جس کا راہب شیخ ہو بت خانہ ایسا چاہیے
جس کا راہب شیخ ہو بت خانہ ایسا چاہیے محتسب ساقی بنے مے خانہ ایسا چاہیے رکھتا ہے سر خوش ہمیں ایک چشم میگوں کا خیال ہو نہ جو پیماں شکن پیمانہ ایسا چاہیے ہو خیال دیر دل میں اور نہ ہو پاس حرم عاشقوں کا مسلک رندانہ ایسا چاہیے اک نگاہ ناز پر قرباں کرے ہوش و خرد عشق بازی کے لیے فرزانہ ...