قومی زبان

ہمیں خبر ہے وہ مہمان ایک رات کا ہے

ہمیں خبر ہے وہ مہمان ایک رات کا ہے ہمارے پاس بھی سامان ایک رات کا ہے سفینے برسوں نہ رکھیں گے ساحلوں پہ قدم تمہیں گماں ہے کہ طوفان ایک رات کا ہے ہے ایک شب کی اقامت سرائے دنیا میں یہ سارا کھیل مری جان ایک رات کا ہے کھلے گی آنکھ تو سمجھوگے خواب دیکھا تھا یہ سارا کھیل مری جان ایک ...

مزید پڑھیے

وہ بھی ہمیں سرگراں ملے ہیں

وہ بھی ہمیں سرگراں ملے ہیں دنیا کے عجیب سلسلے ہیں گزرے تھے نہ چشم باغباں سے جو اب کی بہار گل کھلے ہیں رکتا نہیں سیل گریۂ غم اے ضبط یہ سب ترے صلے ہیں کل کیسے جدا ہوئے تھے ہم سے اور آج کس طرح ملے ہیں پاس آئے تو اور ہو گئے دور یہ کتنے عجیب فاصلے ہیں سنتا نہیں کوئی سیفؔ ورنہ کہنے ...

مزید پڑھیے

اب وہ سودا نہیں دیوانوں میں

اب وہ سودا نہیں دیوانوں میں خاک اڑتی ہے بیابانوں میں غم دوراں کو گلہ ہے مجھ سے تو ہی تو ہے مرے افسانوں میں دل ناداں تری حالت کیا ہے تو نہ اپنوں میں نہ بیگانوں میں بجھ گئی شمع سحر سے پہلے آگ جلتی رہی پروانوں میں دل نے چھوڑا نہ امیدوں کا خیال پھول کھلتے رہے ویرانوں میں سیفؔ ...

مزید پڑھیے

صبح سے شام کے آثار نظر آنے لگے

صبح سے شام کے آثار نظر آنے لگے پھر سہارے مجھے بے کار نظر آنے لگے اس مسافر کی نقاہت کا ٹھکانہ کیا ہے سنگ منزل جسے دیوار نظر آنے لگے ان کے جوہر بھی کھلے اپنی حقیقت بھی کھلی ہم سے کھنچتے ہی وہ تلوار نظر آنے لگے مرے ہوتے دل مشتاق ستم کے ہوتے یار منت کش اغیار نظر آنے لگے سیفؔ اتنا ...

مزید پڑھیے

لطف فرما سکو تو آ جاؤ

لطف فرما سکو تو آ جاؤ آج بھی آ سکو تو آ جاؤ اپنی وسعت میں کھو چکا ہوں میں راہ دکھلا سکو تو آ جاؤ اب وہ دل ہی نہیں وہ غم ہی نہیں آرزو لا سکو تو آ جاؤ غم گسارو بہت اداس ہوں میں آج بہلا سکو تو آ جاؤ فرصت نامہ و پیام کہاں اب تم ہی آ سکو تو آ جاؤ وہ رہی سیفؔ منزل ہستی دو قدم آ سکو تو آ ...

مزید پڑھیے

پھول اس خاکداں کے ہم بھی ہیں

پھول اس خاکداں کے ہم بھی ہیں مدعی دو جہاں کے ہم بھی ہیں بہتے دھارے پہ ہے قیام اپنا ساتھ موج رواں کے ہم بھی ہیں کہہ رہا ہے سکوت لالہ و گل زخم خوردہ زباں کے ہم بھی ہیں دور رہتے ہیں کیوں جہاں والے رہنے والے جہاں کے ہم بھی ہیں ساتھ مثل غبار ہو لیں گے منتظر کارواں کے ہم بھی ہیں سیفؔ ...

مزید پڑھیے

پھیل رہے ہیں وقت کے سائے

پھیل رہے ہیں وقت کے سائے دیکھیں رات کہاں تک جائے دیدہ و دل کی بات نہ پوچھو ایک لگائے ایک بجھائے آج یہ ہے موسم کا تقاضا زلف تری کھل کر لہرائے ان آنکھوں سے موتی برسے ان ہونٹوں نے پھول کھلائے دیکھ بھال کر زہر پیا ہے سوچ سمجھ کر دھوکے کھائے آج وہ تنہا رات کٹی ہے آنسو تک آنکھوں ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

چاندنی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے لب پہ اک بات بڑی دیر کے بعد آئی ہے جھوم کر آج یہ شب رنگ لٹیں بکھرا دے دیکھ برسات بڑی دیر کے بعد آئی ہے دل مجروح کی اجڑی ہوئی خاموشی سے بوئے نغمات بڑی دیر کے بعد آئی ہے آج کی رات وہ آئے ہیں بڑی دیر کے بعد آج کی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے آہ تسکین بھی ...

مزید پڑھیے

تری نظر سے زمانے بدلتے رہتے ہیں

تری نظر سے زمانے بدلتے رہتے ہیں یہ لوگ تیرے بہانے بدلتے رہتے ہیں فضائے کنج چمن میں ہمیں تلاش نہ کر مسافروں کے ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں نفس نفس متغیر ہے داستان حیات قدم قدم پہ فسانے بدلتے رہتے ہیں کبھی جگر پہ کبھی دل پہ چوٹ پڑتی ہے تری نظر کے نشانے بدلتے رہتے ہیں لگی ہے سیفؔ نظر ...

مزید پڑھیے

تیری آنکھوں میں رنگ مستی ہے

تیری آنکھوں میں رنگ مستی ہے ہاں مجھے اعتبار ہستی ہے میرا ہونا بھی کوئی ہونا ہے میری ہستی بھی کوئی ہستی ہے جان کا روگ ہے یہ گریۂ غم عمر بھر یہ گھٹا برستی ہے جس طرح چاندنی مزاروں پر دل پہ یوں بے کسی برستی ہے دل ویراں کو دیکھتے کیا ہو یہ وہی آرزو کی بستی ہے سیفؔ اس زندگی کو کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1350 سے 6203