قومی زبان

کس نے کہا کہ مجھ کو یہ دنیا نہیں پسند

کس نے کہا کہ مجھ کو یہ دنیا نہیں پسند بس سامنے کا تھوڑا سا حصہ نہیں پسند برسوں سے اس کے ساتھ گزر کر رہے ہیں ہم ہر چند زندگی کا رویہ نہیں پسند سورج طلوع ہوتے ہی در بند ہو گئے یہ کیسے لوگ ہیں کہ سویرا نہیں پسند خواہش تو ہے مجھے بھی کہ منزل ملے مگر یوں دوسروں کی راہ پہ چلنا نہیں ...

مزید پڑھیے

ہر چند ترے غم کا سہارا بھی نہیں ہے

ہر چند ترے غم کا سہارا بھی نہیں ہے جینے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے ہر روز کیے جاتی ہے یہ زیست تقاضے کیا قرض تھا جو ہم نے اتارا بھی نہیں ہے پہلے تو یہ موجیں بھی حمایت میں کھڑی تھیں اب میرا مددگار کنارہ بھی نہیں ہے جاتا بھی نہیں چھوڑ کے وہ مجھ کو اکیلا اور ساتھ مرا اس کو گوارہ ...

مزید پڑھیے

کم رنج موسم گل تر نے نہیں دیا

کم رنج موسم گل تر نے نہیں دیا دل کے کسی بھی زخم کو بھرنے نہیں دیا سارے ہی مستفیض ہوئے اس کی ذات سے ہم کو ہی ایک پھل بھی شجر نے نہیں دیا مرجھا گئی ہے تلخئ حالات سے مگر کم ہے کہ ہم نے یاد کو مرنے نہیں دیا جلتا چراغ دل شب ہجراں میں دیر تک موقع مگر نمود سحر نے نہیں دیا مخصوص تھی بس اس ...

مزید پڑھیے

میں رات حوا

تم سے صرف ایک بار جنمی گئی ہوں مگر تم تو آج تک مجھ سے جنم لے رہے ہو پھر میں محض اک سایا بن کر کیوں رہ گئی وجود کیوں نہیں بنی میرا پڑاؤ ہمیشہ تمہارے انگوٹھے کے نیچے کیوں رکھا گیا ہے میں تمہارے نام کی سل اپنے بدن سے ہٹا کر کھلی ہوا میں منہ بھر کر سانس لینا چاہتی ہوں باپ بھائی شوہر اور ...

مزید پڑھیے

بس لوٹ آنا

سچائیاں اپنے وقت میں کبھی جی نہیں پاتیں سو آنکھوں نے ہمیشہ لمحوں سے دھوکے کھائے تمہیں کیسے رخصت کروں کہ یہ بات امام ضامن اور دعا سے بہت آگے بہت آگے ہے ہتھیلیوں کے گرداب پھسلتے پھسلتے بینائی کی دہلیز پہ آ بیٹھے ہیں انگلیاں کانوں کو کہاں تک دستک سے دور رکھیں گی دعاؤں کی چھتری میں ...

مزید پڑھیے

زمیں دار

جنون حاکمیت خود پسندی کا یہ لاوا کیوں ابلتا اور بہتا جا رہا ہے ساری دھرتی پر کہاں سے حکم آتا ہے یہ کیسی سوچ کے پیرائے میں تم ڈھالے جاتے ہو کہ نفرت اور گہری ہو رہی ہے زمیں زادو بدن دھرتی میں بونے سے فقط قبریں ہی اگتی ہیں لہو بہتا رہا تو مہر و وفا احساس کے سب بہتے دریا سوکھ جائیں ...

مزید پڑھیے

آخری پڑاؤ

شاید میری زمین اپنے سفر کے آخری پڑاؤ سے آگے نکل چکی ہے منزل پر جلتے ہوئے فلک بوس الاؤ کی حدت کچھ اتنی تیز ہے کہ درختوں کے جڑوں سے لے کر شاخوں کے سروں پر آنے والا بور تک پسینے اور گرمی سے ہانپ رہا ہے وقت کی کٹھالی میں ابلتے ہوئے حالات کے ساتھ اب کے کسی عقل مند نے ہوا کے ہاتھ پر رکھے ...

مزید پڑھیے

کچھ نئے خواب ہر اک فصل میں پالے گئے ہیں

کچھ نئے خواب ہر اک فصل میں پالے گئے ہیں ہم اسی جرم میں بستی سے نکالے گئے ہیں ابھی زنجیر جنوں پاؤں میں ڈالے گئے ہیں دیکھ کس سمت ترے چاہنے والے گئے ہیں کون اس شہر چراغاں میں ابھی آیا تھا دور تک اس کے تعاقب میں اجالے گئے ہیں حاکم وقت کے قدموں پہ سبھی ابن الوقت رکھ کے دستار کو سر ...

مزید پڑھیے

دیکھ ماضی کے دریچوں کو کبھی کھولا نہ کر

دیکھ ماضی کے دریچوں کو کبھی کھولا نہ کر بھاگتے لمحوں کے پیچھے اس طرح دوڑا نہ کر اے مرے سورج مرے سائے کے دیرینہ رفیق راستے میں روشنی بن کر بکھر جایا نہ کر یہ بھی ممکن ہے ترے دیوار و در تیرے نہ ہوں گھر کے اندر بیٹھ کر تو اس طرح رویا نہ کر کہہ لیا کر گاہے گاہے تو کوئی اچھی غزل محفل ...

مزید پڑھیے

مسلسل آگ میں اک آگ سی لگی ہوئی ہے

مسلسل آگ میں اک آگ سی لگی ہوئی ہے یہ میں جو راکھ بنی ہے تو روشنی ہوئی ہے رکا نہیں کسی منزل پہ کاروان سفر ازل سے خون میں تحریک سی چلی ہوئی ہے خمیر تخم میں رکھی ہوئی حسیں خواہش گلاب بن کے ہر اک شاخ پر کھلی ہوئی ہے پڑا ہوں جسم کے سانچے میں ہجر اپنا لیے مجھے یہ عمر کہیں ڈھونڈنے گئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1253 سے 6203