قومی زبان

شجر تو کب کا کٹ کے گر چکا ہے

شجر تو کب کا کٹ کے گر چکا ہے پرندہ شاخ سے لپٹا ہوا ہے سمندر ساحلوں سے پوچھتا ہے تمہارا شہر کتنا جاگتا ہے ہوا کے ہاتھ خالی ہو چکے ہیں یہاں ہر پیڑ ننگا ہو چکا ہے اب اس سے دوستی ممکن ہے میری وہ اپنے جسم کے باہر کھڑا ہے بہا کر لے گئیں موجیں گھروندا وہ بچہ کس لیے پھر ہنس رہا ہے

مزید پڑھیے

بچے کی ضد کو اب تو مرا اعتبار دے

بچے کی ضد کو اب تو مرا اعتبار دے اے آسماں یہ چاند مرے گھر اتار دے چوری کروں تو ہاتھ مرے کاٹ دے مگر پہلے خدائے وقت مجھے روزگار دے ٹھکرا نہ دوں میں غیر کے ہاتھوں ملی شکست مجھ کو بھی میری نسل ہی مجرم قرار دے یا رب جنون عشق سے محروم رکھ مجھے یا میری وحشتوں کو نئے ریگ زار دے

مزید پڑھیے

اپولو دس

اپالو دس یہ کہتا ہے نہیں اب دور وہ منزل کہ جب مہتاب کی وادی بنے گی کھیل کی محفل یہ زریں کامیابی بھی ہماری ہی بدولت ہے ملے گا چاند پھولوں سے کہ دھرتی ایک جنت ہے ابھی تو چاند ہارا ہے ستارے اور ہاریں گے زمیں ہم نے سجائی ہے فلک بھی ہم سنواریں گے بزرگوں کی نگاہوں میں یہ سب کچھ ایک جادو ...

مزید پڑھیے

یہ دھرتی خوبصورت ہے

نہیں فاروقی! اس دھرتی کو میں ہرگز نہ چھوڑوں گا مجھے جس دور نے پالا ہے، وہ بے شک پرانا ہے مجھے محبوب اب بھی عہد رفتہ کا فسانہ ہے مگر یہ دور نو یہ ضو شعاع آگہی کی رو میں اتنی خوبصورت زندگی سے منہ نہ موڑوں گا اجل برحق سہی لیکن رہے گا جب تلک ممکن میں چاہوں گا کہ لپٹا ہی رہوں دھرتی کے ...

مزید پڑھیے

پیتل کا سانپ

اور پیتل کا یہ زہریلا سانپ جس کی نازک سی زباں پر یہ خنک شمع کی لو لہر کی طرح اندھیرے میں اٹھا کرتی ہے میرے اک دوست نے تحفے میں مجھے بھیجا ہے ہیں یہ ٹیگور کے بے ربط تخیل کے نقوش اور یہ چین کے نغمات کا مجموعہ ہے میز کے گوشے پہ رکھا ہوا گوتم کا یہ بت تم کو اچھا نہ لگے گا شاید مدتیں ...

مزید پڑھیے

اف یہ گرمی

اف یہ گرمی دیا رے دیا لو ہے کہ بجلی دیا رے دیا جلتا ہے کمرہ بھیا رے بھیا کھول دو پنکھا بھیا رے بھیا دھوپ کی شدت باجی رے باجی ٹھنڈا شربت باجی رے باجی گرمی کا عالم توبہ رے توبہ آگ کا موسم توبہ رے توبہ بھوت ہوا میں آہا آہا جادو فضا میں آہا آہا روحوں کی ٹولی سی شاں رے سی شاں آگ کی ...

مزید پڑھیے

ڈرائنگ روم

یہ سینری ہے یہ تاج محل یہ کرشن ہیں اور یہ رادھا ہیں یہ کوچ ہے یہ پائپ ہے مرا یہ ناول ہے یہ رسالہ ہے یہ ریڈیو ہے یہ قمقمے ہیں یہ میز ہے یہ گلدستہ ہے یہ گاندھیؔ ہیں ٹیگورؔ ہیں یہ یہ شاہنشہ یہ ملکہ ہیں ہر چیز کی بابت پوچھتی ہے جانے کتنی معصوم ہے یہ ہاں اس پر رات کو سونے سے میٹھی میٹھی ...

مزید پڑھیے

جنگلی ناچ

جنگلی لباس میں ایک پیکر گداز چل رہا ہے جھاڑیوں میں سانپ جھوم جھوم کر اڑ رہا ہے مور اپنے بال چوم چوم کر جھیل مانگنے لگی شام کی ہوا سے ساز ایک بار تین بار دست صندلی اٹھے پاؤں لہر کھا گئے جسم ناز کے شرار جھیل کے کنارے مست ہو کے ناچنے لگے جنگلی جوان شام کو سکون پا گئے جھونپڑوں سے اپنے ...

مزید پڑھیے

اسپتال

میں جس جگہ ہوں وہاں زندگی معمہ ہے ابھی تو نوحہ ابھی دل نواز نغمہ ہے ابھی حیات ابھی موت ابھی سکوں ابھی غم یہ اسپتال کی دنیا عجیب دنیا ہے ہر ایک نرس کے لب پر ہنسی سکھائی ہوئی جو ڈاکٹر ہے وہ اپنے تئیں مسیحا ہے بیان شوق کی صبحیں نہ عرض حال کی شام بڑی اداس سی رہتی ہے اسپتال کی شام سویرا ...

مزید پڑھیے

آؤ چلیں ماں

آؤ چلیں ماں ٹھنڈی فضاؤں میں شہروں سے دور کہیں چھوٹے سے گاؤں میں مانا یہ چاندی کی دنیا حسین ہے دھرتی کی حوروں کا جلوہ حسین ہے اونچے اونچے محلوں کا نغمہ حسین ہے کیسے یہاں گھوموں کہ زور نہیں پاؤں میں آؤ چلیں ماں ٹھنڈی فضاؤں میں شہروں سے دور کہیں چھوٹے سے گاؤں میں چار طرف اپنی ترقی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1298 سے 6203