ریزۂ وجود
مرے وجود کا مکان خار دار تار کا حصار جس کے ارد گرد آدمی کا خون پینے والی زرد جھاڑیوں کے خار دار ہات ہیں مری زمیں کے ارد گرد کہکشاں کے خار دار دائروں کا رقص ہے زمیں سے آسمان تک وجود اپنے ان گنت حواس کا گناہ ہے شعور و لمس و لذت و مقام کے سراب ہیں میں پوچھتا ہوں سنگ میں گداز پنبہ ...