قومی زبان

خرگوش کی سرگزشت

رقص شام کھڑی ہے بھوری جھاڑیوں، پیلی گھاسوں کے خیموں سے باہر نکلو نرم ہوائیں بالوں کی جھالر سے گزرتی لمبے لمبے کانوں میں خرگوشی کرتی ہیں سرخ کونپلیں سبز پتیاں سانپ چھتریاں۔۔۔ جنگل میں گودام کھلا ہے پاگل اپنے بیکل نتھنوں میں اس خوش بو کا چھلا ڈال کے رقص کرو ہر خطرے کو چکمہ دو چور ...

مزید پڑھیے

دیوار

رگوں میں ناچ رہا ہے اک آتشیں زہراب تری تلاش فقط جسم کا تقاضا ہے تری طلب کے جہنم میں جل رہا ہے بدن لہو پکارتا ہے کیا سنا نہیں تو نے کہ میں نے روح کی دیوار ہی گرا دی ہے

مزید پڑھیے

مستانہ ہیجڑا

مولا تری گلی میں سردی برس رہی تھی شاید اسی سبب سے مستانہ ہیجڑا بھی وسکی پہن کے نکلا ٹینس کے بال کستی انگیا میں گھس گھسا کے پستان بن گئے تھے شہوت کے سرخ ڈورے سرمہ لگانے والی آنکھوں میں تن گئے تھے اک دم سے چلتے چلتے اس نے کمر کے جھٹکے سے راہ چلنے والے شہدوں، حرام خوروں سے التفات ...

مزید پڑھیے

بدگمانی

جو ہو سکے تو ایک روز اعتبار کے عذاب سے گزار دے مجھے کہ احتمال اور ہے صفر نہیں تو پھر صفر سے جنگ کیا خدا کے واسطے مجھے بتا اگر کسی کا انتظار ہی نہ تھا تو ساری عمر کس کے انتظار میں گزر گئی جمال خاں اچک زئی میرا سوال اور ہے

مزید پڑھیے

حاجی بھائی پانی والا

دونوں مشکیزے لبا لب ایک چمبک کی طرح اپنی جانب کھینچتے رہتے اسے فیل بندی قہر تھی مرد گاہک مسخری کرتے ہوئے ڈرتے ذرا محتاط رہتے جھرجھری کا سوانگ بھرتے عورتیں مغموم آنکھوں میں ترس کاڑھے ہوئے اپنے بچوں پر برس پڑتیں اگر وہ بد لحاظ بھولپن سے پوچھ لیتے کیوں نہیں اس کے فلانوں کی ...

مزید پڑھیے

فینٹیسی

رات جمائیاں لے رہی ہے وصل کی سیپی جسم سے گہر پھوٹ رہے ہیں ایک اجنبی لڑکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ننگی اور اکڑوں بیٹھی ہوئی ہے وہ چمن کی آن ہے اور جان اس کی رات کی رانی میں رہتی ہے سوچ رہا ہوں میں اس کی الماری میں اپنے آپ کو تہہ کر کے رکھ دوں

مزید پڑھیے

دنیا

اب یاد نہیں سینے میں کہیں اک سورج تھا سو ڈوب گیا اب اپنا دل ہے کھوٹ بھرا دنیا کو بدلنے اٹھے تھے دنیا نے بدل ڈالا کہ نہیں

مزید پڑھیے

توجیہہ

تو کیا دیکھتا ہوں فضا نور ہی نور تھی پہاڑ اپنے اندر سے پھوٹے ہوئے درد سے جل رہا تھا پڑوسی سمندر سنہرا ہوا تھا بشارت ملی تھی ننوں، کاہنوں کے برہنہ ہجوم داہنے ہاتھ میں اپنے غم اور بائیں میں اپنے سوال اور رانوں میں گھوڑوں کی پیٹھیں پہن کر نکل آئے تھے روشنی کی طرف خامشی سے بڑھے جا ...

مزید پڑھیے

پام کے پیڑ سے گفتگو

مجھے سبز حیرت سے کیوں دیکھتے ہو وہی تتلیاں جمع کرنے کی ہابی ادھر کھینچ لائی مگر تتلیاں اتنی زیرک ہیں ہجرت کے ٹوٹے پروں پر ہوا کے دوشالے میں لپٹی مرے خوف سے اجنبی جنگلوں میں کہیں جا چھپیں۔۔۔ اور تھک ہار کر واپسی میں سرکتے ہوئے ایک پتھر سے بچتے ہوئے اس طرف میں نے دیکھا تو ایسا ...

مزید پڑھیے

زندہ پانی سچا

پل کے نیچے جھانک کے دیکھو آج ندی طوفانی ہے بپھری لہریں جھاگ اڑاتی ہیں کیا زندہ پانی ہے اور بھنور پل کے بے رنگ ستونوں سے ٹکراتے ہیں جن پر بوجھ ہے اس پل کا وہ شانے ٹوٹے جاتے ہیں وہ اک کبڑا پیڑ ندی پر یوں جھک آیا ہے جیسے ایک کنارہ ہاتھ بڑھا کر دوسرے سے ملنا چاہے دور اک میڈک چیخ رہا ہے، ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1183 سے 6203