جمنا
دھیمی دھیمی بہنے والی ایک نہر دل نشیں آب جو چھوٹی سی اک نازک خرام و نازنیں تشنگیٔ شوق گنگا میں بجھانے کے لیے جا رہی ہے اپنی ہستی کو مٹانے کے لیے یہ وہ جمنا ہے کہ دل کش جس کا ہے انداز حسن دیکھتے ہیں آہ عاشق جس کا خواب ناز حسن یہ وہ جمنا ہے کہ گاتی ہیں سخنور جس کے گیت مطربان خوش گلو کی ...