قومی زبان

خلا میں لڑھکتی زمین

زمیں بانجھ چہروں کے ہمراہ چلتی چلی جا رہی ہے خلا اپنی برفاب سی وسعتوں میں زمانے اگلتا ہوا چل رہا ہے سفر زاویوں کی پناہوں میں بیٹھا ہوا خواب میں ڈھل رہا ہے زمیں بانجھ چہروں کے ہمراہ چلتی چلی جا رہی ہے ہوا اپنی سانسوں کے بارود میں خواہشوں کو الٹتی ہوئی بہہ رہی ہے زمیں بانجھ چہروں ...

مزید پڑھیے

وقت کا نوحہ

میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے صحن میں دھواں پھیلتا جا رہا ہے گھروں کی چلمنوں سے اس پار باہر بیٹھی ہوا رو رہی ہے نظام سقا پیاس کی اوک کے سامنے سبیل لگائے ہوئے العطش بانٹتا ہے زمانہ پیاس کے نوحے پر ماتمی دف بجا رہا ہے ڈبلیو ٹی او اناج کی گٹھریوں پہ بیٹھی بھوکوں کو امن کے حروف سے ...

مزید پڑھیے

آگہی

چند سمجھوتوں کا لامتناہی سلسلہ ہے جو مجھے میرے شعور کے انعام میں دیا جا رہا ہے زندگی صرف اک طویل ہجر کا ذائقہ ہے جو مجھے عشق کے الزام میں دیا جا رہا ہے شاعری جذبوں کو لفظ سے گانٹھ کر مار دینے کا حوصلہ ہے جو مجھے بندگی کے نام پر دیا جا رہا ہے

مزید پڑھیے

تلخیٔ جام ڈولنے جیسی

تلخیٔ جام ڈولنے جیسی تشنگی ہونٹ کھولنے جیسی اس قدر شور روح میں برپا خاموشی میری بولنے جیسی ساعت شوق بو گیا ہے کوئی خون میں زہر گھولنے جیسی لو یہ امید پھر جگاتی ہے ایک آہٹ ٹٹولنے جیسی خواب اور خواہشوں کی قسمت ہے خالی رستوں پہ رولنے جیسی

مزید پڑھیے

ہزار ٹوٹے ہوئے زاویوں میں بیٹھی ہوں

ہزار ٹوٹے ہوئے زاویوں میں بیٹھی ہوں خیال و خواب کی پرچھائیوں میں بیٹھی ہوں تمہاری آس کی چادر سے منہ چھپائے ہوئے پکارتی ہوئی رسوائیوں میں بیٹھی ہوں ہر ایک سمت صدائیں ہیں چپ چٹخنے کی خلا میں چیختی تنہائیوں میں بیٹھی ہوں نگاہ و دل میں اگی دھوپ کو بجھاتی ہوئی تمہارے ہجر کی ...

مزید پڑھیے

وقت بھی اب مرا مرہم نہیں ہونے پاتا

وقت بھی اب مرا مرہم نہیں ہونے پاتا درد کیسا ہے جو مدھم نہیں ہونے پاتا کیفیت کوئی ملے ہم نے سنبھالی ایسے غم کبھی غم سے بھی مدغم نہیں ہونے پاتا میرے الفاظ کے یہ ہاتھ بھی شل ہوں جیسے ہو رہا ہے جو وہ ماتم نہیں ہونے پاتا دل کے دریا نے کناروں سے محبت کر لی تیز بہتا ہے مگر کم نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

نگاہ خاک! ذرا پیراہن بدلنا تو

نگاہ خاک! ذرا پیراہن بدلنا تو وبال روح مرا یہ بدن بدلنا تو حقیقتوں کے سفر میں بہت اکیلی ہوں مجاز عشق! ذرا بانکپن بدلنا تو جنوں کے بوجھ سے تھکنے لگا زمان و خلا غریب شوق ذرا پھر وطن بدلنا تو نیا ملے تو کوئی ذائقہ تمنا کو دل تباہ مری یہ جلن بدلنا تو سلگ رہی ہوں ابھی بھی مگر مزا ہی ...

مزید پڑھیے

جب آہ بھی چپ ہو تو یہ صحرائی کرے کیا

جب آہ بھی چپ ہو تو یہ صحرائی کرے کیا سر پھوڑے نہ خود سے تو یہ تنہائی کرے کیا گزری جو ادھر سے تو گھٹن سے یہ مرے گی حبس دل وحشی میں یہ پروائی کرے کیا کہتی ہے جو کہنے دو یہ دنیا مجھے کیا ہے زندانی احساس میں رسوائی کرے کیا ہر حسن و ادا دھنس گئے آئینے کے اندر جب راکھ ہوں آنکھیں تو یہ ...

مزید پڑھیے

آمریت کا قصیدہ

بھاری بوٹوں تلے روندتے جائیے کونپلوں کے بدن آہٹوں کے دیے بھاری بوٹوں تلے روندتے جائیے ریسماں باندھ کر خواب ہنستے رہے حبس کی تال پر سانس چلتے رہے چاہئے آپ کو اور کیا چاہئے بھاری بوٹوں تلے روندتے جائیے شام لو کو لیے رات سہنے گئی درد کی اوڑھنی خاک پہنے گئی ڈھانپئے شوق سے ہر کرن ...

مزید پڑھیے

عجائب خانہ

مرا وجود دیکھتے ہی دیکھتے ایک عجائب خانے میں ڈھل رہا ہے کہ میرے لا شعور نے آثار قدیمہ کی نادر عنایتوں کو چھپا کے مجھ سے مجھ ہی میں جمع کر دیا ہے یہاں کہیں کسی ریک میں مرے حنوط شدہ حرف اور لمحے پڑے ہوئے ہیں جنہیں نہ جانے کون سا مسالہ لگا دیا گیا ہے کہ مرے جسم کی حرارت سے بھی وہ گل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1158 سے 6203