قومی زبان

دولہن بھی اگر بن کے آئے گی رات

دولہن بھی اگر بن کے آئے گی رات ہمیں بے تمہارے نہ بھائے گی رات ہمیں ہجر میں خوں رلائے گی رات ہمارے لہو میں نہائے گی رات بہت خواب غفلت میں دن چڑھ گیا اٹھو سونے والو پھر آئے گی رات ہم اس سے زیادہ سیہ بخت ہیں ہمیں تیرگی کیا دکھائے گی رات نہ ٹالے ٹلے گا یہ روز فراق قسم آج آنے کے ...

مزید پڑھیے

عشق ہے یار کا خدا حافظ

عشق ہے یار کا خدا حافظ امر دشوار کا خدا حافظ پیچ مجھ پر پڑے جو پڑنا ہو زلف خم دار کا خدا حافظ سر جو ٹکراتا ہوں تو کہتے ہیں میری دیوار کا خدا حافظ سرفروشوں کی چشم بد نہ پڑے ان کی تلوار کا خدا حافظ دفن ہم ہو چکے تو کہتے ہیں اس گنہ گار کا خدا حافظ دشت چھوٹا تو آبلوں نے کہا یاں کے ...

مزید پڑھیے

چشم مے گوں وہاں شراب لذیذ

چشم مے گوں وہاں شراب لذیذ دل سوزاں یہاں کباب لذیذ لب شیریں کے بوسے پائے ہیں ہم نے دیکھا ہے آج خواب لذیذ دہن زخم ہونٹھ چاٹتے ہیں اس کی تلوار میں ہے آب لذیذ کہاں تلخی کہاں یہ میٹھا پن اس عرق سے ہے کب گلاب لذیذ اس کے سیب ذقن کے عاشق ہیں ہوگا محشر کے دن حساب لذیذ میٹھی باتوں میں ...

مزید پڑھیے

ہے چمن میں رحم گلچیں کو نہ کچھ صیاد کو

ہے چمن میں رحم گلچیں کو نہ کچھ صیاد کو اب خدا ہی شاد رکھے بلبل ناشاد کو سوجھتی تھی کوہ و صحرا میں یہی ہر دم مجھے کیجئے غم قیس کا اور روئیے فرہاد کو ہچکیاں آتی ہیں پر لیتے نہیں وہ میرا نام دیکھنا ان کی فراموشی کو میری یاد کو یاد میں ان کے حواس خمسہ دے دیتے ہیں ہم آہ کو نالہ کو غل ...

مزید پڑھیے

قبر میں اب کسی کا دھیان نہیں

قبر میں اب کسی کا دھیان نہیں سچ ہے جب جی نہیں جہان نہیں بند بلبل ہی کی زبان نہیں ورنہ گل تو ہلاتے کان نہیں دل نے خود الفت کمر کی ہے اس میں کچھ میرا درمیان نہیں ابھی کیا کیا نہ ہوگا حرج نصیب ہم نہیں ہیں کہ امتحان نہیں دیر کیوں زاہدوں نے چھوڑ دیا کیا بتوں میں خدا کی شان نہیں شمس ...

مزید پڑھیے

نہ بچپن میں کہو ہم کو کڑی بات

نہ بچپن میں کہو ہم کو کڑی بات نہ کھلواؤ کہ چھوٹا منہ بڑی بات سنو تو گوہر دنداں کی تعریف ابھی ہو جائے موتی کی لڑی بات بڑے اندھیر کی تزئین ہے آج نہ ہونے دے گی مسی کی دھڑی بات جہاں اغیار ان کے پاس بیٹھے وہیں بس ہو گئی کوئی گھڑی بات پیام وصل پر وہ ہو گئے ترش غضب آیا کھٹائی میں پڑی ...

مزید پڑھیے

جی جائے مگر نہ وہ پری جائے

جی جائے مگر نہ وہ پری جائے یا رب نہ ہماری دل لگی جائے دل ہجر میں جائے یا کہ جی جائے جس کا جی چاہے وہ ابھی جائے اس گل کا نہ وصل ہو نہ جی جائے کیونکہ میرے دل کی بے کلی جائے تم لعل لب اپنے گر دکھاؤ پھر سوئے یمن نہ جوہری جائے اس غنچہ دہن کی بو نہ لائے دکھلائے نہ منہ صبا چلی ...

مزید پڑھیے

ماہ نو پردۂ سحاب میں ہے

ماہ نو پردۂ سحاب میں ہے یا کہ ابرو کوئی نقاب میں ہے رنگت اس رخ کی گل نے پائی ہے اور پسینے کی بو گلاب میں ہے آج ساقی شکار کھیلے گا بط مے کانسۂ شراب میں ہے طول روز فراق کہتا ہے حشر کا روز کس حساب میں ہے شربت قند کی سی شیرینی دہن یار کے لعاب میں ہے شان سے کچھ بگڑ گئی شاید زلف شب ...

مزید پڑھیے

اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیں

اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیں سچ ہے شاعر بھی ہوا باندھتے ہیں پھر سر دست مرا خوں ہوگا پھر وہ ہاتھوں میں حنا باندھتے ہیں گٹھری پھولوں کی وہ ہو جاتی ہے جن میں وہ اپنی قبا باندھتے ہیں اجی دیکھیں دل عاشق تو نہیں آپ آنچل میں یہ کیا باندھتے ہیں اے سخیؔ آج تو کچھ خیر نہیں وہ کمر ہو کے ...

مزید پڑھیے

سخیؔ سے چھوٹ کر جائیں گے گھر آپ

سخیؔ سے چھوٹ کر جائیں گے گھر آپ اجی کچھ خیر بھی ہے ہیں کدھر آپ وہ عاشق ہیں کہ مرنے پر ہمارے کریں گے یاد ہم کو عمر بھر آپ پری سمجھیں پری، حوریں کہیں حور ہوئے کس نور کے پیدا بشر آپ نہ عاشق ہیں زمانہ میں نہ معشوق ادھر ہم رہ گئے ہیں اور ادھر آپ دکھائیں گے ہم اپنی لاغری بھی ابھی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1280 سے 6203