کچھ تو رنگینیٔ افکار کھلے
کچھ تو رنگینیٔ افکار کھلے سیفؔ چل مطلع انوار کھلے برگ گل جیسے ہوا کے رخ پر کس لطافت سے لب یار کھلے تو ذرا بند قبا کھول تو دے جوہر نافۂ تاتار کھلے دیکھ اے کوچۂ جاناں کی ہوا دل کے دروازے کئی بار کھلے زخم دل ہم نے چھپائے ورنہ تیری آنکھوں نے کئے وار کھلے واہ کیا ڈھنگ ہیں صیادوں ...