قومی زبان

اہل دل نے عشق میں چاہا تھا جیسا ہو گیا

اہل دل نے عشق میں چاہا تھا جیسا ہو گیا اور پھر کچھ شان سے ایسی کہ سوچا ہو گیا عیب اپنی آنکھ کا یا فیض تیرا کیا کہوں غیر کی صورت پہ مجھ کو تیرا دھوکا ہو گیا تجھ سے ہم آہنگ تھا اتنا کشش جاتی رہی میں ترا ہم قافیہ تھا عیب ایطا ہو گیا یاد نے آ کر یکایک پردہ کھینچا دور تک میں بھری محفل ...

مزید پڑھیے

وہ لوگ بھی ہیں جو موجوں سے ڈر گئے ہوں گے

وہ لوگ بھی ہیں جو موجوں سے ڈر گئے ہوں گے مگر جو ڈوب گئے پار اتر گئے ہوں گے لگی یہ فکر نئی دل کو آ کے منزل پر کہاں بھٹک کے مرے ہم سفر گئے ہوں گے پلٹ کے آنکھ میں وہ موج خوں نہیں آئی چڑھے ہوئے تھے جو دریا اتر گئے ہوں گے چلے تو ایک ہی رستے پہ ہم مگر نہ ملے ملے بھی ہوں گے تو بچ کر گزر گئے ...

مزید پڑھیے

نیند سے پہلے

ایک دن شام کو بازار میں چلتے پھرتے سنسناہٹ سی ہوئی سارے بدن میں میرے سانس بھاری ہوا سینے میں اٹک کر آیا کچھ قدم اور چلا ہوں گا کہ چکر آیا پھر مجھے یاد نہیں کیسے ہوائیں بدلیں وقت بازار سماں اور فضائیں بدلیں جانے کیوں دیکھ کے بازار کو ڈر آنے لگا بے ضرر چیزوں سے بھی خوف ضرر آنے ...

مزید پڑھیے

نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا

نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا افق پہ دیکھنا تھا میں قطار قازوں کی مرا رفیق کہیں دور جانے والا تھا مرا خیال تھا یا کھولتا ہوا پانی مرے خیال نے برسوں مجھے ابالا تھا ابھی نہیں ہے مجھے سرد و گرم کی پہچان یہ میرے ہاتھوں میں انگار تھا کہ ...

مزید پڑھیے

لمحۂ رفتہ کا دل میں زخم سا بن جائے گا

لمحۂ رفتہ کا دل میں زخم سا بن جائے گا جو نہ پر ہوگا کبھی ایسا خلا بن جائے گا یہ نئے نقش قدم میرے بھٹکنے سے بنے لوگ جب ان پر چلیں گے راستہ بن جائے گا گونج سننی ہو تو تنہا وادیوں میں چیخئے ایک ہی آواز سے اک سلسلہ بن جائے گا جذب کر دے میری مٹی میں لطافت کا مزاج پھر وہ تیرے شہر کی آب و ...

مزید پڑھیے

بزم آخر ہوئی شمعوں کا دھواں باقی ہے

بزم آخر ہوئی شمعوں کا دھواں باقی ہے چشم نم میں شب رفتہ کا سماں باقی ہے کٹ گئی عمر کوئی یاد نہ منظر نہ خیال ایک بے نام سا احساس زیاں باقی ہے کس کی جانب نگراں ہیں مری بے خواب آنکھیں کیا کوئی مرحلۂ عمر رواں باقی ہے سلسلے اس کی نگاہوں کے بہت دور گئے کار دل ختم ہوا کار جہاں باقی ...

مزید پڑھیے

کوئی ستارۂ گرداب آشنا تھا میں

کوئی ستارۂ گرداب آشنا تھا میں کہ موج موج اندھیروں میں ڈوبتا تھا میں اس ایک چہرے میں آباد تھے کئی چہرے اس ایک شخص میں کس کس کو دیکھتا تھا میں نئے ستارے مری روشنی میں چلتے تھے چراغ تھا کہ سر راہ جل رہا تھا میں سفر میں عشق کے اک ایسا مرحلہ آیا وہ ڈھونڈتا تھا مجھے اور کھو گیا تھا ...

مزید پڑھیے

مجھے ان آتے جاتے موسموں سے ڈر نہیں لگتا

مجھے ان آتے جاتے موسموں سے ڈر نہیں لگتا نئے اور پر اذیت منظروں سے ڈر نہیں لگتا خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈر نہیں لگتا مجھے اس کاغذی کشتی پہ اک اندھا بھروسا ہے کہ طوفاں میں بھی گہرے پانیوں سے ڈر نہیں لگتا سمندر چیختا رہتا ہے پس منظر ...

مزید پڑھیے

خیر کا تجھ کو یقیں ہے اور اس کو شر کا ہے

خیر کا تجھ کو یقیں ہے اور اس کو شر کا ہے دونوں حق پر ہیں کہ جھگڑا صرف پس منظر کا ہے آنسوؤں سے تو ہے خالی درد سے عاری ہوں میں تیری آنکھیں کانچ کی ہیں میرا دل پتھر کا ہے کون دفناتا اسے وہ اک برہنہ لاش تھی سب نے پوچھا کون ہے وہ کون سے لشکر کا ہے تو سکوں سے تھک گیا ہے اور بیتابی سے ...

مزید پڑھیے

دکھ دے یا رسوائی دے

دکھ دے یا رسوائی دے غم کو مرے گہرائی دے اپنے لمس کو زندہ کر ہاتھوں کو بینائی دے مجھ سے کوئی ایسی بات بن بولے جو سنائی دے جتنا آنکھ سے کم دیکھوں اتنی دور دکھائی دے اس شدت سے ظاہر ہو اندھوں کو بھی سجھائی دے افق افق گھر آنگن ہے آنگن پار رسائی دے

مزید پڑھیے
صفحہ 1312 سے 6203