قومی زبان

تمام عمر کی تنہائیوں پہ بھاری تھی

تمام عمر کی تنہائیوں پہ بھاری تھی وہ ایک شام ترے ساتھ جو گزاری تھی افق پہ لکھتا رہا آفتاب تحریریں مگر بیاض زمیں روشنی سے عاری تھی سفیر صبح کی آہٹ پہ ہو گئی بیدار غنودگی میں جو خوابیدہ شب خماری تھی اسی نے کر دیا پیوست پیٹھ میں خنجر وہ شخص جس کی رفاقت سے پیٹھ بھاری تھی دل و دماغ ...

مزید پڑھیے

ضبط کی حد سے گزر کر خار تو ہونا ہی تھا

ضبط کی حد سے گزر کر خار تو ہونا ہی تھا شدت غم کا مگر اظہار تو ہونا ہی تھا آئنے کب تک سلامت رہتے شہر سنگ میں ایک دن پتھر کوئی بیدار تو ہونا ہی تھا خاک میں ملنا ہی تھا اک دن غرور زندگی ریت کی دیوار کو مسمار تو ہونا ہی تھا کس طرح کرتے نظر انداز اپنے آپ کو اک نہ اک دن زندگی سے پیار تو ...

مزید پڑھیے

کیا لطف ہواؤں کے سفر میں نہیں رکھا

کیا لطف ہواؤں کے سفر میں نہیں رکھا یا جذبۂ پرواز ہی پر میں نہیں رکھا ننھا سا دیا بھی شب تیرہ میں بہت ہے سودا کسی خورشید کا سر میں نہیں رکھا بجھ جائیں گے خوابوں کے چراغ آب رواں سے اس ڈر سے انہیں دیدۂ تر میں نہیں رکھا شاید در و دیوار بھی پہچان نہ پائیں برسوں سے قدم اپنے ہی گھر ...

مزید پڑھیے

فصل جنوں میں دامن و دل چاک بھی نہیں

فصل جنوں میں دامن و دل چاک بھی نہیں کیا دشت ہے کہ اڑتی کہیں خاک بھی نہیں جینا ترا محال تو ہونا ہی تھا کہ تو اس دور کے حساب سے چالاک بھی نہیں رقص جنوں تو خیر بڑی بات ہے مگر اب شہر میں نمائش ادراک بھی نہیں اچھا ہوا کہ جلد ہی تو نے اتار دی جچتی ہے سب پہ درد کی پوشاک بھی نہیں دریا ...

مزید پڑھیے

ابھی موجود تھی لیکن ابھی گم ہو گئی ہے

ابھی موجود تھی لیکن ابھی گم ہو گئی ہے نہ جانے کس جہاں میں زندگی گم ہو گئی ہے مرے ہم راہ کیوں وہ شخص چلنا چاہتا ہے سفر کے جوش میں کیا آگہی گم ہو گئی ہے سبھی خوش ہیں کہ سارے گمشدہ پھر مل گئے ہیں مجھے غم ہے کہ اب تیری کمی گم ہو گئی ہے مرے ہونٹوں کو دریا نے کیا سیراب لیکن حیات افروز ...

مزید پڑھیے

اسے خود کو بدل لینا گوارہ بھی نہیں ہوتا

اسے خود کو بدل لینا گوارہ بھی نہیں ہوتا ہمارا ایسی دنیا میں گزارہ بھی نہیں ہوتا ہمیں اس موڑ پر لے آتے ہیں یہ خون کے رشتے کہ جینے کے علاوہ اور چارہ بھی نہیں ہوتا یہ سارے چاند سورج ان کے قدموں میں ہی رہتے ہیں ہمارے ہاتھ میں کیوں ایک تارہ بھی نہیں ہوتا ڈبو دیتیں ہمیں دریائے ماہ و ...

مزید پڑھیے

اک ایک لفظ میں کئی پہلو کہاں سے آئے

اک ایک لفظ میں کئی پہلو کہاں سے آئے جاناں ترے سخن میں یہ جادو کہاں سے آئے جب تیرگی میں چاند ستارے بھی گم ہوئے پلکوں کے شامیانے میں جگنو کہاں سے آئے سلجھا رہا تھا پیچ و خم زندگی مگر ہاتھوں میں یک بہ یک ترے گیسو کہاں سے آئے شکوہ نہیں ہے تجھ سے کہ اس رہ گزار میں سائے نہ ساتھ آئے تو ...

مزید پڑھیے

سہانے خواب آنکھوں میں سنجونا چاہتا ہوں

سہانے خواب آنکھوں میں سنجونا چاہتا ہوں میں اب آرام سے کچھ دیر سونا چاہتا ہوں شجر کو بار آور دیکھنا مقصد نہیں ہے کہ میں تو بس زمیں پر خواب بونا چاہتا ہوں مرے ہنستے ہوئے بچو یہ سارا گھر تمہارا میں رونے کے لئے بس ایک کونا چاہتا ہوں نواح زیست میں کیوں بارشیں ہوتی نہیں ہیں میں ...

مزید پڑھیے

یہ خیال اب تو دل آزار ہمارے لیے ہے

یہ خیال اب تو دل آزار ہمارے لیے ہے آخر شب کوئی بے دار ہمارے لیے ہے ہم عجب دیکھ کے سرشار ہوئے جاتے ہیں جیسے یہ گرمئ بازار ہمارے لیے ہے خانہ‌ٔ زیست میں رہتا ہے اجالا شب بھر کوئی روشن سر دیوار ہمارے لیے ہے ختم ہونے کو نہیں سختی‌ و آلام سفر راہ میں پھر کوئی کہسار ہمارے لیے ...

مزید پڑھیے

ایک تو دنیا کا کاروبار ہے

ایک تو دنیا کا کاروبار ہے عشق کا اس پر الگ آزار ہے کون اس جا صاحب کردار ہے ہر کوئی بس غازیٔ گفتار ہے صبح تک اٹھتی رہی آہ و فغاں کون مجھ میں شام سے بیدار ہے اہل دل آئے یہاں تاخیر سے اب کہاں وہ گرمئ بازار ہے شور میں ڈوبا ہوا ہے گھر تمام اور سناٹا پس دیوار ہے میں ہوا بے لطف اس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1252 سے 6203