قومی زبان

ترے جمال کی زینت مری طلب سے ہے

ترے جمال کی زینت مری طلب سے ہے مری حیات میں خوشبو ترے سبب سے ہے نمود عشق کرم سے کبھی غضب سے ہے خمار چشم سے ہے شعلہ ہائے لب سے ہے کسے دماغ سر راہ ان سے بات کرے دلوں میں ایک خلش خوبیٔ ادب سے ہے قدم رکے ہیں کسی شوخ اجنبی کے لئے یہ ذوق دید بھی کچھ تیرے زلف و لب سے ہے جنون عشق سے اظہار ...

مزید پڑھیے

وہ عارض گلابی وہ گیسو گھنیرے

وہ عارض گلابی وہ گیسو گھنیرے اسی سمت ہیں دیدہ و دل کے پھیرے اجالے کی روداد وہ دل لکھے گا کہ جس دل سے پسپا ہوئے ہیں اندھیرے بڑا فرق ہے تیرے میرے جہاں میں ادھر ظلمت شب ادھر ہیں سویرے کسی سے کبھی آپ بیتی نہ کہنا امڈ آئیں گے ہر طرف سے اندھیرے خلوص دل و جاں مری کم نگاہی فریب مسلسل ...

مزید پڑھیے

دل بیتاب پر ڈالا ہے تیری یاد نے آنچل (ردیف .. ی)

دل بیتاب پر ڈالا ہے تیری یاد نے آنچل تری بخشی ہوئی اب رات طولانی نہیں ہوگی محبت میں ہم اپنے دل کو ویراں کر کے بیٹھے ہیں اب اپنی زندگی میں اور ویرانی نہیں ہوگی یہ زلفیں خم بہ خم یہ جسم بادہ رس یہ پیراہن مرے ناصح یہاں دل کی نگہبانی نہیں ہوگی تمہارے سامنے ہم درد دل بھی لے کے آئے ...

مزید پڑھیے

ہر نئے چہرے سے پیدا اک نیا چہرا ہوا

ہر نئے چہرے سے پیدا اک نیا چہرا ہوا طاق نسیاں پر ہے کوئی آئنہ رکھا ہوا بے وسیلہ اس جہاں میں موت بھی ممکن نہیں حیلۂ دار و رسن بھی ہے مرا سمجھا ہوا زخم گہرے کر رہی ہے ہر نئے مصرعے کی کاٹ شعر کہنے سے بھی دل کا بوجھ کب ہلکا ہوا زندگی کیا جانے کیوں محسوس ہوتا ہے مجھے تجھ سے پہلے بھی ...

مزید پڑھیے

برنگ شعر گرے اور بار بار گرے

برنگ شعر گرے اور بار بار گرے ہمارے ذہن پہ کرنوں کے آبشار گرے غموں کی راہ میں ثابت قدم ہیں دیوانے بساط عیش پہ کتنے نشاط کار گرے چمن کھلا تو نئی نکہتوں کے آنچل پر شگفت گل سے ترے عکس بے شمار گرے زمین چاند کا ٹکڑا ہے جس کی ظلمت پر کئی اجالے ہر اک شب ستارہ وار گرے ہمیں بھی فرصت یک ...

مزید پڑھیے

سانپ سپیرا اور میں

ایک سپیرا میری گلی میں آ نکلا کل شام اس کی آنکھیں چمکیلی تھیں اور آنکھیں سنگین لیکن رس میں بھیگے نغمے چھیڑ رہی تھی بین نغمے جن میں جاگ رہے تھے دنیا کے آلام اس کے گلے میں سانپ پڑا تھا جیسے کوئی ہار اس نے گلے سے سانپ اتارا اور کہا کہ جھوم مٹی چاٹ کے پیار سے بابو جی کے پاؤں چوم سانپ ...

مزید پڑھیے

پاگل عورت

ایک جوان سی اور دیوانی عورت کو میں نے سڑک پر اکثر گھومتے دیکھا ہے گاہ کسی سائے کی طرف مصروف خرام اور کبھی وحشت میں جھومتے دیکھا ہے اس کی سرخ آنکھوں میں پاگل پن کے سوا اور بھی کچھ ہے جس کا کوئی نام نہیں اک ایسی بیداری اس پر طاری ہے جس کے مقدر میں اب کوئی شام نہیں اس کے پتھر جیسے چپ ...

مزید پڑھیے

ہر رات کا خواب

میں ہمیشہ کی طرح تنہائی کی باہوں میں باہیں ڈال کر رات بھی ساحل پہ تھا محو خرام رات بھی اپنے ہی سائے کی نگاہوں میں نگاہیں ڈال کر میں خود اپنے آپ سے تھا ہم کلام دم بدم دامن کشاں تھا رات بھی گہرے سمندر کا فسوں کھنچ رہی تھیں رات کی نیلی رگیں رات بھی جب بڑھ رہا تھا تیز وحشت خیز موجوں ...

مزید پڑھیے

خون تازہ

موسم سرما کی رات جس کے سردی میں رچے برفیلے ہاتھ جب بھی چھوتے ہیں مجھے کپکپا اٹھتا ہوں میں میں عجب برزخ میں ہوں اپنی بیوی کا شناسا جسم بھی اب مجھے سیراب کر سکتا نہیں میرے اندر خواہشوں کا ایک پیاسا بھیڑیا آج بے کل ہے بہت خون تازہ کے لیے

مزید پڑھیے

دہراؤں کیا فسانۂ خواب و خیال کو

دہراؤں کیا فسانۂ خواب و خیال کو گزرے کئی فراق کسی کے وصال کو رشتہ بجز گمان نہ تھا زندگی سے کچھ میں نے فقط قیاس کیا ماہ و سال کو شاید وہ سنگ دل ہو کبھی مائل کرم صورت نہ دے یقین کی اس احتمال کو ترغیب کا ہے وسعت امکاں پہ انحصار رم خوردگی سکھاتا ہے صحرا غزال کو صہباؔ سدا بہار ہے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1352 سے 6203