قومی زبان

بے حرف و نوا سخن تو دیکھو

بے حرف و نوا سخن تو دیکھو خوابوں کا ادھوراپن تو دیکھو لفظوں میں سمٹ سکا نہ پیکر انسان کا عجز فن تو دیکھو چہرے کے نقوش بولتے ہیں تصویر کا بانکپن تو دیکھو دامن کو بہار چھو گئی ہے جلتا ہوا پیرہن تو دیکھو جنگل کا سکوت کہہ رہا ہے شہروں میں بسی گھٹن تو دیکھو صدیوں سے لہو میں تر ہے ...

مزید پڑھیے

کتنے دیپ بجھتے ہیں کتنے دیپ جلتے ہیں

کتنے دیپ بجھتے ہیں کتنے دیپ جلتے ہیں عزم زندگی لے کر پھر بھی لوگ چلتے ہیں کارواں کے چلنے سے کارواں کے رکنے تک منزلیں نہیں یارو راستے بدلتے ہیں موج موج طوفاں ہے موج موج ساحل ہے کتنے ڈوب جاتے ہیں کتنے بچ نکلتے ہیں مہر‌‌ و ماہ و انجم بھی اب اسیر گیتی ہیں فکر نو کی عظمت سے روز و شب ...

مزید پڑھیے

شب سرور نئی داستاں وصال و فراق

شب سرور نئی داستاں وصال و فراق نہ فکر سود و زیاں درمیاں وصال و فراق میں اس سے بات کروں بھی تو کس حوالے سے کہ مستعار مکاں میں کہاں وصال و فراق اسی کے نام پہ جیتے ہیں اور مرتے ہیں یہی ہے قصۂ آشفتگاں وصال و فراق وہ کہہ گیا ہے کہ آؤں گا منتظر رہیو میں مبتلائے یقین و گماں وصال و ...

مزید پڑھیے

مہلت نہ دے ذرا بھی مجھے میری جان کھینچ

مہلت نہ دے ذرا بھی مجھے میری جان کھینچ میں آرزو تمام ہوں اپنی کمان کھینچ اک محشر جمال اٹھا توڑ دے جمود تیر نظر زمین سے تا آسمان کھینچ میں آ رہا ہوں برسر موج ہوائے گل تو لاکھ اپنے گرد حصار مکان کھینچ لمحات بے اماں بھی غنیمت ہیں پاس آ موضوع دیگراں بھی نہ اب درمیان کھینچ وہ لب ...

مزید پڑھیے

ہر ایک بندش خود ساختہ بیاں سے اٹھا

ہر ایک بندش خود ساختہ بیاں سے اٹھا تکلفات کا پردہ بھی درمیاں سے اٹھا فقط خلا ہی نہیں ہے صدا لگاتے چلو کہ ابر بارش نیساں بھی آسماں سے اٹھا شجر کے سائے میں بیٹھا ہوں میں تجھے کیا ہے جو ہو سکے تو مجھے اپنے آستاں سے اٹھا فسوں طراز تھی کب چشم نیم وا اتنی لہو کا فتنہ مگر زیب داستاں سے ...

مزید پڑھیے

بیم و رجا میں قید ہر اک ماہ و سال ہے

بیم و رجا میں قید ہر اک ماہ و سال ہے جیسے یہ زندگی بھی کوئی یرغمال ہے الجھا ہوں آتی جاتی صداؤں سے بارہا بچھڑا ہوں ہر نوا سے کہ خواب و خیال ہے ٹوٹا ہوں اس طرح کہ بکھرتا چلا گیا بکھرا ہوں اس طرح کہ سنورنا محال ہے اس جبر و اختیار سے پامال میں بھی ہوں اے روح احتجاج بتا کیا خیال ...

مزید پڑھیے

وو بات جو حضور کو مجھ سے خفا کرے

وو بات جو حضور کو مجھ سے خفا کرے دل میں تمام عمر نہ آئے خدا کرے اتنا تو ہے کہ تھام لیا آپ نے ہی دل اللہ میرے درد جگر کو سوا کرے آ جائیں کل وہ خود مرے خط کے جواب میں قاصد جو کہہ رہا ہے یہی ہو خدا کرے ہو جس کو بوسہ اس لب جاں بخش کا نصیب کیوں وو تلاش چشمۂ آب بقا کرے کس کام کی بھلا شب ...

مزید پڑھیے

اندر کی تنہائی

اپنے گھر سے اس کے گھر تک رستہ سارا جل تھل تھا اس کے گھر میں یوں لگتا تھا خوشیاں رقص کناں ہوں جیسے جیون کے سب رنگ وہاں تھے لیکن ہم جب لوٹ کے آئے ساتھ اپنے حیرانی لائے ہاتھ پکڑ کر بیٹھنے والا گال پہ تھپکی دینے والا لب مسکان سجانے والی ہر پل دل کو لبھانے والی یوں لگتا تھا ایک ہیں ...

مزید پڑھیے

تمہارا کیا ہے

تمہارا کیا ہے کہ تم ہزاروں دلوں کی دھڑکن تمہارا کیا ہے کہ اک اشارے پہ پھول کلیاں تمہارے قدموں میں آ گرے ہیں نہ جانے کتنی ہی سر زمینوں کے تم فلک ہو نہ جانے کتنے ہی تشنہ جسموں کا چین ہو تم ہمارا کیا ہے کہ نارسائی کی داستاں کا بنے ہیں عنواں ہمارا کیا ہے کہ عمر ساری بتائی ہم نے تو ...

مزید پڑھیے

ایک اک سے یہی کہتا ہوں بتا میں کیا ہوں

ایک اک سے یہی کہتا ہوں بتا میں کیا ہوں ایک مدت ہوئی میں بھول گیا میں کیا ہوں نقش بر آب سہی آپ بنا آپ مٹا اب تلک ہلتی ہے زنجیر صدا میں کیا ہوں اپنی پہنائی میں گم کردہ نشاں ہوں میں بھی تو اگر ہے اسی دنیا کا خدا میں کیا ہوں ایک تاریخ ولادت ہے مری ایک وفات ان حقائق کے سوا اور بتا میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1357 سے 6203