سائے کا اضطراب
آج تم تک پہنچ کر تمہاری آنکھوں کے آئینوں میں جھانک کر خود کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ میرا جسم تو تم تک آتے آتے کہیں بیچ رستے میں گم ہو گیا تھا میرا دل!! کسی اور سینے میں دبا دیا گیا تھا مرے ہونٹ سرخیوں کی تہوں کے نیچے پڑے پڑے سیاہ ہو چکے تھے میری خوشبو جو میں تمہارے لیے لا رہی تھی کسی ...