آنکھوں کو میسر کوئی منظر ہی نہیں تھا
آنکھوں کو میسر کوئی منظر ہی نہیں تھا سر میرا گریبان سے باہر ہی نہیں تھا بے فیض ہوائیں تھیں نہ سفاک تھا موسم سچ یہ ہے کہ اس گھر میں کوئی در ہی نہیں تھا سر چین سے رکھا نہ رکے پاؤں کے دل میں اک بات بھی پیوست تھی خنجر ہی نہیں تھا ہم ہار تو جاتے ہی کہ دشمن کے ہمارے سو پیر تھے سو ہاتھ ...