قومی زبان

خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیں

خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیں غیر کے ہو گئے ایسے کہ وطن یاد نہیں چاندنی حسن کی اچھی ہے مگر ناز نہ کر تجھ کو اس چاند کا تاریک گہن یاد نہیں اس کی محفل میں ہوا تھا کبھی اپنا بھی گزر باتیں کچھ کی تھیں مگر مجھ کو دہن یاد نہیں شکوۂ ہجر کی خواہش نہ کر اے دل کہ تجھے سامنا ہو تو کوئی ...

مزید پڑھیے

حسن کی وہ صورتیں خواب پریشاں ہو گئیں

حسن کی وہ صورتیں خواب پریشاں ہو گئیں پردۂ دل میں لگا کر آگ پنہاں ہو گئیں مٹ کے بھی آئینۂ رخسار خوباں ہو گئیں خون اہل عشق کی بوندیں گلستاں ہو گئیں چھپ گئیں آنکھوں سے ذروں میں نمایاں ہو گئیں بستیاں اجڑی ہوئی مل کر بیاباں ہو گئیں دیکھتا کون اور بجھاتا کون اس دل کی لگی ہڈیاں جل ...

مزید پڑھیے

ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میں

ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میں پیوند لگا دیتا میں نفس مجرد میں بیداری فرقت میں تھا رمز قیامت کا جاگا ہوں کہ نیند آئے تاریکئ مرقد میں اس دفتر ہستی میں تعلیم بہت کم ہے دو حرف نظر آئے دیباچۂ ابجد میں گو خاک کا پتلا ہوں لیکن کوئی کیا سمجھے میں بھی کوئی شے ہوں جو گردوں ہے مری کد ...

مزید پڑھیے

یوں اکیلا دشت غربت میں دل ناکام تھا

یوں اکیلا دشت غربت میں دل ناکام تھا پیچھے پیچھے موت تھی آگے خدا کا نام تھا بنتے ہی گھر ابتدا میں رو کش انجام تھا تنکے چن کر جب نظر کی آشیاں اک دام تھا بے محل دل کے بجھانے سے انہیں کیا مل گیا جس کو شمع صبح سمجھے وہ چراغ شام تھا حال منعم خود غرض کیا جانیں مے خانہ میں کل رند تھے بے ...

مزید پڑھیے

بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے

بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے نہ ہو شراب تو پہروں گھٹا برستی ہے نہ شمع روتی ہے آ کر نہ برق ہنستی ہے میں جب سے قبر میں ہوں بیکسی برستی ہے سنے تو کون سنے میکدے میں واعظ کی یہاں وہی ہیں جنہیں شغل مے پرستی ہے میں سخت جاں نہیں خنجر بھی تیز ہے لیکن نگاہ یاس ہے قاتل کی تیز دستی ہے بھرے ...

مزید پڑھیے

تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانا

تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانا محبت کیا ہے مرنے کے لئے تیار ہو جانا نہ کام آیا ان آہوں کا فلک کے پار ہو جانا مرے سونے سے مشکل تھا ترا بیدار ہو جانا نظر ملتے ہی ان سے آ گیا سارا اثر دل میں اسے آتا نہ تھا پہلے کبھی بیمار ہو جانا وفا کا راہبر ہے تودۂ خاکی کی جان اس کو کماں کش دل ...

مزید پڑھیے

دل اپنے رنج و غم سے جام جہاں نما تھا

دل اپنے رنج و غم سے جام جہاں نما تھا اب آپ ہی بتائیں اچھا تھا یا برا تھا صحرا تھا یا چمن تھا جانے وہی کہ کیا تھا اس دل کی انتہا ہے جو مدتوں جلا تھا تڑپوں تو راز کھولوں سنبھلوں تو عشق نا خوش جس حال کو میں سمجھا اچھا وہی برا تھا پوچھا نہ زندگی میں یوں تو کسی نے آ کر مرنے کے بعد جو ...

مزید پڑھیے

یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میری

یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میری حباب ہو گئی آخر کو آبرو میری نہ اپنی خود غرضی ہے نہ ہی شکایت دوست ہے عشق و حسن کے مابین گفتگو میری کوئی نکلنے نہ دے گا زمین ہو کہ فلک زمانے بھر کے مقابل ہے آرزو میری قنا کے بعد میں دیتا نہیں کسی کو جواب صفت تھی آپ کی جو اب ہوئی وہ خوں میری زباں ...

مزید پڑھیے

چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیں

چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیں خوشی صیاد کو ہوتی ہے جب فریاد کرتے ہیں نہ شرماؤ اگر ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں محبت ہے تمہاری عادتوں کو یاد کرتے ہیں ہماری داستان غم رلاتی ہے زمانے کو وہ ہم ہیں جو زبان غیر سے فریاد کرتے ہیں خدا آباد رکھے ہم صفیران گلستاں کو جو کوئی پھول ...

مزید پڑھیے

میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیا

میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیا غم نے شاگرد کیا پھر مجھے استاد کیا حسن جاں سوز نے وحدت میں مجھے یاد کیا میں یہ سمجھا کہ مجھے عشق نے برباد کیا نہیں معلوم وہ میں ہوں کہ کوئی اور اسیر سن رہا ہوں کہ گرفتار کو آزاد کیا جس جگہ کھائی تھی ٹھوکر وہیں تربت تھی مری بھولنے والے نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1204 سے 6203