قومی زبان

ورق ورق سے نیا اک جواب مانگوں میں

ورق ورق سے نیا اک جواب مانگوں میں خود اپنی ذات پہ لکھی کتاب مانگوں میں یہ خود نوشت تو مجھ کو ادھوری لگتی ہے جو ہو سکے تو نیا انتساب مانگوں میں ہم اپنے شوق سے آئے نہ اپنی طرز جیے اس امتحاں میں نیا اک نصاب مانگوں میں وہ حق کی پیاس تھی دریا تو بس بہانہ تھا لب فرات پہ کس سے جواب ...

مزید پڑھیے

چاہے ہمارا ذکر کسی بھی زباں میں ہو

چاہے ہمارا ذکر کسی بھی زباں میں ہو کچھ حسرتوں کی بات بھی رسم بیاں میں ہو آئے تو اس وقار سے اب کے عذاب ہجر شرمندہ یہ بہار بھی اب کے خزاں میں ہو رکھا ہے زندگی کو بھی ہر حال میں عزیز جب کہ عذاب زیست بھی اپنے گماں میں ہو نکلوں تری تلاش میں جب آسمان پر صدمہ مرے خیال کو دونوں جہاں میں ...

مزید پڑھیے

ابتدا مجھ میں انتہا مجھ میں

ابتدا مجھ میں انتہا مجھ میں اک مکمل ہے واقعہ مجھ میں بھول بیٹھا میں پیکر خاکی جب سے رہتا ہے اک خدا مجھ میں میں نے مٹی سے خود کو باندھ لیا جب بھری وقت نے ہوا مجھ میں میرے چاروں طرف ہے سناٹا ایسی گونجی ہے اک صدا مجھ میں میں نے اشکوں پہ بند کیا باندھا ایک سیلاب آ گیا مجھ میں میری ...

مزید پڑھیے

کیوں یہ حسرت تھی دل لگانے کی

کیوں یہ حسرت تھی دل لگانے کی تھی نہ ہمت اگر نبھانے کی مانگ کر ہم سے لے لیا ہوتا کیا ضرورت تھی دل چرانے کی کون آئے گا بھول کر رستہ دل کو کیوں ضد ہے گھر سجانے کی رنگ تم بھی بدلتے ہو پل پل خوب تصویر ہو زمانے کی کیا مزا ان سے روٹھنے کا سدا جن کو فرصت نہیں منانے کی

مزید پڑھیے

دل کے کہنے پر چل نکلا

دل کے کہنے پر چل نکلا میں بھی کتنا پاگل نکلا آنسو نکلے کاجل نکلا رونے سے کب کچھ حل نکلا پونچھ سکا بس اپنے آنسو کتنا چھوٹا آنچل نکلا چور ہوا پر جھوٹ نہ بولا درپن مجھ سا اڑیل نکلا دشمن کے گھر بوندیں برسیں میری چھت سے بادل نکلا قتل ہوئی ہر صورت آخر دل میرا اک مقتل نکلا باہر سے ...

مزید پڑھیے

نہ ذکر گل کا کہیں ہے نہ ماہتاب کا ہے

نہ ذکر گل کا کہیں ہے نہ ماہتاب کا ہے تمام شہر میں چرچا ترے شباب کا ہے شراب اپنی جگہ چاندنی ہے اپنی جگہ مگر جواب ہی کیا حس بے نقاب کا ہے ہوئے ہیں ناگہاں بسمل شریک بزم جو سب قصور کچھ ہے ترا کچھ ترے نقاب کا ہے نہ تو نے مے چکھی زاہد نہ جرم عشق کیا تو صبح و شام تجھے فکر کس عذاب کا ...

مزید پڑھیے

طبیعت رفتہ رفتہ خوگر غم ہوتی جاتی ہے

طبیعت رفتہ رفتہ خوگر غم ہوتی جاتی ہے وہی رنج و الم ہے پر خلش کم ہوتی جاتی ہے خوشی کا وقت ہے اور آنکھ پر نم ہوتی جاتی ہے کھلی ہے دھوپ اور بارش بھی چھم چھم ہوتی جاتی ہے اجالا علم کا پھیلا تو ہے چاروں طرف یارو بصیرت آدمی کی کچھ مگر کم ہوتی جاتی ہے کریں سجدہ کسی بت کو گوارہ تھا کسے ...

مزید پڑھیے

زلف لہرا کے فضا پہلے معطر کر دے

زلف لہرا کے فضا پہلے معطر کر دے جام پھر آنکھوں کے مے خانے سے بھر بھر کر دے بجھ گئی شمع کی لو تیرے دوپٹے سے تو کیا اپنی مسکان سے محفل کو منور کر دے ہوش تو اڑ گئے آنکھوں سے ہی پی کر ساقی اب ذرا وہ بھی پلا دے جو گلا تر کر دے غیر کو منہ نہ لگا ہوش میں ہوں جب تک میں اتنا احسان مرے ساقیا ...

مزید پڑھیے

دل نہ مانا منا کے دیکھ لیا

دل نہ مانا منا کے دیکھ لیا لاکھ سمجھا بجھا کے دیکھ لیا لوگ کہتے ہیں دل لگانا جسے روگ وہ بھی لگا کے دیکھ لیا بے وفائی ہے تیری رگ رگ میں آزما آزما کے دیکھ لیا زخم دل کا ہے لا دوا یارو چارہ گر کو دکھا کے دیکھ لیا ان سے نبھتا نہیں کوئی رشتہ دوست دشمن بنا کے دیکھ لیا

مزید پڑھیے

نیند آئی ہی نہیں ہم کو نہ پوچھو کب سے

نیند آئی ہی نہیں ہم کو نہ پوچھو کب سے آنکھ لگتی ہی نہیں دل ہے لگایا جب سے ان کو محبوب کہیں یا کہ رقیب اب اپنا ان کو بھی پیار ہوا جائے ہے اپنی چھب سے اشک آنکھوں سے مری نکلے مسلسل لیکن اس نے اک حرف تسلی نہ نکالا لب سے دل سکھاتا ہے سب آداب محبت کے خود یہ سبق سیکھا نہیں جاتا کسی مکتب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1442 سے 6203