اہل دل نے عشق میں چاہا تھا جیسا ہو گیا
اہل دل نے عشق میں چاہا تھا جیسا ہو گیا اور پھر کچھ شان سے ایسی کہ سوچا ہو گیا عیب اپنی آنکھ کا یا فیض تیرا کیا کہوں غیر کی صورت پہ مجھ کو تیرا دھوکا ہو گیا تجھ سے ہم آہنگ تھا اتنا کشش جاتی رہی میں ترا ہم قافیہ تھا عیب ایطا ہو گیا یاد نے آ کر یکایک پردہ کھینچا دور تک میں بھری محفل ...