آفاق
بدن سن ہو گیا ہے بیٹھے بیٹھے مرے قد سے بھی چھوٹا یہ مکاں ہے میں اپنے پاؤں کچھ پھیلا تو لیتا مگر آفاق میں وسعت کہاں ہے
بدن سن ہو گیا ہے بیٹھے بیٹھے مرے قد سے بھی چھوٹا یہ مکاں ہے میں اپنے پاؤں کچھ پھیلا تو لیتا مگر آفاق میں وسعت کہاں ہے
صبح کو بستر سے اٹھا ہوٹل میں جانے کے لیے بازار میں آیا دیکھا سب الٹے ہیں سب مجھ کو دیکھ کے ہنستے تھے آوازے کستے تھے تم الٹے ہو تم الٹے ہو
جینے کے معنی آنکھیں ہیں تیری آنکھیں جینا بھی ہیں جینے کا اسلوب بھی ہیں آنکھوں سے آنکھوں کے ملنے میں جو لذت ہے وہ جینے کی لذت ہے میں نے تیری آنکھوں سے دکھ سہہ کر بھی جینا سیکھا جب سے ان آنکھوں سے دور ہوا ہوں میں جینا بھول گیا ہوں اپنا رستہ بھول گیا ہوں
نئے امکاں کو صورت دے رہا ہوں گرا کر خود در و دیوار اپنے میں اپنے گھر کو وسعت دے رہا ہوں
ایسی قوت جو صرف نہیں ہوتی ہے اذیت بن جاتی ہے میرے دل میں کتنی محبت تھی جس کو زمانے کی بے مہری اور سرد طبیعت نے اظہار میں آنے نہ دیا آخر میں نے سارا درد سمیٹا اور تیری آنکھوں پر وار دیا دنیا میرے لیے تیری صورت میں پیمانہ حسن و خیر بنی یوں تو محبت فرد سے فرد کو ہوتی ہے لیکن تجھ سے ...
کپلنگؔ نے کہا تھا ''مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب ہے اور دونوں کا ملنا نا ممکن ہے'' لیکن مغرب مشرق کے گھر آنگن میں آ پہونچا ہے میرا نوکر بی بی سی سے خبریں سنتا ہے میں بیدلؔ اور حافظؔ کے بجائے شیکسپئیرؔ اور رلکےؔ کی باتیں کرتا ہوں اخباروں میں مغرب کے چکلوں کی خبریں اور تصویریں چھپتی ...
سمندر نے یہ خالی سیپیاں کیسے اگل دیں آ کے ساحل پر میں پہلے بھی کہا کرتا تھا تجھ کو یاد ہو شاید کہ تیری روح کے گہرے سمندر میں میرا دل ایک سیپی ہے مگر میں نے کبھی تیری محبت کو نمائش میں نہیں رکھا میں ان لوگوں سے چھڑتا تھا جو افسانے کہا کرتے ہیں یاروں سے محبت کے مگر ویسے بھی دنیا میں ...
جا کے پھر لوٹ جو آئے وہ زمانہ کیسا تیری آنکھوں نے یہ چھیڑا ہے فسانہ کیسا آنکھ سرشار تمنا ہے تو وعدہ کر لے چال کہتی ہے کہ اب لوٹ کے آنا کیسا مجھ سے کہتا ہے کہ سائے کی طرح ساتھ ہیں ہم یوں نہ ملنے کا نکالا ہے بہانہ کیسا اس کا شکوہ تو نہیں ہے نہ ملے تم ہم سے رنج اس کا ہے کہ تم نے ہمیں ...
عمر بھر کاوش اظہار نے سونے نہ دیا حرف نا گفتہ کے آزار نے سونے نہ دیا دشت کی وسعت بے قید میں کیا نیند آتی گھر کی قید در و دیوار نے سونے نہ دیا تھک کے سو رہنے کو رستے میں ٹھکانے تھے بہت ہوس سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا کبھی اقرار کی لذت نے جگائے رکھا کبھی اندیشۂ انکار نے سونے نہ ...
دل حسن کو دان دے رہا ہوں گاہک کو دکان دے رہا ہوں شاید کوئی بندۂ خدا آئے صحرا میں اذان دے رہا ہوں ہر کہنہ یقیں کو از سر نو اک تازہ گمان دے رہا ہوں گونگی ہے ازل سے جو حقیقت میں اس کو زبان دے رہا ہوں میں غم کو بسا رہا ہوں دل میں بے گھر کو مکان دے رہا ہوں بے جادہ و راہ ہے جو منزل میں ...