وجود مٹ گیا پروانوں کے سنبھلنے تک
وجود مٹ گیا پروانوں کے سنبھلنے تک دھواں ہی اٹھتا رہا شمع کے پگھلنے تک کسے نصیب ہوئی اس کے جسم کی خوشبو وہ میرے ساتھ رہا راستہ بدلنے تک اگر چراغ کی لو پر زبان رکھ دیتا زبان جلتی بھی کب تک چراغ جلنے تک جہاں بھی ٹھہرو گے رک جائے گا تمہارا وجود تمہارے ساتھ چلے گا تمہارے چلنے ...