قومی زبان

تعاقب میرا خوشبو کر رہی تھی

تعاقب میرا خوشبو کر رہی تھی مرے زخموں پہ مرہم دھر رہی تھی میں چھیڑوں پھر وہی ساز محبت اشارے وہ مسلسل کر رہی تھی ہوا دن فکر دنیا نے دبوچا تمہاری یاد تو شب بھر رہی تھی وہ دن بھی تھے کہ تو نے اشک پونچھے تری ممنون چشم تر رہی تھی ہمارا نام کیا صورت نہیں یاد ملاقات ان سے تو اکثر رہی ...

مزید پڑھیے

اسے بھلا نہ سکی نقش اتنے گہرے تھے

اسے بھلا نہ سکی نقش اتنے گہرے تھے خیال و خواب پر میرے ہزار پہرے تھے وہ خوش گماں تھے تو جو خواب تھے سنہرے تھے وہ بد گماں تھے اندھیرے تھے اور گہرے تھے جو آج ہوتی کوئی بات بات بن جاتی اسے سنانے کے امکان بھی سنہرے تھے سماعتوں نے کیا رقص مست ہو ہو کر صدا میں اس کی حسیں بین جیسے لہرے ...

مزید پڑھیے

دھوپ پیچھا نہیں چھوڑے گی یہ سوچا بھی نہیں

دھوپ پیچھا نہیں چھوڑے گی یہ سوچا بھی نہیں ہم وہاں ہیں جہاں دیوار کا سایہ بھی نہیں جانے کیوں دل مرا بے چین رہا کرتا ہے ملنا تو دور رہا اس کو تو دیکھا بھی نہیں آپ نے جب سے بدل ڈالا ہے جینے کا چلن اب مجھے تلخیٔ احباب کا شکوہ بھی نہیں مے کدہ چھوڑے ہوئے مجھ کو زمانہ گزرا اور ساقی سے ...

مزید پڑھیے

اب خیالوں کا جہاں اور نہ آباد کریں

اب خیالوں کا جہاں اور نہ آباد کریں خواب جو بھول چکے ہیں انہیں بس یاد کریں تھپکی دے دے کے سلانے کی ہے عادت دل کو اب کسی اور سے کیوں خود ہی سے فریاد کریں کتنے موسم کے چھلاوے سے گزر کر پہنچی اس ڈگر پہ کہ جہاں لوگ مجھے یاد کریں ہم بھی اب فکر جہاں چھوڑ کے جی بھر ہنس لیں وقت اتنا بھی ...

مزید پڑھیے

ہم جھکاتے بھی کہاں سر کو قضا سے پہلے

ہم جھکاتے بھی کہاں سر کو قضا سے پہلے وقت نے دی ہے سزا ہم کو خطا سے پہلے اپنی قسمت میں کہاں رقص شرر کا منظر شمع جاں بجھ گئی دامن کی ہوا سے پہلے یہ الگ بات کہ منزل کا نشاں کوئی نہ تھا کوہسار اور بھی تھے کوہ ندا سے پہلے مدعا کوئی نہ تھا تیرے سوا کیا کرتے دل دھڑکتا ہی رہا حرف دعا سے ...

مزید پڑھیے

شکار ہو گیا وہ خود ہی اس زمانے کا

شکار ہو گیا وہ خود ہی اس زمانے کا جواز ڈھونڈ رہا تھا مجھے مٹانے کا یہ امتحان فن آذری سے ہے منسوب تراش لیجئے پتھر کوئی ٹھکانے کا کبھی رہا تو نہیں گردش فلک کا ساتھ کہاں سے سیکھا ہے تم نے ہنر ستانے کا مرے خلوص کا جس کو نہ اعتبار آیا فریب کھاتا رہا عمر بھر زمانے کا جو اہل دل ہیں ...

مزید پڑھیے

مسئلہ حسن تخیل کا ہے نہ الہام کا ہے

مسئلہ حسن تخیل کا ہے نہ الہام کا ہے یہ فسانہ ذرا مشکل دل ناکام کا ہے رات دن پہروں پہر اس کی ادا کے چرچے یہ تماشہ بھی مرے واسطے کس کام کا ہے مسکرانے لگے ہر سمت محبت کے چراغ تیرے چہرے کا تصور بھی بڑے کام کا ہے سونی سونی تھیں جو آنکھیں وہ دوبارہ ہنس دیں نظر آیا ہے جو منظر وہ اسی شام ...

مزید پڑھیے

وسعت دامان دل کو غم تمہارا مل گیا

وسعت دامان دل کو غم تمہارا مل گیا زندگی کو زندگی بھر کا سہارا مل گیا ہر دل درد آشنا میں دل ہمارا مل گیا پارہ پارہ ہو چکا تھا پارا پارا مل گیا ہم کہ میخانے کے وارث تھے ہیں اب تک تشنہ لب چند کم ظرفوں کو صہبا کا اجارا مل گیا جس نے خالی جام پٹکا اس مجاہد کو سلام میکدے میں آج پیاسوں ...

مزید پڑھیے

اب ایسی باتیں کوئی کرے جو سب کے من کو لبھا جائیں

اب ایسی باتیں کوئی کرے جو سب کے من کو لبھا جائیں کوئی تو ایسا گیت چھڑے وہ جس کو سنیں اور آ جائیں بے تال ہے کیسی یہ سرگم بے لہرا پنجم ہے مدھم جو راگ ہے دیپک اس من میں اس راگ کو کیسے گا جائیں اب چلنا ہے تو چلنا ہے کیا پاؤں کے چھالوں کو دیکھیں اس دھرتی کی پگ ڈنڈی سے کوئی ٹھکانا پا ...

مزید پڑھیے

ہر آئینے سے میرا دل پوچھتا ہے

ہر آئینے سے میرا دل پوچھتا ہے یہ سالکؔ وہی ہے تو پہچانتا ہے وہ سچ لائے جتنے وہ سب جھوٹ نکلے مجھے جھوٹا کہتے ہیں وہ انتہا ہے خدا آزمائے صنم آزمائے صنم جانتے ہیں خدا جانتا ہے بہت سونی سونی ہیں لیلیٰ کی راہیں کہ مجنوں کا دل بے صدا ہو گیا ہے یہ مانا کہ سب ہیں رواں سوئے منزل جسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1215 سے 6203