قومی زبان

اپنے ہاتھوں سے سجا اور مجھے صندل کر دے

اپنے ہاتھوں سے سجا اور مجھے صندل کر دے دل کی بستی میں عجب پیار کی ہلچل کر دے تیری یادوں کا یہ شعلہ بھی عجب ہے جاناں دل کے شاداب گلستاں کو بھی جنگل کر دے جذبۂ عشق اگر دل میں ہے اس طرح سے مل کہ اڑا ہوش مرے اور مجھے پاگل کر دے آ جا اور آ کے کھلا اپنی محبت کے گلاب میں ادھوری ہوں ابھی ...

مزید پڑھیے

یہی فقط میری زندگی ہے

یہی فقط میری زندگی ہے تری اطاعت ہی بندگی ہے وہ آج سیر چمن کو آئے گلوں کے چہروں پہ تازگی ہے یہ ان کی ذرہ نوازیاں ہیں جو دل کی بستی میں تیرگی ہے جو میں نے پوچھا وفا کا مطلب وہ ہنس کے بولے دوانگی ہے یہ ان کا دست کرم ہے مجھ پر جو بات اب تک بنی ہوئی ہے یہ زخم دل کی دوا ہے یاروں صباؔ ...

مزید پڑھیے

مستقل اب بجھا بجھا سا ہے

مستقل اب بجھا بجھا سا ہے آخر اس دل کو یہ ہوا کیا ہے تم کو چاہا بڑا قصور کیا تم ہی بتلا دو کہ اب سزا کیا ہے مانگ لوں ان کا دل اگر وہ کہیں قتل کا تیرے خوں بہا کیا ہے کیوں نفس میں کباب کی بو ہے میرے سینے میں یہ جلا کیا ہے مہر ہے ثبت قلب واعظ پر داغ ماتھے پہ بد نما کیا ہے حضرت دل ہیں ...

مزید پڑھیے

کیسے کروں میں ضبط راز تو ہی مجھے بتا کہ یوں

کیسے کروں میں ضبط راز تو ہی مجھے بتا کہ یوں اے دل زار شرح راز مجھ سے بھی تو چھپا کہ یوں کیسے چھپاؤں سوز دل تو ہی مجھے بتا کہ یوں شمع بجھا دی یار نے جیسے تھا مدعا کہ یوں ایک شکست ظاہری فتح بنے تو کس طرح آئینہ دار بن گیا قصۂ کربلا کہ یوں سوچ رہا تھا غم نصیب بگڑی بنے تو کس طرح رحمت و ...

مزید پڑھیے

بنتے ہی شہر کا یہ دیکھیے ویراں ہونا

بنتے ہی شہر کا یہ دیکھیے ویراں ہونا آنکھ کھلتے ہی مرا دہر میں گریاں ہونا دل کی میرے جو کوئی شومئ قسمت دیکھے باور آ جائے گلستاں کا بیاباں ہونا چشم و ابرو کے لیے اشک ہیں ساز و نغمہ میرا گریہ مری آنکھوں کا غزل خواں ہونا زخم ہیں لالہ و گل پرتو صحن گلشن دیکھیے دل کا مرے رشک گلستاں ...

مزید پڑھیے

کیف سرور و سوز کے قابل نہیں رہا

کیف سرور و سوز کے قابل نہیں رہا یہ اور دل ہے اب وہ مرا دل نہیں رہا سینے میں موجزن نہیں طوفان آرزو ٹکرائے کس سے موج کہ ساحل نہیں رہا جو کچھ متاع دل تھی وہ سب ختم ہو گئی اب کاروبار شوق کے قابل نہیں رہا بزم طرب بساط مسرت فریب ہیں میں عیش مستعار کا قائل نہیں رہا کم مائیگی نے دل تجھے ...

مزید پڑھیے

جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے

جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے کہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کے سبب یہ ہوتے ہیں ہر صبح باغ جانے کے سبق پڑھاتے ہیں کلیوں کو مسکرانے کے ہزاروں عشق جنوں خیز کے بنے قصے ورق ہوے جو پریشاں مرے فسانے کے ہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا اسی زمانے میں قصے اسی زمانے کے قرار جلوہ ...

مزید پڑھیے

بسا اوقات آ جاتے ہیں دامن سے گریباں میں

بسا اوقات آ جاتے ہیں دامن سے گریباں میں بہت دیکھے ہیں ایسے جوش اشک چشم گریاں میں نہیں ہے تاب ضبط غم کسی عاشق کے امکاں میں دل خوں گشتہ یا دامن میں ہوگا یا گریباں میں مبارک بادیہ گردو بہار آئی بیاباں میں نمود رنگ گل ہے ہر سر خار مغیلاں میں زیادہ خوف رسوائی نہیں ہے سوز پنہاں ...

مزید پڑھیے

محبت میں جینا نئی بات ہے

محبت میں جینا نئی بات ہے نہ مرنا بھی مر کر کرامات ہے میں رسوائے الفت وہ معروف حسن بہم شہرتوں میں مساوات ہے نہ شاہد نہ مے ہے نہ بزم طرب یہ خمیازۂ ترک عادات ہے شب و روز فرقت ہمارا ہر ایک اجل کا ہے دن موت کی رات ہے اڑی ہے مے مفت سائلؔ مدام کہ ساقی سے گہری ملاقات ہے

مزید پڑھیے

امانت محتسب کے گھر شراب ارغواں رکھ دی

امانت محتسب کے گھر شراب ارغواں رکھ دی تو یہ سمجھو کہ بنیاد خربات مغاں رکھ دی کہوں کیا پیش زاہد کیوں شراب ارغواں رکھ دی مری توفیق جو کچھ تھی برائے میہماں رکھ دی یہاں تک تو نبھایا میں نے ترک مے پرستی کو کہ پینے کو اٹھا لی اور لیں انگڑائیاں رکھ دی جناب شیخ مے خانے میں بیٹھے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1477 سے 6203