قومی زبان

سائے کا اضطراب

آج تم تک پہنچ کر تمہاری آنکھوں کے آئینوں میں جھانک کر خود کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ میرا جسم تو تم تک آتے آتے کہیں بیچ رستے میں گم ہو گیا تھا میرا دل!! کسی اور سینے میں دبا دیا گیا تھا مرے ہونٹ سرخیوں کی تہوں کے نیچے پڑے پڑے سیاہ ہو چکے تھے میری خوشبو جو میں تمہارے لیے لا رہی تھی کسی ...

مزید پڑھیے

وقت بھی مرہم نہیں ہے

مجھے سانپ سیڑھی کے اس کھیل سے آج گھن آ رہی ہے مرے دل کے پانسے پہ کھودے گئے یہ عدد مجھ کو محدود کرنے لگے ہیں بساط زیاں پر مرے خواب کا ریشمی اژدہا چال کے پیرہن کو نگلنے لگا ہے میری جست کی سیڑھیاں سوختہ ہڈیوں کی طرح بھربھری ہو کے جھڑنے لگی ہیں کھیل ہی کھیل میں سبز چوکور خانے کسی قبر ...

مزید پڑھیے

پرائے اجنبی آنگن میں

ڈالر اور درہم کے لیے سینچا گیا ہوں یہ مرے سبزے کی خوبی تھی جبھی تو مجھ کو دھرتی سے نکالا مل گیا تھا اور اب اس اجنبی بوتل میں میرے سبز رہنے کے ہنر کو آزمایا جا رہا ہے مرے اپنے وطن کی خاک سے مجھ کو بچایا جا رہا ہے چھپایا جا رہا ہے مجھے ویران کر کے گھر سجایا جا رہا ہے غلامی اور ...

مزید پڑھیے

صداؤں کا سمندر

صداؤں کا سمندر میرے جسم میں ایک صداؤں کا سمندر ٹھہر گیا ہے یہ میری آنکھ کسی خواب کے پیہم چٹخنے کی گونج دے رہی ہے میں اپنی کوکھ میں سے خاموشیوں کے ہمکنے کی آواز سن رہی ہوں اور پھر! میری انگلی کی پوروں سے میرے حرف بہے جا رہے ہیں میرے خون کی روانیاں جسم کی نالیوں میں سے کسی بپھرتی ...

مزید پڑھیے

بے پروں کی تتلی

یہ جھاڑن کی مٹی سے میں گر رہی ہوں یہ پنکھے کی گھوں گھوں میں میں گھومتی ہوں یہ سالن کی خوشبو پہ میں جھومتی ہوں میں بیلن سے چکلے پہ بیلی گئی ہوں توے پر پڑی ہوں ابھی پک رہی ہوں یہ ککر کی سیٹی میں میں چیختی ہوں کسی دیگچی میں پڑی گل رہی ہوں مگر جی رہی ہوں

مزید پڑھیے

اپنی ہم زاد کے لیے

یہ مرے رو بہ رو کون ہے؟ جسم و جاں چیتھڑے کرنے والی مری جاں تو مری کون ہے؟؟؟ تیری آہیں مری تیری چیخیں مری تیرے زخموں کی آہٹ مرے جسم پر درد سہہ کے مجھے زندگی دینے والی مری جاں تو مری کون ہے؟ جبر تجھ کو ملے خوف اس کوکھ میں ہجر تو نے پئے زہر اس سوچ میں ریسماں باندھ کر پنکھڑی دینے والی ...

مزید پڑھیے

بستر اور باورچی

ہزار صدیوں کے سفر کے باوجود بنت حوا کا یہ سفر تو ازل سے اب تک تمہاری خواب گاہ اور دالان کے درمیان قید کر دیا گیا ہے نہ جانے کتنے قدم ہیں جو تمہارے بستر میں حنوط ہو کر پڑے ہوئے ہیں کتنی منزلیں ہیں جو تمہارے بستر پر باورچی خانے کے درمیان دفن ہو چکی ہیں

مزید پڑھیے

بنت حوا

بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے میں تماشا نہیں اپنا اظہار ہوں سوچ سکتی ہوں سو لائق دار ہوں میرا ہر حرف ہر اک صدا جرم ہے اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے مجھ میں احساس کیوں ہو کہ عورت ہوں میں زندگی کیوں لگوں؟ بس ضرورت ہوں میں یہ مری آگہی بھی مرا جرم ہے اور پھر ...

مزید پڑھیے

حیرت کدہ

گریباں سے پہلے یہ گردن تو گردن سے پہلے یہ مہروں کی خود پر چڑھائی قلم روشنائی سے پہلے یہ انگلی تو انگلی سے پہلے رگوں کی ترائی صداؤں سے پہلے دہن یہ زباں اور ان سے بھی پہلے یہ عصبی کڑھائی تماشے سے پہلے یہ پتلی سفیدی کی عریاں طنابیں تو اس سے بھی پہلے اندھیری لکیروں کی کھائی سفر تجھ سے ...

مزید پڑھیے

شیری کا نوحہ

مجھے آج پھر اپنے پاس سے مردہ گوشت کی بو آ رہی ہے مری کوکھ ایک بار پھر خون کے آنسوؤں سے پاک کر دی گئی ہے اور ہوا سے لوریوں کی پہلی چیخ چھین کے میری آواز میں دفن کر دی گئی ہے میرے آسمان نے گہری نیند سے چونکنے کے بعد پھر سے آنکھ موند لی ہے میرے فرہاد نے اپنا عشق ثابت کرنے کے لیے میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1157 سے 6203