قومی زبان

کون کہتا ہے کہ یوں ہی رازدار اس نے کیا

کون کہتا ہے کہ یوں ہی رازدار اس نے کیا خوب پرکھا ہے مجھے تب اعتبار اس نے کیا بے حجاب نفس تھا وہ یا کوئی غافل بدن پیرہن جو بھی دیا ہے تار تار اس نے کیا آج پھر اپنی سماعت سونپ دی اس نے ہمیں آج پھر لہجہ ہمارا اختیار اس نے کیا صرف اک عکس وفا پر ہی نہیں ڈالی ہے خاک آئینہ سازوں کو بھی ...

مزید پڑھیے

غم حیات مٹانا ہے رو کے دیکھتے ہیں

غم حیات مٹانا ہے رو کے دیکھتے ہیں لہو کا داغ لہو سے ہی دھو کے دیکھتے ہیں عطش کی نیند بہت بڑھ گئی ہے آنکھوں میں چلو فرات کی باہوں میں سو کے دیکھتے ہیں ہمیں ہمارے علاوہ بھی جانتا ہے کوئی وراثتوں کی یہ پہچان کھو کے دیکھتے ہیں تمام عمر بہت روئے زندگی کے لئے اب اپنی لاش پہ کچھ دیر رو ...

مزید پڑھیے

بڑی ہی اندھیری ڈگر ہے میاں

بڑی ہی اندھیری ڈگر ہے میاں جہاں ہم فقیروں کا گھر ہے میاں ہے فرصت تو کچھ دیر مل بیٹھیے جدائی سے کس کو مفر ہے میاں گھروندے یہاں ریت کے مت بناؤ کہ سیل ہوا زور پر ہے میاں کبھی بت شکن تھے پر اب خود شکن یہ الزام بھی اپنے سر ہے میاں تو پھر کج کلاہی پہ اصرار کیوں اگر سنگ باری کا ڈر ہے ...

مزید پڑھیے

رہ فراق کسی طور مختصر کیجے

رہ فراق کسی طور مختصر کیجے جو ہو سکے تو کبھی خواب سے گزر کیجے ہمارے دل میں بھی منظر عجیب سیر کا ہے نہ آ سکیں تو بلندی سے ہی نظر کیجے یہاں پہ چاروں طرف ہے سراغ رستوں کا پر اختیار کوئی راہ دیکھ کر کیجے یہ شہر و کوہ و بیابان و دشت و دریا تھے اب آگے خواب ہے رک جائیے بسر کیجے بنے تھے ...

مزید پڑھیے

اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ

اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ زخم کھا جاؤ گے کھیلو گے جو تلوار کے ساتھ ایک آہٹ بھی مرے گھر سے ابھرتی ہے اگر لوگ کان اپنے لگا لیتے ہیں دیوار کے ساتھ پاؤں ساکت ہیں مگر گھوم رہی ہے دنیا زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے رفتار کے ساتھ ایک جلتا ہوا آنسو مری آنکھوں سے گرا بیڑیاں ...

مزید پڑھیے

یوں تری چاپ سے تحریک سفر ٹوٹتی ہے

یوں تری چاپ سے تحریک سفر ٹوٹتی ہے جیسے پلکوں کے جھپکنے سے نظر ٹوٹتی ہے بوجھ اشکوں کا اٹھا لیتی ہیں پلکیں میری پھول کے وزن سے کب شاخ شجر ٹوٹتی ہے زندگی جسم کے زنداں میں یہ سانسوں کی صلیب ہم سے توڑی نہیں جاتی ہے مگر ٹوٹتی ہے کوئی جگنو کوئی تارہ نہیں لگتا روشن ظلمت شب میں جب امید ...

مزید پڑھیے

اپنے جینے کے ہم اسباب دکھاتے ہیں تمہیں

اپنے جینے کے ہم اسباب دکھاتے ہیں تمہیں دوستو آؤ کہ کچھ خواب دکھاتے ہیں تمہیں تم نے غرقاب سفینے تو بہت دیکھے ہیں سر پٹکتے ہوئے سیلاب دکھاتے ہیں تمہیں حسن کا شور جو برپا ہے ذرا تھمنے دو عشق کا لہجہ نایاب دکھاتے ہیں تمہیں میرے پھیلے ہوئے دامن کے کبھی ساتھ چلو منہ چھپاتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

منظر خیمۂ شب دیکھنے والا ہوگا

منظر خیمۂ شب دیکھنے والا ہوگا وہ چراغوں کو بجھائے گا اجالا ہوگا شربتی آنکھوں میں کاجل وہ لگائے گا ابھی رات کا رنگ ابھی اور بھی کالا ہوگا مجھ کو ٹھہرے ہوئے ساحل سے نہیں تھی امید مجھ کو بہتے ہوئے پانی نے سنبھالا ہوگا آج پھر اس نے ہتھیلی کو چھپایا ماں سے آج پھر ہاتھ میں اجرت نہیں ...

مزید پڑھیے

شب کے پر ہول مناظر سے بچا لے مجھ کو

شب کے پر ہول مناظر سے بچا لے مجھ کو میں تری نیند ہوں آنکھوں میں چھپا لے مجھ کو میں تری راہ مشیت کا ہوں ذرہ لیکن ڈھونڈھنے والا ستاروں میں کھنگالے مجھ کو خوف آنکھوں میں مری دیکھ کے چنگاری کا کر دیا رات نے سورج کے حوالے مجھ کو میں مصور ہوں برے وقت کی تصویروں کا راس آتے ہیں یہ دیوار ...

مزید پڑھیے

یقیں کی دھوپ میں سایہ بھی کچھ گمان کا ہے

یقیں کی دھوپ میں سایہ بھی کچھ گمان کا ہے یہی تو وقت مسافر کے امتحان کا ہے پلٹ رہا ہے زمانہ صدائے حق کی طرف جہان فکر میں چرچا مری اذان کا ہے اسی کے خوف سے لرزاں ہے دشمنوں کا ہجوم وہ ایک تیر جو ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے یہی کہیں پہ وفاؤں کی قبر گاہ بھی تھی یہی کہیں سے تو رستہ ترے مکان کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1236 سے 6203