قومی زبان

خواب دیکھوں کوئی مہتاب لب بام اترے

خواب دیکھوں کوئی مہتاب لب بام اترے یوں بھی ہو جائے مراد دل ناکام اترے اگلے وقتوں کی بشارت سے ہو دنیا روشن آسمانوں سے زمیں پر ترا انعام اترے یاد آئے تو کھلیں پھول چلے پروائی درد جاگے تو ترا عکس تہہ جام اترے میں چراغوں سے ہمیشہ تری بیتی پوچھوں بن بتائے تو مرے گھر میں سر شام ...

مزید پڑھیے

جواز آب و تاب اب گلاب کے لیے نہیں

جواز آب و تاب اب گلاب کے لیے نہیں ہماری یاد زینت کتاب کے لیے نہیں نکل کے آسماں پہ آ سمندروں پہ نام لکھ تو چاند ہے تو چادر حجاب کے لیے نہیں مری امانتیں سنبھال اجال دے مرے نقوش یہ درد اب کسی سے انتساب کے لیے نہیں مروتوں کے زخم بھی عزیز رکھنا جان سے سلوک دوستاں ہے یہ حساب کے لیے ...

مزید پڑھیے

ایک میں ہوں ایک تو ہے با خبر کوئی نہیں

ایک میں ہوں ایک تو ہے با خبر کوئی نہیں ہاتھ میں دے ہاتھ اپنا سر بسر کوئی نہیں شام مشفق ہے قریب آ درد کا درماں کریں رات کے صحرا میں اپنا چارہ گر کوئی نہیں ریت کے سینہ پہ رہ رہ کر چمک اٹھتا ہے کچھ اب بہ جز اک نقش پا کے راہ بر کوئی نہیں موڑ کے بائیں طرف ہے سنگ اندازوں کا شہر دل سا ...

مزید پڑھیے

احباب بھی ہیں خوب کہ تشہیر کر گئے

احباب بھی ہیں خوب کہ تشہیر کر گئے میرا سکوت عشق سے تعبیر کر گئے جادو اثر تھے ہونٹ کہ ساغر کو چوم کر کچھ اور ہی شراب کی تاثیر کر گئے ہر عضو جیسے جسم کا تھا بولتا ہوا لہرائے اس کے ہاتھ کہ تقریر کر گئے از بام تا بہ مے کدہ گیسو دھواں دھواں عالم تمام حلقۂ زنجیر کر گئے تحریر خط جام سے ...

مزید پڑھیے

سخن کو طول نہ دے اپنی احتیاج بتا

سخن کو طول نہ دے اپنی احتیاج بتا اٹھا نہ دل کی کوئی بات کل پہ آج بتا کھڑا ہوں در پہ سراسیمگی کے عالم میں وہ مجھ سے پوچھ رہا ہے کہ کام کاج بتا مفاہمت مری کوشش سپردگی ترا کام تو اپنے شہر جنوں کا مجھے رواج بتا خود اپنے ہاتھ سے اپنی اڑا چکا ہوں خاک اب اور کیا ہو مکافات احتجاج ...

مزید پڑھیے

گاندھی

ایک فقیر ایک انساں پیکر اخلاص روح راستی اک فقیر بے نوا ایثار جس کی زندگی جس کے ہر قول و عمل میں امن کا پیغام تھا جس کا ہر اقدام گویا عافیت انجام تھا جس کی دنیا بندگی بھگتی سرور جاوداں جس کی دنیا کیف و سرمستی کی حاصل بے گماں آشتی تھی جس کی فطرت جس کا مذہب پیار تھا خدمت انسانیت کا جو ...

مزید پڑھیے

نئی صبح

یہ چمن زار یہ خوش رنگ بہاروں کا جہاں زندگی کتنی دل آویز و دل آرا ہے یہاں چمپئی دھوپ میں ہر ذرہ ہے سورج کی کرن چاندنی رات میں ہر پھول ہے روشن روشن نور ہی نور زمیں سے ہے فلک تک رقصاں زندگی کتنی دل آویز و دل آرا ہے یہاں وادیٔ گنگ و جمن جنت نظارہ ہے سر زمیں اپنی زر و سیم کا گہوارہ ...

مزید پڑھیے

صداۓ جاوداں

واہمے کی سسکیاں چاروں طرف اور ان میں اک صدا سب سے الگ جیسے صحرا میں گلاب تیرگی میں جیسے ابھرے ماہتاب موت کی پرچھائیوں میں جیسے روشن زندگانی کی لکیر منکروں کے درمیاں جیسے مسیح جیسے بپتا میں گھرے انسان کو اپنے مرشد کا ملے آشیرواد کورووں کے دل کا نرغہ اور اس میں جیسے کرشن بانسری کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1358 سے 6203