قومی زبان

لبوں سے گو ابھی کہتے نہیں ہو

لبوں سے گو ابھی کہتے نہیں ہو محبت تم بھی کم کرتے نہیں ہو شجر پر دیکھ کے خوش ہو رہے ہو ثمر کو توڑ کر چکھتے نہیں ہو میں تم پہ رک گئی ہوں جھیل جیسے مگر دریا ہو تم رکتے نہیں ہو محبت تجھ کو اشکوں سے بھی سینچا وہ پودے ہو کہ جو بڑھتے نہیں ہو بہت مغرور ہوتے جا رہے ہو یہ کیا کہ بات بھی ...

مزید پڑھیے

بارہا دل توڑنا اچھا نہیں

بارہا دل توڑنا اچھا نہیں مان جاؤ روٹھنا اچھا نہیں زندگی ہر موڑ پر غم دے چکی اب ترا منہ پھیرنا اچھا نہیں ہاتھ کو ہاتھوں میں لینا ٹھیک پر چوڑیوں کو توڑنا اچھا نہیں غیر سے ملنا گوارا ہے تمہیں بس ہمارا سامنا اچھا نہیں عشق کو سنجیدگی سے لو میاں عشق میں یہ بچپنا اچھا نہیں جیتنا ...

مزید پڑھیے

مجھے کہانی کے کردار سے محبت تھی

مجھے کہانی کے کردار سے محبت تھی کہ جس میں سائے کو دیوار سے محبت تھی وہ اس لئے بھی نہیں چھوڑتا تھا ساتھ مرا اسے بھی اپنے عزادار سے محبت تھی کچھ اس لئے بھی میں صحرا سے آ گئی جنگل مری سرشت میں اشجار سے محبت تھی عزیز تر مجھے چادر تھی جس طرح اپنی اسے بھی ویسے ہی دستار سے محبت ...

مزید پڑھیے

عبرت دہر ہو گیا جب سے چھپا مزار میں

عبرت دہر ہو گیا جب سے چھپا مزار میں خیر جگہ تو مل گئی دیدۂ اعتبار میں توڑ رہا ہے باغباں پنکھڑیاں بہار میں کوئی تو ہو فدائے گل ایک نہیں مزار میں محو ہوں یاد چہرۂ شاہد گل عذار میں اب یہ خزاں نصیب دل جا کے ملا بہار میں اوج نہاد طبع کی مٹ کے بھی شان رہ گئی مر کے میں سوئے آسماں مل کے ...

مزید پڑھیے

کٹ گیا رشتۂ الفت جو ترا نام آیا

کٹ گیا رشتۂ الفت جو ترا نام آیا دل وفادار تھا لیکن نہ مرے کام آیا عشق کے ہاتھوں چراغ ایک سر شام آیا تیرہ بختی میں مرا دل ہی مرے کام آیا طلب ملک عدم سے نہ جہاں دیکھ سکا ابھی منزل پہ نہ اترا تھا کہ پیغام آیا نازش دہر نہ تھا میں تو پس مردن کیوں محفل غیر میں سو بار مرا نام آیا شمع ...

مزید پڑھیے

آوارگی ہواؤں کی

ابھی نہیں ابھی موسم نہیں بہاروں کا ابھی تو برف بھی پگھلی نہیں ہے ہونٹوں کی ابھی تو رنگ بھی بدلا نہیں ہے زخموں کا ابھی تو دشت سے لوٹے نہیں ہیں سودائی گھروں کے دیپ ابھی روشنی نہیں دیں گے ابھی چراغ جلانے کی رت نہیں آئی ابھی نہیں ابھی موسم نہیں بہاروں کا ابھی تو دیکھیے آوارگی ہواؤں ...

مزید پڑھیے

چاند میری زمین پھول میرا وطن

چاند میری زمیں پھول میرا وطن میرے کھیتوں کی مٹی میں لعل یمن میرے ملاح لہروں کے پالے ہوئے میرے دہقاں پسینوں کے ڈھالے ہوئے میرے مزدور اس دور کے کوہ کن چاند میری زمیں پھول میرا وطن میرے فوجی جواں جرأتوں کے نشاں میرے اہل قلم عظمتوں کی زباں میرے محنت کشوں کے سنہرے بدن چاند میری زمیں ...

مزید پڑھیے

سنسر شپ

چھپائیں گے کس طرح اہل چمن سے وہ روداد غم ساکنان قفس کی یہاں رسم نامہ بری گلستاں کی ہواؤں کو سونپی گئی ہے گل و برگ ہیں رازداں داستان ستم کے

مزید پڑھیے

کب آئے گا وہ شہزادہ توبہ ہے

کب آئے گا وہ شہزادہ توبہ ہے کھول کے بیٹھی ہوں دروازہ توبہ ہے اب تجھ سے ملنے کی خاطر سجتی ہوں ناک میں موتی منہ پر غازہ توبہ ہے چائے میرے ہاتھ سے گرنے والی تھی اس نے اس انداز سے گھورا توبہ ہے ہونٹوں پر وہ آنکھیں جیسے ٹھہری ہیں تتلی پر اک بھنورا چھوڑا توبہ ہے شرم سے پانی ہو جانے ...

مزید پڑھیے

تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہے

تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہے کیجیے کیا کہ لگی دل کی بری ہوتی ہے منع کرتا ہے تڑپنے سے قفس میں صیاد نالے کرتا ہوں تو گردن پہ چھری ہوتی ہے ہر بدی کرتی ہے انسان کو دنیا میں ہلاک سم قاتل ہے وہ عادت جو بری ہوتی ہے اہل دل عشق میں دم مار سکیں کیا ممکن رگ جاں کے لئے ہر سانس چھری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1203 سے 6203