماں جاگ اٹھا خوں کی رفتار کو چیر کر گر پڑی روشنی زندگی! زندگی اس زمیں پر زمیں پر سمندر سمندر کا شفاف پانی روانی روانی کی انگلی پکڑ کر کئی رنگ موجوں کا آہنگ بن کر چلے اپنے ہونے کا نیرنگ بن کر چلے سات پاتال کی کوکھ ہے پھوٹی انجان صدیاں، یگوں کی تپسیا بدن ...

مزید پڑھیے

وفا کی فصل پھر بونے چلی ہوں

وفا کی فصل پھر بونے چلی ہوں میں کیا پاؤں گی بس کھونے چلی ہوں جنوں کی حد سے بھی آگے قدم ہے نہ جانے اور کیا ہونے چلی ہوں یہ ممکن تو نظر آتا نہیں ہے انا کو اپنی میں دھونے چلی ہوں سمندر آ گیا میرے مقابل جب اس نے دیکھا میں رونے چلی ہوں یہی نیکی مجھے زندہ رکھے گی کہ بوجھ اوروں کا میں ...

مزید پڑھیے

کئی سوال مچلتے ہیں ہر سوال کے بعد

کئی سوال مچلتے ہیں ہر سوال کے بعد شب وصال سے پہلے شب وصال کے بعد نہ جانے کیوں یہ مرا دل دھڑکنے لگتا ہے ترے خیال سے پہلے ترے خیال کے بعد ہر ایک داؤ سے واقف تھی اے مرے ہمدم میں تیری چال سے پہلے میں تیری چال کے بعد نہ جانے کیوں تری یادیں طواف کرتی ہیں کسی ملال سے پہلے کسی ملال کے ...

مزید پڑھیے

مصلحت خو کب ہوا ہے آئنہ

مصلحت خو کب ہوا ہے آئنہ سچ ہی سچ بس بولتا ہے آئنہ آج میرے دوستوں کی خیر ہو بے طرح مجھ پر مٹا ہے آئنہ ایک چوکیدار ہے اپنا ضمیر اک نگہباں بن گیا ہے آئنہ آشنا سیرت کی خوشبو سے نہیں حسن ظاہر پر فدا ہے آئنہ خود پسندی اس قدر اچھی نہیں سامنے ہر دم دھرا ہے آئنہ بدلا موسم میرے چہرے کا ...

مزید پڑھیے

آمد

ہماری سانسوں کی جلوہ گہ میں وہ سارے چہرے یگوں کے پہرے جو سات پانی کے پار جا کر بسے ہوئے ہیں پھر آج سیال سطح پر جھلملا رہے ہیں سراب کے آئینوں میں ہونا نہ ہونا اپنا دکھا رہے ہیں قریب آ کر ہمیں بہت دور خود سے باہر بلا رہے ہیں اور ہم یہ چہرے رگوں کے ساحل پہ نقش جیسے سجا چکے ہیں جہاں ...

مزید پڑھیے

دوام کے دیار میں

دوام کے دیار میں دوام کے قدیم ریگ زار میں عدم جہاں سراب ہے ترے مرے کئی نشاں تڑپ تڑپ کے مر گئے! اک اجنبی سی خاک پر کئی زماں بکھر گئے اس اجنبی سی خاک پر سب اپنی اپنی سانس کو سمیٹ کر نکل پڑے علیل سی نجات میں پھر اپنی روح پھونکنے! نجات اک فریب ہے یہ دشت انتظار میں دوام کے قدیم ریگ زار ...

مزید پڑھیے

ایک روتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر

اجنبی دوست، بہت دیر میں رویا ہے تو! اپنی آواز کے سناٹے میں بیٹھے بیٹھے۔ اور آنکھوں سے ابھر آئی ہے سیال فغاں اپنی مجبوریاں، لاچاریاں بکھراتی ہوئی ریگ ہستی کے نظامات سے جھنجھلاتی ہوئی۔ اے اداسی کی فضاؤں کے پرندے، یہ بتا! اپنے انفاس کے تاریک بیابانوں میں اور تو کیا ہے زمانوں کی ...

مزید پڑھیے

خلا نوردی

یہ کس نے مرے جسم کی تاریخ الٹ دی؟ سانسوں کی زمیں پر، اک کھوئی ہوئی ساعت مسمار کے کتبے! رفتار کے گفتار کے اظہار کے کتبے! بے خواب ستاروں پہ جیے جا رہا ہوں میں۔ ناپید سمندر کو پیے جا رہا ہوں میں۔ صدیوں کے کئی رنگ جو تحلیل ہیں مجھ میں جدت کی دراڑوں سے ٹپکتے ہیں ابھی تک ناپید سمندر سے ...

مزید پڑھیے

ایک نیوکلیئر نظم

جہاں کو پھر بتائیں گے سمندر بھاپ بن کر کس طرح اڑتے ہیں آنکھوں سے بدن شق ہوتے ہوتے کس طرح پاتال بنتے ہیں نفس کے شہر کیسے ریزہ ریزہ خاک ہوتے ہیں مساموں سے ابل کر آسماں کیسے سلگتے ہیں عدم مشروم بن کر کیسے خلیوں سے ابھرتا ہے کہ اکھڑی ارتقا کی بوند میں سرشار یہ پتلے ہمارے دو جہانوں کا ...

مزید پڑھیے

ویران خواہش

مرے اندر گھنا جنگل گھنے انجان جنگل میں لچک شاخوں کی وحشت میں شجر کے پتے پتے پر منقش ان گنت صدیاں زمانوں کے بدن عریاں ازل کی زد، ابد کی حد کھنڈر، مینار اور گنبد رواں لا سمت تہذیبیں نئے امکان کی سانسیں، کبھی اپنی گرفتوں میں گرفتوں سے کبھی باہر لہو، آفاق، اک دریا بدن لمحات کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1504 سے 6203