قومی زبان

کیا کسی لمحۂ رفتہ نے ستایا ہے تجھے

کیا کسی لمحۂ رفتہ نے ستایا ہے تجھے ان دنوں میں نے پریشان سا پایا ہے تجھے بحر شادابیٔ جذبات کی اے موج رواں کون اس دشت بلا خیز میں لایا ہے تجھے تیری تنویر سلامت مگر اے مہر مبیں گھر کی دیوار پہ یوں کس نے سجایا ہے تجھے شکوۂ تلخئ حالات بجا ہے لیکن اس پہ روتا ہوں کہ میں نے بھی رلایا ...

مزید پڑھیے

پیمانۂ حال ہو گئے ہم

پیمانۂ حال ہو گئے ہم گردش میں مثال ہو گئے ہم تکمیل کمال ہوتے ہوتے تمہید زوال ہو گئے ہم امکان وجود کے سفر پر نکلے تو محال ہو گئے ہم آئینۂ کرب لفظ و معنی فرہنگ ملال ہو گئے ہم پہلے تو رہے حقیقت افروز پھر خواب و خیال ہو گئے ہم

مزید پڑھیے

اب یہی رنج بے دلی مجھ کو مٹائے یا بنائے

اب یہی رنج بے دلی مجھ کو مٹائے یا بنائے لاکھ وہ مہرباں سہی اس کی طرف بھی کون جائے روٹھے ہوئے وجود بھی درد انا سے کم نہیں کیوں میں کسی کے ناز اٹھاؤں مجھ کو بھی کوئی کیوں منائے سایۂ قرب میں ملیں آ وہی دونوں وقت پھر ہونٹ پہ صبح جگمگائے آنکھ میں شام مسکرائے دن کو دیار دید میں وسعت ...

مزید پڑھیے

مرحلے زیست کے دشوار ابھی ہو جائیں

مرحلے زیست کے دشوار ابھی ہو جائیں تاکہ ہم جینے کو تیار ابھی ہو جائیں یہ جو کچھ لوگ مرے چار طرف ہیں ہر وقت یار ہو جائیں کہ اغیار ابھی ہو جائیں جس کی تعبیر ہے اک خواب میں چلتے رہنا کیوں نہ اس خواب سے بیدار ابھی ہو جائیں جانے پھر کوئی ضرورت بھی رہے یا نہ رہے جن کو ہونا ہے وہ غم خوار ...

مزید پڑھیے

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے ہمیں تمام گلے اپنی آگہی سے رہے وہ پاس آئے تو موضوع گفتگو نہ ملے وہ لوٹ جائے تو ہر گفتگو اسی سے رہے ہم اپنی راہ چلے لوگ اپنی راہ چلے یہی سبب ہے کہ ہم سرگراں سبھی سے رہے وہ گردشیں ہیں کہ چھٹ جائیں خود ہی بات سے ہات یہ زندگی ہو تو کیا ربط جاں کسی ...

مزید پڑھیے

ہمیں جو یاد مدینے کا لالہ زار آیا

ہمیں جو یاد مدینے کا لالہ زار آیا تصورات کی دنیا پہ اک نکھار آیا کبھی جو گنبد خضرا کی یاد آئی ہے بڑا سکون ملا ہے بڑا قرار آیا یقین کر کہ محمد کے آستانے پر جو بد نصیب گیا ہے وہ کامگار آیا ہزار شمس و قمر راہ شوق سے گزرے خیال‌ حسن محمدؐ جو بار بار آیا عرب کے چاند نے صحرا بسا دئے ...

مزید پڑھیے

وہ اور میں

حیات ایک حیرت سے پھیلی ہوئی آنکھ ہے جس کی پلکوں کو باہم ملے مدتیں ہو چکی ہیں قرنوں سے یوں ہی مسلسل خلاؤں میں تکتی چلی جا رہی ہے مناظر نگلتی چلی جا رہی ہے کہیں دور حیرت سے پھیلی ہوئی آنکھ کے پار چہرہ ہے بے خال بے چشم بے انت چہرہ چہرے کے معصوم مرمر سے رخسار پر جگمگاتا ہوا اشک میں ...

مزید پڑھیے

اپنی کھوئی ہوئی توقیر نمایاں کر دیں

اپنی کھوئی ہوئی توقیر نمایاں کر دیں کیوں نہ تاریکئ محفل کو فروزاں کر دیں نور‌ سلطانہ و رضیہ کی حمیت کی قسم گنبد‌ چرخ کو اک بار تو لرزاں کر دیں فاطمہ زہرہ کے دل دوز تحمل کی قسم عظمت رفتہ سے دنیا میں چراغاں کر دیں جبر اور ظلم کی بنیاد کو ڈھ کر بہنو آؤ اب ہمت مردانہ کو حیراں کر ...

مزید پڑھیے

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں وہ فاصلے بھی گئے اب وہ قربتیں بھی گئیں دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز محبتیں تو گئیں تھی عداوتیں بھی گئیں لبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں غرور کج کلہی جن کے دم سے قائم تھا وہ جرأتیں بھی گئیں وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1413 سے 6203