خرگوش کی سرگزشت
رقص شام کھڑی ہے بھوری جھاڑیوں، پیلی گھاسوں کے خیموں سے باہر نکلو نرم ہوائیں بالوں کی جھالر سے گزرتی لمبے لمبے کانوں میں خرگوشی کرتی ہیں سرخ کونپلیں سبز پتیاں سانپ چھتریاں۔۔۔ جنگل میں گودام کھلا ہے پاگل اپنے بیکل نتھنوں میں اس خوش بو کا چھلا ڈال کے رقص کرو ہر خطرے کو چکمہ دو چور ...