قومی زبان

خالی بورے میں زخمی بلا

جان محمد خان سفر آسان نہیں دھان کے اس خالی بورے میں جان الجھتی ہے پٹ سن کی مضبوط سلاخیں دل میں گڑی ہیں اور آنکھوں کے زرد کٹوروں میں چاند کے سکے چھن چھن گرتے ہیں اور بدن میں رات پھیلتی جاتی ہے۔۔۔ آج تمہاری ننگی پیٹھ پر آگ جلائے کون انگارے دہکائے کون جد و جہد کے خونیں پھول کھلائے ...

مزید پڑھیے

مردہ خانہ

مری رگوں میں خنک سوئیاں پروتا ہوا برہنہ لاشوں کے انبار پر سے ہوتا ہوا ہوا کا ہاتھ بہت سرد، موت جیسا سرد وہ جا رہا ہے، وہ دروازے سر پٹکنے لگے وہ بلب ٹوٹ گیا، سائے ساتھ چھوڑ گئے وہ ناچتے ہوئے بھیجے کسی رقیق سے تر وہ رینگتے ہوئے بازو، وہ چیختے ہوئے سر وہ ہونٹ نیم تراشیدہ، دانت نکلے ...

مزید پڑھیے

صدمہ

وہ سولہ بہاروں کے بعد دوبارہ ملا ہے تو کیا ہے کہ مختار کو دیکھ کر میری آنکھوں میں حیرت کے آثار پیدا ہوئے میرا دل بجھ گیا ہے وہ عیار یاروں کا یار اپنا لہجہ اسی طرح سے نرم ریز اور نظر تیز رکھے مگر اس سے کس نے کہا تھا کہ خوشبو، شراب اور عورت سے پرہیز رکھے۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیے

میں اور میں!

میں ہوں میں وہ جس کی آنکھوں میں جیتے جاگتے درد ہیں درد کہ جن کی ہمراہی میں دل روشن ہے دل جس سے میں نے اک دن اک عہد کیا تھا عہد کہ دونوں ایک ہی آگ میں جلتے رہیں گے آگ کہ جس میں جل کر جسم ہوا خاکستر جسم کہ جس کے کچے زخم بہت دکھتے تھے زخم کہ جن کا مرہم وقت کے پاس نہیں ہے وقت کہ جس کی زد ...

مزید پڑھیے

محاصرہ

خواب کی بالکنی بالکنی پر یہ سرکتی ہوئی پرچھائیں مری۔۔۔ سامنے بالکنی کے نیچے برف میں لتھڑا ہوا روشنی روتا ہوا بلب ابھی زندہ ہے ایک احساس زیاں باقی ہے رات کے زینۂ پیچاں سے اترنے لگی تنہائی مری اس کے کتبے پہ تباہی کا یہ تازہ بوسہ صرف بوسے کا نشاں باقی ہے نیم جاں دائرۂ نوحہ گراں ...

مزید پڑھیے

سرخ گلاب اور بدر منیر

اے دل پہلے بھی تنہا تھے، اے دل ہم تنہا آج بھی ہیں اور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے، جو داغ کہ بدر منیر ہوئے اس طرح سے کب تک جینا ہے، میں ہار گیا اس جینے سے کوئی ابر اڑے کسی قلزم سے رس برسے مرے ویرانے پر کوئی جاگتا ہو کوئی کڑھتا ہو مرے دیر سے ...

مزید پڑھیے

چھپ کے ملنے آ جائے روشنی کی جرأت کیا

چھپ کے ملنے آ جائے روشنی کی جرأت کیا روح کے اندھیرے میں چاند کی ضرورت کیا تو مری محبت کے قتل میں ملوث ہے اور مجھی سے کہتا ہے خون کی شہادت کیا کون میری آنکھوں کے بند توڑ دیتا ہے دل کے قید خانے میں قید ہے قیامت کیا ایک دوسرے کو ہم بھول جائیں گے اک دن اتنی بے قراری کیوں اس قدر بھی ...

مزید پڑھیے

یوں مرے پاس سے ہو کر نہ گزر جانا تھا

یوں مرے پاس سے ہو کر نہ گزر جانا تھا بول اے شخص تجھے کون نگر جانا تھا روح اور جسم جہنم کی طرح جلتے ہیں اس سے روٹھے تھے تو اس آگ کو مر جانا تھا راہ میں چھاؤں ملی تھی کہ ٹھہر سکتے تھے اس سہارے کو مگر ننگ سفر جانا تھا خواب ٹوٹے تھے کہ آنکھوں میں ستارے ناچے سب کو دامن کے اندھیرے میں ...

مزید پڑھیے

خاک نیند آئے اگر دیدۂ بیدار ملے

خاک نیند آئے اگر دیدۂ بیدار ملے اس خرابے میں کہاں خواب کے آثار ملے اس کے لہجے میں قیامت کی فسوں کاری تھی لوگ آواز کی لذت میں گرفتار ملے اس کی آنکھوں میں محبت کے دیے جلتے رہیں اور پندار میں انکار کی دیوار ملے میرے اندر اسے کھونے کی تمنا کیوں ہے جس کے ملنے سے مری ذات کو اظہار ...

مزید پڑھیے

زمانوں کے خرابوں میں اتر کر دیکھ لیتا ہوں

زمانوں کے خرابوں میں اتر کر دیکھ لیتا ہوں پرانے جنگلوں میں بھی سمندر دیکھ لیتا ہوں جو طوفانوں کے ڈر سے پانیوں میں سر چھپاتی ہیں میں ایسی سیپیوں میں کوئی گوہر دیکھ لیتا ہوں ہمیشہ خوف کے نرغے میں رہتا ہوں مگر پھر بھی ابابیلوں کی منقاروں میں لشکر دیکھ لیتا ہوں وہ دیہاتوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1184 سے 6203