اک آس کا دھندلا سایہ ہے اک پاس کا تپتا صحرا ہے
اک آس کا دھندلا سایہ ہے اک پاس کا تپتا صحرا ہے کیا دیکھ رہے ہو آنکھوں میں ان آنکھوں میں کیا رکھا ہے جب کھونے کو کچھ پاس بھی تھا تب پانے کا کچھ دھیان نہ تھا اب سوچتے ہو کیوں سوچتے ہو کیا کھویا ہے کیا پایا ہے میں جھوٹ کو سچ سے کیوں بدلوں اور رات کو دن میں کیوں گھولوں کیا سننے والا ...