قومی زبان

ریزۂ وجود

مرے وجود کا مکان خار دار تار کا حصار جس کے ارد گرد آدمی کا خون پینے والی زرد جھاڑیوں کے خار دار ہات ہیں مری زمیں کے ارد گرد کہکشاں کے خار دار دائروں کا رقص ہے زمیں سے آسمان تک وجود اپنے ان گنت حواس کا گناہ ہے شعور و لمس و لذت و مقام کے سراب ہیں میں پوچھتا ہوں سنگ میں گداز پنبہ ...

مزید پڑھیے

اک خواب کے موہوم نشاں ڈھونڈ رہا تھا

اک خواب کے موہوم نشاں ڈھونڈ رہا تھا میں حد یقیں پر بھی گماں ڈھونڈ رہا تھا سائے کی طرح بھاگتے ماحول کے اندر میں اپنے خیالوں کا جہاں ڈھونڈ رہا تھا جو راز ہے وہ کھل کے بھی اک راز ہی رہ جائے اظہار کو میں ایسی زباں ڈھونڈ رہا تھا مرہم کی تمنا تھی مجھے زخم سے باہر درماں تھا کہاں اور ...

مزید پڑھیے

نہ کسی سے کرم کی امید رکھیں نہ کسی کے ستم کا خیال کریں

نہ کسی سے کرم کی امید رکھیں نہ کسی کے ستم کا خیال کریں ہمیں کون سے رنج ملے ہیں نئے کہ جو دل کے زیاں کا ملال کریں ابھی صرف خیال ہے خواب نما ابھی صرف نظر ہے سراب نما ذرا اور خراب ہو وضع جنوں تو وہ زحمت پرسش حال کریں وہی شہر ہے شہر کے لوگ وہی غم خندہ و سنگ و صلیب وہی یہاں آئے ہیں کون ...

مزید پڑھیے

من کے مندر میں ہے اداسی کیوں

من کے مندر میں ہے اداسی کیوں نہیں آئی وہ دیو داسی کیوں ابر برسا برس کے کھل بھی گیا رہ گئی پھر زمین پیاسی کیوں اک خوشی کا خیال آتے ہی چھا گئی ذہن پر اداسی کیوں زندگی بے وفا ازل سے ہے پھر بھی لگتی ہے باوفا سی کیوں ایسی فطرت شکار دنیا میں اتنی انسان نا شناسی کیوں کیوں نہیں ایک ...

مزید پڑھیے

پیمانۂ حال ہو گئے ہم

پیمانۂ حال ہو گئے ہم گردش میں مثال ہو گئے ہم تکمیل کمال ہوتے ہوئے تمہید زوال ہو گئے ہم ہر شخص بنا ہے ناز بردار جب خود پہ وبال ہو گئے ہم دریوزہ گروں کی انجمن میں کشکول سوال ہو گئے ہم آئینۂ کرب لفظ و معنی فرہنگ ملال ہو گئے ہم امکان وجود کے سفر پر نکلے تو محال ہو گئے ہم پہلے تو ...

مزید پڑھیے

اک شرار گرفتہ رنگ ہوں میں

اک شرار گرفتہ رنگ ہوں میں پھول سے لے کے تا بہ سنگ ہوں میں باد صرصر کی طرح گرم عناں سینۂ ریگ کی امنگ ہوں میں ذرہ ذرہ نے کر دیا حیراں اور حیرانیوں پہ دنگ ہوں میں فتح بھی اک شکست ہی ہوگی آرزوؤں سے محو جنگ ہوں میں کیسے تجھ کو بہا کے لے جاؤں موج ہمسایۂ نہنگ ہوں میں شہر و صحرا کی کچھ ...

مزید پڑھیے

ہاتھ آ سکا ہے سلسلۂ جسم و جاں کہاں

ہاتھ آ سکا ہے سلسلۂ جسم و جاں کہاں اپنی طلب میں گھوم چکا ہوں کہاں کہاں جس بزم میں گیا طلب سر خوشی لیے مجھ سے ترے خیال نے پوچھا یہاں کہاں میں آج بھی خلا میں ہوں کل بھی خلا میں تھا میرے لیے زمین کہاں آسماں کہاں تو ہے سو اپنے حسن کے باوصف غم نصیب میں ہوں تو میرے ہاتھ میں کون و مکاں ...

مزید پڑھیے

راستوں میں اک نگر آباد ہے

راستوں میں اک نگر آباد ہے اس تصور ہی سے گھر آباد ہے کیسی کیسی صورتیں گم ہو گئیں دل کسی صورت مگر آباد ہے کیسی کیسی محفلیں سونی ہوئیں پھر بھی دنیا کس قدر آباد ہے زندگی پاگل ہوا کے ساتھ ساتھ مثل خاک رہ گزر آباد ہے دشت و صحرا ہو چکے قدموں کی گرد شہر اب تک دوش پر آباد ہے بے خودی ...

مزید پڑھیے

تنگ آتے بھی نہیں کشمکش دہر سے لوگ

تنگ آتے بھی نہیں کشمکش دہر سے لوگ کیا تماشا ہے کہ مرتے بھی نہیں زہر سے لوگ شہر میں آئے تھے صحرا کی فضا سے تھک کر اب کہاں جائیں گے آسیب زدہ شہر سے لوگ نخل ہستی نظر آئے گا کبھی نخل صلیب زیست کی فال نکالیں گے کبھی زہر سے لوگ ہم کو جنت کی فضا سے بھی زیادہ ہے عزیز یہی بے رنگ سی دنیا ...

مزید پڑھیے

کہیں وہ چہرۂ زیبا نظر نہیں آیا

کہیں وہ چہرۂ زیبا نظر نہیں آیا گیا وہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا کہوں تو کس سے کہوں آ کے اب سر منزل سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا میں وہ مسافر دشت غم محبت ہوں جو گھر پہنچ کے بھی سوچے کہ گھر نہیں آیا صبا نے فاش کیا راز بوئے گیسوئے یار یہ جرم اہل تمنا کے سر نہیں آیا کبھی کوئی ترے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1411 سے 6203