کون کہتا ہے کہ یوں ہی رازدار اس نے کیا
کون کہتا ہے کہ یوں ہی رازدار اس نے کیا خوب پرکھا ہے مجھے تب اعتبار اس نے کیا بے حجاب نفس تھا وہ یا کوئی غافل بدن پیرہن جو بھی دیا ہے تار تار اس نے کیا آج پھر اپنی سماعت سونپ دی اس نے ہمیں آج پھر لہجہ ہمارا اختیار اس نے کیا صرف اک عکس وفا پر ہی نہیں ڈالی ہے خاک آئینہ سازوں کو بھی ...