قومی زبان

بڑھتے ہیں خود بہ خود قدم عزم سفر کو کیا کروں

بڑھتے ہیں خود بہ خود قدم عزم سفر کو کیا کروں زیر قدم ہے کہکشاں ذوق نظر کو کیا کروں تیز ہے کاروان وقت تشنہ ہے جستجو ابھی روک لوں زندگی کہاں شام و سحر کو کیا کروں دیر و حرم کے رنگ بھی دیکھ چکی نگاہ زیست دل میں تو ہے وہی چبھن آہ سحر کو کیا کروں آج بھی ہے وہی مقام آج بھی لب پہ ان کا ...

مزید پڑھیے

اے جان جاں ترے مزاج کا فلک بھی خوب ہے

اے جان جاں ترے مزاج کا فلک بھی خوب ہے تھکے تھکے سے بام پر حسیں دھنک بھی خوب ہے عجیب سحر ہے ترے حروف پاکباز میں ترے مزاج شعلہ بار کی لپک بھی خوب ہے ترے لباس میں بسی ہیں جاں نواز خوشبوئیں مشام جاں ہے عطر بیز یہ مہک بھی خوب ہے نہیں ہے معتبر جو اپنا وصف خود بیاں کرے اے جان اعتبار اس ...

مزید پڑھیے

تھی یہ امید کہ وہ لوٹ کے گھر آئے گا

تھی یہ امید کہ وہ لوٹ کے گھر آئے گا کیا خبر تھی کہ بہ انداز دگر آئے گا کئی زخموں کے کھنڈر اب بھی ہیں میرے دل پر جب کریدو گے نیا رنگ ابھر آئے گا مسکرائے گی جب آنکھوں میں ستاروں کی لڑی آئنہ بن کے حسیں خواب نظر آئے گا جب بھی لہرائے گی پلکوں پہ تری یاد کی شام دل کی وادی میں نیا چاند ...

مزید پڑھیے

محبت اور خوشبو کا نگر تقسیم ہو جائے

محبت اور خوشبو کا نگر تقسیم ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو گھر کا شجر تقسیم ہو جائے لہو روتی ہوئی آنکھیں لہو روتی ہی رہتی ہیں ہوس کے ہاتھ جب پرکھوں کا گھر تقسیم ہو جائے کبھی بھی آگ کی فصلیں یہاں پر اگ نہیں سکتیں محبت سارے عالم میں اگر تقسیم ہو جائے اداسی کے گھنے جنگل میں رستے جا نکلتے ...

مزید پڑھیے

قحط سالی سی قحط سالی ہے

قحط سالی سی قحط سالی ہے دل تری یاد سے بھی خالی ہے دیکھ تو آسماں کے بستر پر چاند میری طرح سوالی ہے خواب دیکھوں تو کس طرح دیکھوں نیند اس نے مری چرا لی ہے ہم نے بجھتے ہوئے دیے کی لو تیز آندھی میں پھر اچھالی ہے سچ تو یہ ہے کہ کار وحشت میں ہم نے یہ عمر ہی گنوا لی ہے ہجر کی دوپہر میں ...

مزید پڑھیے

اسے کہنا

خزاں کے زرد پتوں کا کوئی سایہ نہیں ہوتا بہت بے مول ہو کر جب زمیں پر آن گرتے ہیں تو یخ بستہ ہوائیں بھی انہی کو زخم دیتی ہیں اسے کہنا کہ مجھ کو بھول کر بے مول نہ کرنا

مزید پڑھیے

تمہارے ہجر کے موتی

تمہارے ہجر کے موتی ابھی پلکوں پہ رکھے ہیں عجب اک خوف سے ہر دم کھلی رکھتی ہوں میں آنکھیں گرے تو ٹوٹ بکھریں گے تمہارے ہجر کے موتی ابھی پلکوں پہ رکھے ہیں یہاں گنجان رستوں پر یہاں پر پیچ گلیوں میں جدائی رقص کرتی ہے چلے آؤ تو اچھا ہے کہ اب تو تھک چکیں آنکھیں تمہارے ہجر کے موتی ابھی ...

مزید پڑھیے

یقین

تو شہر میں نہیں ہے تو شہر جاں کے اندر عالم ہے زلزلوں کا وحشت بچھی ہے ہر سو آنکھوں کی پتلیوں پہ یادیں تمہاری آنسو بن کے رکی ہوئی ہیں اک بھیڑ ہے اگرچہ آنکھوں کے آگے ہر سو خود کو میں دیکھ کتنی تنہا سی لگ رہی تھی پھر ایک دم سے مجھ کو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا برفاب کر گیا تو سرگوشیوں میں خود ...

مزید پڑھیے

ڈرتا رہتا ہوں ہم نشینوں میں

ڈرتا رہتا ہوں ہم نشینوں میں ایک پتھر ہوں آبگینوں میں بات کرنا جنہیں نہیں آتی آج وہ بھی ہیں نکتہ چینوں میں جو بھنور کو سمجھتے ہیں ساحل ایسے بھی لوگ ہیں سفینوں میں محتسب گن لے انگلیوں ہی پر چند ہی رند ہیں کمینوں میں خضر گزرے تھے شہر سے اپنے ہم بھی تھے ایک راہ بینوں میں بیعت حق ...

مزید پڑھیے

محبت کا شکستہ پن نظر کیا آئے باہر سے

محبت کا شکستہ پن نظر کیا آئے باہر سے یہ دیمک تو بدن کو چاٹتی رہتی ہے اندر سے تمہارے ہجر کا یہ درد سر تو مستقل ٹھہرا مجھے لگتا ہے جاں لے کے یہ اترے گا میرے سر سے مری ترتیب میں صحرا مزاجی کار فرما ہے بجھے گی پیاس کیا میری بھلا اشکوں کے ساگر سے تیری دہلیز پہ میں منتظر اپنی نہ رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1216 سے 6203