کیا کسی لمحۂ رفتہ نے ستایا ہے تجھے
کیا کسی لمحۂ رفتہ نے ستایا ہے تجھے ان دنوں میں نے پریشان سا پایا ہے تجھے بحر شادابیٔ جذبات کی اے موج رواں کون اس دشت بلا خیز میں لایا ہے تجھے تیری تنویر سلامت مگر اے مہر مبیں گھر کی دیوار پہ یوں کس نے سجایا ہے تجھے شکوۂ تلخئ حالات بجا ہے لیکن اس پہ روتا ہوں کہ میں نے بھی رلایا ...