خالی بورے میں زخمی بلا
جان محمد خان سفر آسان نہیں دھان کے اس خالی بورے میں جان الجھتی ہے پٹ سن کی مضبوط سلاخیں دل میں گڑی ہیں اور آنکھوں کے زرد کٹوروں میں چاند کے سکے چھن چھن گرتے ہیں اور بدن میں رات پھیلتی جاتی ہے۔۔۔ آج تمہاری ننگی پیٹھ پر آگ جلائے کون انگارے دہکائے کون جد و جہد کے خونیں پھول کھلائے ...