قومی زبان

اک آس کا دھندلا سایہ ہے اک پاس کا تپتا صحرا ہے

اک آس کا دھندلا سایہ ہے اک پاس کا تپتا صحرا ہے کیا دیکھ رہے ہو آنکھوں میں ان آنکھوں میں کیا رکھا ہے جب کھونے کو کچھ پاس بھی تھا تب پانے کا کچھ دھیان نہ تھا اب سوچتے ہو کیوں سوچتے ہو کیا کھویا ہے کیا پایا ہے میں جھوٹ کو سچ سے کیوں بدلوں اور رات کو دن میں کیوں گھولوں کیا سننے والا ...

مزید پڑھیے

ہم نے آداب غم کا پاس کیا

ہم نے آداب غم کا پاس کیا نقد جاں کو زیاں قیاس کیا زیست کے تجربات کا ہم نے مثل آئینہ انعکاس کیا خبر آگہی کے پردے میں عمر بھر ماتم حواس کیا تہمت شعلۂ زباں لے کر صورت زخم التماس کیا کیسے اک لفظ میں بیاں کر دوں دل کو کس بات نے اداس کیا آ گیا جب سلیقۂ تعمیر قصر ہستی کو بے اساس ...

مزید پڑھیے

محسوس کیوں نہ ہو مجھے بیگانگی بہت

محسوس کیوں نہ ہو مجھے بیگانگی بہت میں بھی تو اس دیار میں ہوں اجنبی بہت آساں نہیں ہے کشمکش ذات کا سفر ہے آگہی کے بعد غم آگہی بہت ہر شخص پرخلوص ہے ہر شخص با وفا آتی ہے اپنی سادہ دلی پر ہنسی بہت اس جان جاں سے قطع تعلق کے باوجود اس رہ گزر میں آج بھی ہے دل کشی بہت اس وضع احتیاط کی ...

مزید پڑھیے

عجب طرح سے میں صرف ملال ہونے لگا

عجب طرح سے میں صرف ملال ہونے لگا جو شہر کا ہے وہی دل کا حال ہونے لگا سب اس کی بزم میں تھے مجرموں کی طرح خموش ہم آ گئے تو ہمیں سے سوال ہونے لگا اب آسماں سے مجھے شکوۂ جفا بھی نہیں ہر انقلاب مرے حسب حال ہونے لگا ہمارے کیف و مسرت میں اہتمام کہاں ہوائے تازہ چلی جی بحال ہونے لگا جو ...

مزید پڑھیے

ملی بھی کیا در دولت سے کار عشق کی داد

ملی بھی کیا در دولت سے کار عشق کی داد یہی کہ تیشۂ فرہاد بر سر فرہاد رخ نمو کو شکایت فقط خزاں سے نہیں بہار میں بھی ہوئی کشت جسم و جاں برباد دوام مانگ رہا ہوں گزرتے لمحوں سے ہے زندگی سے محبت ہی زندگی کا تضاد زمانے بھر کے غموں سے الگ تھلگ رہ کر سکوں بہت ہے مگر ہے دل سکوں برباد شعور ...

مزید پڑھیے

ہم اہل ظرف کہ غم خانۂ ہنر میں رہے

ہم اہل ظرف کہ غم خانۂ ہنر میں رہے سفال نم کی طرح دست کوزہ گر میں رہے فرار مل نہ سکا حبس جسم و جاں سے کہ ہم طلسم خانۂ تکرار خیر و شر میں رہے کسی کو قرب مسلسل کا حوصلہ نہ ہوا مثال دود پریشاں ہم اپنے گھر میں رہے نہ سنگ میل تھا کوئی نہ کوئی نقش قدم تمام عمر ہوا کی طرح سفر میں رہے نہ ...

مزید پڑھیے

سزا بغیر عدالت سے میں نہیں آیا

سزا بغیر عدالت سے میں نہیں آیا کہ باز جرم صداقت سے میں نہیں آیا فصیل شہر میں پیدا کیا ہے در میں نے کسی بھی باب رعایت سے میں نہیں آیا اڑا کے لائی ہے شاید خیال کی خوشبو تمہاری سمت ضرورت سے میں نہیں آیا ترے قریب بھی یاد آ رہے ہیں کار جہاں بہت قلق ہے کہ فرصت سے میں نہیں آیا گزر گئے ...

مزید پڑھیے

ہوس و وفا کی سیاستوں میں بھی کامیاب نہیں رہا

ہوس و وفا کی سیاستوں میں بھی کامیاب نہیں رہا کوئی چہرہ ایسا بھی چاہیئے جو پس نقاب نہیں رہا تری آرزو سے بھی کیوں نہیں غم زندگی میں کوئی کمی یہ سوال وہ ہے کہ جس کا اب کوئی اک جواب نہیں رہا تھیں سماعتیں سر ہاؤ ہو چھڑی قصہ خانوں کی گفتگو وہی جس نے بزم سجائی تھی وہی باریاب نہیں ...

مزید پڑھیے

صدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں

صدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں حقیقت بھول جاتے ہیں فسانہ یاد رکھتے ہیں ہجوم اپنی جگہ تاریک جنگل کے درختوں کا پرندے پھر بھی شاخ آشیانہ یاد رکھتے ہیں ہمیں اندازہ رہتا ہے ہمیشہ دوست دشمن کا نشانی یاد رکھتے ہیں نشانہ یاد رکھتے ہیں ہم انسانوں سے تو یہ سنگ و خشت بام و در ...

مزید پڑھیے

کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی

کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی یہ بات جب کی ہے جب چارہ گر نہ تھا کوئی کسی سے رنگ افق ہی کی بات کر لیتے اب اس قدر بھی یہاں معتبر نہ تھا کوئی بنائے جاؤں کسی اور کے بھی نقش قدم یہ کیوں کہوں کہ مرا ہم سفر نہ تھا کوئی گزر گئے ترے کوچے سے اجنبی کی طرح کہ ہم سے سلسلۂ بام و در نہ تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1412 سے 6203