قومی زبان

ہوا کی زد میں پتے کی طرح تھا

ہوا کی زد میں پتے کی طرح تھا وہ اک زخمی پرندے کی طرح تھا کبھی ہنگامہ زا تھا بے سبب وہ کبھی گونگے تماشے کی طرح تھا کھلونوں کی نمائش تھی جہاں وہ کسی گم گشتہ بچے کی طرح تھا سنبھلتا کیا کہ سر سر سیل میں وہ اکھڑتے گرتے خیمے کی طرح تھا اگلتا بلبلے پھول اور شعلے وہ چابی کے کھلونے کی ...

مزید پڑھیے

نہیں ہے کوئی دوسرا منظر چاروں اور

نہیں ہے کوئی دوسرا منظر چاروں اور پھیلا ہے تاریک سمندر چاروں اور زندہ ہوں بس ایک یہی ہے میرا جرم لوگ کھڑے ہیں لے کر پتھر چاروں اور کس دریا کو ڈھونڈے یہ جنموں کی پیاس آگ لگی ہے میرے اندر چاروں اور وہم و خرد کے مارے ہیں شاید سب لوگ دیکھ رہا ہوں شیشے کے گھر چاروں اور چھوٹے سے ...

مزید پڑھیے

یقین ہے کہ وہ میری زباں سمجھتا ہے

یقین ہے کہ وہ میری زباں سمجھتا ہے مگر زباں کے اشارے کہاں سمجھتا ہے فراز دار کو جو آسماں سمجھتا ہے اسے بھی کب یہ علوئے مکاں سمجھتا ہے اسے پتا ہے کہ رکتی نہیں ہے چھانو کبھی تو پھر وہ ابر کو کیوں سائباں سمجھتا ہے طلسم خواب ہوا پاش پاش کب کا مگر حقیقتوں کو وہ پرچھائیاں سمجھتا ...

مزید پڑھیے

بال و پر ہوں تو فضا کافی ہے

بال و پر ہوں تو فضا کافی ہے ورنہ پرواز انا کافی ہے ہم گماں گشت پرندوں کے لیے آسماں بھی ہو تو ناکافی ہے اس خدائی سے نہیں کوئی غرض ہم کو بس نام خدا کافی ہے یہ جو اک حرف دعا ہے لب پر نارسا ہو کہ رسا کافی ہے کچھ نہیں ذات کے صحرا میں مگر منتشر ہونے کو جا کافی ہے زرد پتے میں کوئی ...

مزید پڑھیے

تیسری بارش سے پہلے

اس روز موسم خزاں کی پہلی بارش ہوئی جب اس نے میرے در سے آخری بار قدم نکالا اس نے میری رسوئی سے ایک نوالہ نہ لیا میرے کنویں سے ایک گھونٹ نہ پیا اور میرے ہونٹوں کا ایک بوسہ نہ لیا بلکہ پہلے لئے ہوئے سارے بوسے تھوک دیئے جب موسم خزاں کی دوسری بارش ہوئی تو میری رسوئی میں ایک سانپ ...

مزید پڑھیے

اک عمر کی دیر

صفحۂ دل سے ترا نام مٹانے میں مجھے دیر لگی پوری اک عمر کی دیر! اشک غم۔۔۔ قطرۂ خوں۔۔۔ آب مسرت سے مٹا کر دیکھا رنگ دنیا بھی ملا۔۔۔ رنگ تمنا بھی لگا کر دیکھا مکتب عشق میں جتنے بھی سبق یاد کیے یاد رہے عرصۂ زیست میں خوابوں کے خرابے تھے بہت ان خرابوں میں خیالوں کے نگر جتنے بھی آباد ...

مزید پڑھیے

سمندر کی جانب سے آتی ہوا میں

کبھی نیلگوں آسماں کے تلے سبز ساحل پہ ملنے کا وعدہ ہوا تھا سمندر کسی خواب سا خوش نما تھا سمندر کے پہلو میں شہر دل افروز کا ہمہمہ تھا یہ شہر آج اشکوں میں ڈوبا ہوا ہے یہاں سے وہاں تک ہر اک رہ گزر پر اک آسیب کا سامنا ہے نگاہوں کے آگے دھواں ہے سمندر کہاں ہے سمندر کے ساحل پہ ملنے کا وعدہ ...

مزید پڑھیے

ہجر کی عمر بڑھی ہے

ہجر کی عمر بڑھی ہے تو ہم ان آنکھوں کو اب کسی خواب نگر میں نہیں جانے دیں گے غم سے اب دوستی کر لیں گے خوشی کو نہیں آنے دیں گے ہجر کے وقت میں احوال شب و روز کا کیا پوچھتے ہو اس میں ساعت بھی زمانوں سے بڑی ہوتی ہے دن کھڑا ہوتا ہے جلاد کے مانند سبھی راتوں پر رات ڈائن کی طرح وقت کے ناکے میں ...

مزید پڑھیے

کسی رت میں جب مسکراتا ہے تو

کسی رت میں جب مسکراتا ہے تو نمو پتھروں میں جگاتا ہے تو ترا شعلۂ نطق روح رواں افق تا افق پھیل جاتا ہے تو کبھی کھولتا ہے سمندر کے راز کبھی ایک قطرہ چھپاتا ہے تو کبھی غرق کر دے سفینے ہزار کبھی ایک کشتی تراتا ہے تو کبھی پھونک دے وادئ گل تمام کبھی آگ میں گل کھلاتا ہے تو کبھی شرح ...

مزید پڑھیے

ریت پر مجھ کو گماں پانی کا تھا

ریت پر مجھ کو گماں پانی کا تھا صبر میرا امتحاں پانی کا تھا سب جنون و عزم کاغذ کشتیاں سامنا جب بے کراں پانی کا تھا سنگ صحرا میں تھی دریا کی نمود سنگ صحرا میں زیاں پانی کا تھا یوں ملی سیلاب میں جائے پناہ سر پہ میرے سائباں پانی کا تھا آگ بھی برسی درختوں پر وہیں کال بستی میں جہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1233 سے 6203