قومی زبان

کبھی تیرے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا

کبھی تیرے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا نیا آرزو کا مزاج ہے نئے دور کی ہیں رفاقتیں تری قربتوں کا جو زخم تھا تری دوریوں نے مٹا دیا مجھے ہے خبر تجھے عشق تھا فقط اپنے عکس جمال سے کہ میں گم ہوں تیرے وجود میں مجھے آئینہ سا بنا ...

مزید پڑھیے

شرط

ابتدا سے پاؤں میرے منجمد ہیں اور میرے سر کی زینت برف کا اک تاج ہے حکمرانی آگ کی چاروں طرف سورج کا پھیلا راج ہے اک کشش کی قید میں سارا بدن ہے اور مسلسل برف میں جکڑے ہوئے پیروں کو حکم رقص ہے شرط ہے کہ برف کو سر پہ سجا کر رقص بھی کرتی رہوں میں اور کرنوں کی تپش کو جذب بھی کرتی رہوں ...

مزید پڑھیے

صدیوں کے رنگ و بو کو نہ ڈھونڈو گپھاؤں میں

صدیوں کے رنگ و بو کو نہ ڈھونڈو گپھاؤں میں آؤ کسی سے پوچھو پتہ ان کا گاؤں میں گھبرا کے بلبلے نے سمندر کی ذات سے پھیلا دیا وجود کو ساری دشاؤں میں آواز خود کو دو تو ملے کچھ جواب بھی آخر پکارتے ہو کسے تم خلاؤں میں ڈھونڈو تو دیوتاؤں کے آدرش ہیں بہت پر آدمی کا رنگ کہاں دیوتاؤں ...

مزید پڑھیے

شہریاروں نے دکھائیں مجھ کو تصویریں بہت

شہریاروں نے دکھائیں مجھ کو تصویریں بہت تیری بستی تک ملیں رستے میں جاگیریں بہت نذر آتش کر رہے ہو آج پر کل دیکھنا ان صحیفوں کی لکھی جائیں گی تفسیریں بہت آج بھی میرے لئے مشکوک ہے تیرا لگاؤ پتھروں پہ نقش دیکھیں میں نے تحریریں بہت سات رنگوں میں بٹی ہو جیسے سورج کی کرن خواب دیکھا ...

مزید پڑھیے

پھر نہ آئے گا یہ لمحہ سوچ لے

پھر نہ آئے گا یہ لمحہ سوچ لے سامنے بہتا ہے دریا سوچ لے کشتیوں کو پھونک کر آگے نہ بڑھ ڈوب جائے گا جزیرہ سوچ لے دیکھ کر اس کو نہتا خوش نہ ہو تجربہ پہلا ہے تیرا سوچ لے اپنے شیشے کے پروں کا کر خیال رخ نہیں اچھا ہوا کا سوچ لے رشتۂ آب و سراب اک خواب ہے تو بھی سایہ میں بھی سایہ سوچ ...

مزید پڑھیے

ہاں کہیں جگنو چمکتا تھا چلو واپس چلو

ہاں کہیں جگنو چمکتا تھا چلو واپس چلو ان سرنگوں میں اندھیرا ہے تو ہو واپس چلو ہم کو ہر اندھے کی فہم منزلت کا ہے شعور کہہ رہا ہے قافلے والوں سے جو واپس چلو اس طرف کے قہقہوں کا راز کچھ کھلتا نہیں اس لئے اپنے ہی ماتم زار کو واپس چلو واپسی کے راستے مسدود ہو جانے سے قبل کس لئے تم ہو ...

مزید پڑھیے

رنگ تعبیر کا ٹوٹے ہوئے خوابوں میں نہیں

رنگ تعبیر کا ٹوٹے ہوئے خوابوں میں نہیں چھاؤں کا لمس کہیں جیسے سرابوں میں نہیں کر دیا ساحر تہذیب نے پتھر ان کو چہرے لمحوں کے وہ ریشم کی نقابوں میں نہیں آ کے ساحل پہ ہوس کے نہ یوں موجوں سے ڈرو رنگ گہرائی میں پاؤ گے حبابوں میں نہیں انگ انگ اس کا تھا اک نیلے نشے میں ڈوبا ابدی کیف وہ ...

مزید پڑھیے

ابجد

نظم کی تختی پہ غزل کے ہجے پنجوں پہ گاجنی کے بلکتے بلکتے رشتوں کی ابجد پہ ہراساں کھڑے تھے لمحوں کی رسوئی میں حرفوں کی ہنڈیا عہد نزار سے جڑ گئی نہ غزل کی تختی نہ نظم کے ہجے بس ابجد تھی کہ رشتوں کی جدول میں پڑی پڑی حرفوں کی شناخت بھول گئی

مزید پڑھیے

لگتا ہے وہ آج خواب جیسا

لگتا ہے وہ آج خواب جیسا اک شخص کھلی کتاب جیسا کیا اس میں ہے موج آب جیسا بے لمس ہے وہ سراب جیسا ہر شخص پہ سانپ رینگتا ہے ہے زور ہوس عذاب جیسا ہر شخص کو رنج نا تمامی قصے کے ادھورے باب جیسا باتوں میں ہے اس کی زہر تھوڑا تھوڑا سا مزا شراب جیسا میں عکس ہوں اور آئینہ وہ رشتہ ہے سراب و ...

مزید پڑھیے

رہا وہ شہر میں جب تک بڑا دبنگ رہا

رہا وہ شہر میں جب تک بڑا دبنگ رہا مگر خود اپنے خلاف آپ محو جنگ رہا ہوئی جو صبح تو بے برگ و بار تھے اشجار تمام رات ہوا کا عجیب رنگ رہا انا پسند تھا بیساکھیوں کو چھوتا کیوں رہا وہ سرکش و باغی مگر اپنگ رہا بجز دردید و برید اور کیا ہے اس کا مآل وہ پھر بھی ڈور سے ٹوٹی ہوئی پتنگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1232 سے 6203