قومی زبان

تمہارے عالم سے میرا عالم ذرا الگ ہے

تمہارے عالم سے میرا عالم ذرا الگ ہے ہو تم بھی غمگیں مگر مرا غم ذرا الگ ہے یہاں پہ ہنسنا روا ہے رونا ہے بے حیائی سقوط شہر جنوں کا ماتم ذرا الگ ہے کھلیں گے شاخوں کے راز اہل چمن پر اب کے گرہ گرہ سے الجھتی شبنم ذرا الگ ہے ترے تصور کی دھوپ اوڑھے کھڑا ہوں چھت پر مرے لیے سردیوں کا موسم ...

مزید پڑھیے

موت اک درندہ ہے زندگی بلا سی ہے

موت اک درندہ ہے زندگی بلا سی ہے صبح بھی اداسی ہے شام بھی اداسی ہے اپنی انتہا پر ہم شاید ابتدا میں ہیں تب بھی بے بسی تھی اب بھی بے لباسی ہے بادلوں کو آنا ہے لوٹ کر اسی جانب یہ زمیں ہی پیاسی تھی یہ زمیں ہی پیاسی ہے یہ بھی ایک نعمت ہے کاش تم سمجھ پاؤ زندگی کے اندر جو اپنے اک خلا سی ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ ہم سوچ کے سانچے میں ہی ڈھل کر دیکھیں

کیوں نہ ہم سوچ کے سانچے میں ہی ڈھل کر دیکھیں وہ جو قائم ہے تو پھر خود کو بدل کر دیکھیں گو مسافت ہے کٹھن اور نہ رستہ کوئی لیکن اس حال میں اچھا ہے کہ چل کر دیکھیں ہم محبت کو مکمل نہیں ظاہر کرتے وہ حنا برگ کو چٹکی میں مسل کر دیکھیں زندگی موت میں مخفی ہے یقیناً اپنی مثل پروانہ چلو ہم ...

مزید پڑھیے

دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھے

دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھے ابر بھی آگ لگانے کے لیے آئے تھے ایسے لگتا ہے کہ ہم ہی سے کوئی بھول ہوئی تم کسی اور زمانے کے لیے آئے تھے اپنی پتھرائی ہوئی آنکھوں کو جھپکیں کیسے جو ترا عکس چرانے کے لیے آئے تھے موج در موج ہوا آب رواں قوس قزح تارے آنکھوں میں نہانے کے لیے آئے ...

مزید پڑھیے

اداس موسم کے رتجگوں میں

اداس موسم کے رتجگوں میں ہر ایک لمحہ بکھر گیا تھا ہر ایک رستہ بدل گیا تھا پھر ایسے موسم میں کون آئے کوئی تو جائے ترے نگر کی مسافتوں کو سمیٹ لائے تری گلی میں ہماری سوچیں بکھیر آئے تجھے بتائے کہ کون کیسے اچھالتا ہے وفا کے موتی تمہاری جانب کوئی تو جائے مری زباں میں تجھے بلائے تجھے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہا

آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہا غافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہا کیا ہے جو اس نے دور بسا لی ہیں بستیاں آخر مرا دماغ بھی اول نہیں رہا لاؤ تو سرّ دہر کے مفہوم کی خبر عقدہ اگرچہ کوئی بھی مہمل نہیں رہا شاید نہ پا سکوں میں سراغ دیار شوق قبلہ درست کرنے کا کس بل نہیں رہا دشت ...

مزید پڑھیے

مرنے کا خوف

سر زمین تمنا کی مٹی سلاخیں اگانے لگی ہے گرفتار ہونے کا موسم سر قریۂ آبرو آفتاب ہلاکت کی صورت چمکنے لگا ہے شعاعوں کے نوکیلے پنجوں نے جسموں کو زخمی کیا ہے بھنور در بھنور روشنی کے سمندر طوفان قیدی ہوئے یہ بستی گناہوں سے معمور آفت رسیدوں کی بستی ہے نوزائدہ آرزو انتہاؤں کے امکاں ...

مزید پڑھیے

وقت تو وقت ہے رکتا نہیں اک پل کے لئے

وقت تو وقت ہے رکتا نہیں اک پل کے لئے ہو وہی بات جو قائم بھی رہے کل کے لئے منصف وقت حقیقت ہے حقیقت ہے خدا خوف لازم ہے بہر طور ہر اک حل کے لئے اے مری خواہش تحصیل سجھا دے مجھ کو کوئی رستہ در امکان مقفل کے لئے میں سمندر ہوں خموشی پہ نہ جانا میری مجتمع کرتا ہوں طاقت کو بڑی چھل کے ...

مزید پڑھیے

درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی

درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ہم نے جو کچھ بھی کیا اپنی محبت میں کیا گو سمجھتے ہیں زمانے کی ضرورت کیا تھی ہو جو چاہت تو ٹپک پڑتی ہے خود آنکھوں سے اے مرے دوست بتانے کی ضرورت کیا تھی اتنے حساس ہیں سانسوں سے پگھل جاتے ہیں بجلیاں ہم پہ ...

مزید پڑھیے

وہ بھی بگڑا، ہوئی رسوائی بھی

وہ بھی بگڑا، ہوئی رسوائی بھی جان لیوا ہے شناسائی بھی دل کی جانب جو چلی غم کی ہوا لڑکھڑانے لگی تنہائی بھی تھا مقابل جو مرے دوست مرا مجھ کو اچھی لگی پسپائی بھی کیوں اٹھاتے ہو ہمیں ہوتے ہیں ہر تماشے میں تماشائی بھی چاندنی ہاتھ پہ رکھ کر شب نے ایک صورت مجھے دکھلائی بھی سعدؔ کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1486 سے 6203