قومی زبان

تخلیق شعر

بہت دنوں سے اداس نظروں کی رہ گزر تھی پڑی تھیں سونی افق کی راہیں کہ دل کی محفل میں نغمہ و نالہ و نوا کی عجب سی شورش نہیں ہوئی تھی نظر اٹھائی تو دور دھندلی فضاؤں میں روشنی کا اک دائرہ سا دیکھا لرز کے ٹھہرا جو دل تخیل نے اپنے شہپر فضا میں کھولے کہ جیسے پرواز کا صحیفہ کھلے تو نیلے ...

مزید پڑھیے

نذر غالبؔ

کیف جاں نور بصر یاد آیا عرصۂ حرف و ہنر یاد آیا دشت امکان کی پہنائی میں خاک بر سر تھے کہ گھر یاد آیا لٹتے لٹتے بھی دل محزوں کو درد کا رخت سفر یاد آیا جب گنوا آئے متاع ہستی تب ہمیں جاں کا ضرر یاد آیا بزم جاناں ہی سہی بزم خیال دل کا سناٹا مگر یاد آیا شب مہجوری میں ہنگام نزاع مطلع ...

مزید پڑھیے

حیات کی بے رخی نئی ہے نہ اپنی کم مائیگی نئی ہے

حیات کی بے رخی نئی ہے نہ اپنی کم مائیگی نئی ہے پھر آج جذبات غم کی موجوں میں کیسی یہ بیکلی نئی ہے نہ جانے حرف طلب ہے نادم کہ بے زبانی زباں ہے اپنی دھڑک رہا ہے دل تمنا کہ منزل عاشقی نئی ہے وہی ہے جادہ وہی سفر ہے وہی ہے منظر وہی نظر ہے مگر بہ انداز آشنائی ہماری وارفتگی نئی ہے زوال ...

مزید پڑھیے

خیال صبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں

خیال صبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں اندھیری رات کی تنہائیاں کچھ اور کہتی ہیں کبھی جام طرب کی سمت دست شوق بڑھتا ہے تو اس کام و دہن کی تلخیاں کچھ اور کہتی ہیں مری نظروں کی پہنائی میں ہیں اجزائے دو عالم گمان و وہم کی پرچھائیاں کچھ اور کہتی ہیں فراغت چاہتی ہے زندگی دو چار لمحے ...

مزید پڑھیے

وفا و مہر و الطاف و کرم تھے ہم عناں کیا کیا

وفا و مہر و الطاف و کرم تھے ہم عناں کیا کیا ہوئے ہیں اپنے ہی دل سے مگر ہم بد گماں کیا کیا پر پرواز نیلا آسماں منزل ستاروں کی کٹے شہ پر تو یاد آنے لگیں جولانیاں کیا کیا یہ اپنا دل جو اب آسیب خاموشی کا مسکن ہے کبھی گزرے تھے اس سونی ڈگر سے کارواں کیا کیا سکوت نیم شب کی آہٹیں اور رات ...

مزید پڑھیے

شہر بے مہر میں ملتا کہاں دل دار کوئی

شہر بے مہر میں ملتا کہاں دل دار کوئی کاش مل جاتا ہمیں مجمع اغیار کوئی چیر دے قلب زمیں توڑ دے زنجیر زماں چھیڑ اب ایسا فسانۂ دل نادار کوئی نالۂ دل سے جگر ہوتا ہے چھلنی یا رب صبر کرتی ہوں تو چل جاتی ہے تلوار کوئی بجھ گئی راہ وفا ڈوب گئی صبح امید لے کے اب آئے گا کیا وعدۂ دیدار ...

مزید پڑھیے

دل طلب گار سہی حشر بہ داماں کیوں ہے

دل طلب گار سہی حشر بہ داماں کیوں ہے نالہ زن شعلہ بکف شوق فراواں کیوں ہے محفل ساز و طرب مطلع ویراں کیوں ہے شیوۂ صبر و سکوں دل سے گریزاں کیوں ہے کھینچ لایا تھا جو اس دل کو تری محفل میں وہی انداز نظر آج پشیماں کیوں ہے سرنگوں راہ میں ہر گام ہوا جاتا ہے مضمحل خوئے سفر درد پشیماں کیوں ...

مزید پڑھیے

اک نشتر نظر کے طلب گار ہم بھی ہیں

اک نشتر نظر کے طلب گار ہم بھی ہیں داتا ہو تم غموں کے تو غم خوار ہم بھی ہیں حیراں کھڑے ہوئے انہیں راہوں میں ہیں ہنوز اے رہروان کوچۂ دل دار ہم بھی ہیں دریا سمجھ لیا جسے نکلا وہی سراب اک حرف تشنگی کے گنہ گار ہم بھی ہیں منہ راہ نجد شوق سے موڑا نہیں ابھی ہاں جرم خستگی کے خطا‌ وار ہم ...

مزید پڑھیے

صبا میں مست خرامی گلوں میں بو نہ رہے

صبا میں مست خرامی گلوں میں بو نہ رہے ترا خیال اگر دل کے روبرو نہ رہے ترے بغیر ہر اک آرزو ادھوری ہے جو تو ملے تو مجھے کوئی آرزو نہ رہے ہے جستجو میں تری اک جہاں کا درد و نشاط تو کیا عجب کہ کوئی اور جستجو نہ رہے تری طلب سے عبارت ہے سوز و حیات ہو سرد آتش ہستی جو دل میں تو نہ رہے تو ...

مزید پڑھیے

جو تری نظر میں پنہاں نہ یہ اعتبار ہوتا

جو تری نظر میں پنہاں نہ یہ اعتبار ہوتا مری جاں غبار ہوتی مرا دل مزار ہوتا کہیں ہم بھی ڈھونڈ لیتے کوئی عافیت کا عنواں یہ جو بے قرار دل ہے اسے گر قرار ہوتا کوئی رمز دید ہوتا کہ بہانۂ سکوں ہو مری آرزو بہلتی اگر انتظار ہوتا یہ شبان ہجر کٹتیں یہ دل حزیں بہلتا جو سحر کے آئنے میں کہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1277 سے 6203