قومی زبان

ظلم ہے تخت تاج سناٹا

ظلم ہے تخت تاج سناٹا خوف قانون راج سناٹا گفتگو تیر سی لگی دل میں اب ہے شاید علاج سناٹا سو گئیں یادیں بجھ گئی امید گھر میں کتنا ہے آج سناٹا لوگ دل کی کہیں تو کیسے کہیں چاہتا ہے سماج سناٹا اپنی عادت کہ سب سے سب کہہ دیں شہر کا ہے مزاج سناٹا

مزید پڑھیے

ہم جو پہلے کہیں ملے ہوتے

ہم جو پہلے کہیں ملے ہوتے اور ہی اپنے سلسلے ہوتے پھر ہر اک بات ٹھیک سے ہوتی پھر نہ الجھن نہ فاصلے ہوتے پھر نہ تنہائی رات کو ڈستی پھر نہ قسمت سے یہ گلے ہوتے پھر نہ لگتا یہ شہر اک صحرا پھر نہ گم دل کے قافلے ہوتے پھر غزل ہوتی سب زبانوں پر پھر کسی کے نہ لب سلے ہوتے پھر ہر اک لمحہ ...

مزید پڑھیے

جھوٹی امید کی انگلی کو پکڑنا چھوڑو

جھوٹی امید کی انگلی کو پکڑنا چھوڑو درد سے بات کرو درد سے لڑنا چھوڑو جو پڑوسی ہیں وہ سب اپنے محلے کے ہیں کام آئیں گے یہ سب ان سے جھگڑنا چھوڑو بے سبب دیتے ہو کیوں اپنی ذہانت کا ثبوت ہیرے موتی کو ہر اک بات میں جڑنا چھوڑو چاند سورج کی طرح تم بھی ہو قدرت کا کھیل جیسے ہو ویسے رہو بننا ...

مزید پڑھیے

خوابوں کے آسرے پہ بہت دن جیے ہو تم

خوابوں کے آسرے پہ بہت دن جیے ہو تم شاید یہی سبب ہے کہ تنہا رہے ہو تم اپنے سے کوئی بات چھپائی نہیں کبھی یہ بھی فریب خود کو بہت دے چکے ہو تم پوچھا ہے اپنے آپ سے میں نے ہزار بار مجھ کو بتاؤ تو سہی کیا چاہتے ہو تم خالی برآمدوں نے مجھے دیکھ کر کہا کیا بات ہے اداس سے کچھ لگ رہے ہو ...

مزید پڑھیے

کیسے ہو کیا ہے حال مت پوچھو

کیسے ہو کیا ہے حال مت پوچھو مجھ سے مشکل سوال مت پوچھو کس نے تم کو ستایا ہے اتنا کس لئے ہے ملال مت پوچھو کیوں وہ خود کو نظر نہیں آتا کیوں ہے شیشے میں بال مت پوچھو جبر کس کا ہے کون ہے مجبور کس نے پھینکا ہے جال مت پوچھو کون مری خوشی کا دشمن ہے مجھ سے تم اس کا حال مت پوچھو

مزید پڑھیے

تیغ کھینچے ہوئے کھڑا کیا ہے

تیغ کھینچے ہوئے کھڑا کیا ہے پوچھ مجھ سے مری سزا کیا ہے زندگی اس قدر کٹھن کیوں ہے آدمی کی بھلا خطا کیا ہے جسم تو بھی ہے جسم میں بھی ہوں روح اک وہم کے سوا کیا ہے آج بھی کل کا منتظر ہوں میں آج کے روز میں نیا کیا ہے آئیے بیٹھ کر شراب پئیں گو کہ اس کا بھی فائدہ کیا ہے

مزید پڑھیے

جینا عذاب کیوں ہے یہ کیا ہو گیا مجھے

جینا عذاب کیوں ہے یہ کیا ہو گیا مجھے کس شخص کی لگی ہے بھلا بد دعا مجھے میں اپنے آپ سے تو لڑا ہوں تمام عمر اے آسمان تو بھی کبھی آزما مجھے نکلے تھے دونوں بھیس بدل کے تو کیا عجب میں ڈھونڈتا خدا کو پھرا اور خدا مجھے پوچھیں گے مجھ کو گاؤں کے سب لوگ ایک دن میں اک پرانا پیڑ ہوں تو مت گرا ...

مزید پڑھیے

دوستی کچھ نہیں الفت کا صلہ کچھ بھی نہیں

دوستی کچھ نہیں الفت کا صلہ کچھ بھی نہیں آج دنیا میں بجز ذہن رسا کچھ بھی نہیں پتے سب گر گئے پیڑوں سے مگر کیا کہیے ایسا لگتا ہے ہمیں جیسے ہوا کچھ بھی نہیں کل کی یادوں کی جلانے کو جلائیں مشعل ایک تاریک اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں ڈھونڈھنا چھوڑ دو پرچھائیں کا مسکن یارو چاہے جس طرح ...

مزید پڑھیے

یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں

یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں شعر کہتے رہیں چپ چاپ تقاضا نہ کریں ان بدلتے ہوئے حالات میں بہتر ہے یہی آئینہ دیکھیں تو خود اپنے کو ڈھونڈا نہ کریں تو گریزاں رہی اے زندگی ہم سے لیکن کیسے ممکن ہے کہ ہم بھی تجھے چاہا نہ کریں اس نئے دور کے لوگوں سے یہ کہہ دے کوئی دل کے دکھڑوں کا سر ...

مزید پڑھیے

کچھ تو ٹھہرے ہوئے دریا میں روانی کریں ہم

کچھ تو ٹھہرے ہوئے دریا میں روانی کریں ہم آؤ دنیا کی حقیقت کو کہانی کریں ہم اپنے موجود میں ملتے ہی نہیں ہیں ہم لوگ جو ہے معدوم اسے اپنی نشانی کریں ہم پہلے اک یار بنائیں کوئی اس کے جیسا اور پھر ایجاد کوئی دشمن جانی کریں ہم جب نیا کام ہی کرنے کو نہیں ہے کوئی بیٹھے بیٹھے یوں ہی اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1243 سے 6203