لگتا ہے ربط ہی نہیں صبحوں کے ساتھ ساتھ
لگتا ہے ربط ہی نہیں صبحوں کے ساتھ ساتھ شاموں میں ڈھل گئی ہوں میں شاموں کے ساتھ ساتھ اب اس سے بڑھ کے سانحہ ہونا ہے اور کیا آنکھیں بھی جل بجھیں مری خوابوں کے ساتھ ساتھ جھولی میں بھر کے چاند کی کرنیں تری طرف چلتی رہی ہوں رات میں تاروں کے ساتھ ساتھ جاناں تمہاری یاد کے موسم ہرے ...