تمام عمر کی تنہائیوں پہ بھاری تھی
تمام عمر کی تنہائیوں پہ بھاری تھی وہ ایک شام ترے ساتھ جو گزاری تھی افق پہ لکھتا رہا آفتاب تحریریں مگر بیاض زمیں روشنی سے عاری تھی سفیر صبح کی آہٹ پہ ہو گئی بیدار غنودگی میں جو خوابیدہ شب خماری تھی اسی نے کر دیا پیوست پیٹھ میں خنجر وہ شخص جس کی رفاقت سے پیٹھ بھاری تھی دل و دماغ ...