قومی زبان

کچھ تو رنگینیٔ افکار کھلے

کچھ تو رنگینیٔ افکار کھلے سیفؔ چل مطلع انوار کھلے برگ گل جیسے ہوا کے رخ پر کس لطافت سے لب یار کھلے تو ذرا بند قبا کھول تو دے جوہر نافۂ تاتار کھلے دیکھ اے کوچۂ جاناں کی ہوا دل کے دروازے کئی بار کھلے زخم دل ہم نے چھپائے ورنہ تیری آنکھوں نے کئے وار کھلے واہ کیا ڈھنگ ہیں صیادوں ...

مزید پڑھیے

جی درد سے ہے نڈھال اپنا

جی درد سے ہے نڈھال اپنا کس کس کو سنائیں حال اپنا بولے وہ کچھ ایسی بے رخی سے دل ہی میں رہا سوال اپنا شاید تری سادگی نے اب تک دیکھا ہی نہیں جمال اپنا جس دن سے بھلا دیا ہے تو نے آتا ہی نہیں خیال اپنا ہے سیفؔ محیط ہر دو عالم اک سلسلۂ خیال اپنا

مزید پڑھیے

دکھ بھرے دل جنہیں حاصل نہیں ہونے پاتے

دکھ بھرے دل جنہیں حاصل نہیں ہونے پاتے وہ تری بزم کے قابل نہیں ہونے پاتے دور ہوتے ہیں تو دل اور مہک اٹھتے ہیں فاصلے عشق میں حائل نہیں ہونے پاتے ہم کہ طوفان شب تار سے بچ نکلے ہیں پھر بھی آسودۂ ساحل نہیں ہونے پاتے جادۂ عشق میں دنیا نے پکارا ہے ہمیں پھر بھی ہم گمرۂ منزل نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

اجنبی دل کی عجب طرز بیاں تھی پہلے

اجنبی دل کی عجب طرز بیاں تھی پہلے لب تھی تصویر نگاہوں میں زباں تھی پہلے ہم نے تا صبح جلائے ہیں وفاؤں کے چراغ تیرے کوچہ میں بھی قدر دل و جاں تھی پہلے آج ہر گام پہ زنجیر ہے ہر بات پہ دار اتنی مقبول کہیں عمر رواں تھی پہلے دیر و کعبہ سے نکل آئے تو آرام ملا ہم کو بھی اک خلش سود و زیاں ...

مزید پڑھیے

بے خودی لے اڑی حواس کہیں

بے خودی لے اڑی حواس کہیں ہے کوئی دل کے آس پاس کہیں حسن جلوہ دکھا گیا اپنا عشق بیٹھا رہا اداس کہیں ہم بعید و قریب ڈھونڈ چکے وہ کہیں دور ہے نہ پاس کہیں صبر ہی آئے اب قرار تو کیا ٹوٹ ہی جائے دل کی آس کہیں سیفؔ خون جگر پڑا پینا ایسے بجھتی ہے دل کی پیاس کہیں

مزید پڑھیے

گرچہ سو بار غم ہجر سے جاں گزری ہے

گرچہ سو بار غم ہجر سے جاں گزری ہے پھر بھی جو دل پہ گزرتی تھی کہاں گزری ہے آپ ٹھہرے ہیں تو ٹھہرا ہے نظام عالم آپ گزرے ہیں تو اک موج رواں گزری ہے ہوش میں آئے تو بتلائے ترا دیوانہ دن گزارا ہے کہاں رات کہاں گزری ہے ایسے لمحے بھی گزارے ہیں تری فرقت میں جب تری یاد بھی اس دل پہ گراں ...

مزید پڑھیے

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے کوئی ایسا اہل دل ہو کہ فسانۂ محبت میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے مری آرزو کی دنیا دل ناتواں کی حسرت جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر کبھی سر جھکا کے روئے کبھی ...

مزید پڑھیے

وفا انجام ہوتی جا رہی ہے

وفا انجام ہوتی جا رہی ہے محبت خام ہوتی جا رہی ہے ذرا چہرے سے زلفوں کو ہٹا لو یہ کیسی شام ہوتی جا رہی ہے قیامت ہے محبت رفتہ رفتہ غم ایام ہوتی جا رہی ہے سنا ہے اب ترے لطف و کرم کی حکایت عام ہوتی جا رہی ہے دکھانے کو ذرا آنکھیں بدل لو وفا الزام ہوتی جا رہی ہے مرے جذب وفا سے خامشی ...

مزید پڑھیے

خواہش سے کہیں کوئی ماحول بدلتا ہے

خواہش سے کہیں کوئی ماحول بدلتا ہے دل شمع کا جلتا ہے تب موم پگھلتا ہے دیکھیں تو چراغوں کو اب کون بجھائے گا طاقوں میں لہو اپنا ہر رات کو جلتا ہے سوچا ہے کہ کچھ دن کو بیگانہ ہی بن جائیں ہم اپنا جسے سمجھیں بیگانہ نکلتا ہے اب سخت ضرورت ہے مے خانہ بدلنے کی ہر لب کے لیے ساقی پیمانہ ...

مزید پڑھیے

خوشبو ہے شرارت ہے رنگین جوانی ہے

خوشبو ہے شرارت ہے رنگین جوانی ہے یادوں کے پرستاں میں شیشے کی کہانی ہے ماضی کی حقیقت ہے اس دور میں افسانہ سیتا بھی کہانی ہے مریم بھی کہانی ہے دشمن سے خطر والو لمحوں پہ نظر رکھنا ہر لمحۂ ہستی بھی تلوار کا پانی ہے ہونٹوں کا مہک اٹھنا آنچل کا ڈھلک جانا ان پاک گناہوں کی تاریخ پرانی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1351 سے 6203