خود سے اپنا آپ ملایا جا سکتا ہے
خود سے اپنا آپ ملایا جا سکتا ہے تنہائی کا ہاتھ بٹایا جا سکتا ہے خاموشی جب حملہ آور ہونا چاہے چوراہے پر شور مچایا جا سکتا ہے حیرانی کا قرض چکانا پڑ جائے تو آنکھوں کا احسان اٹھایا جا سکتا ہے دھرتی پر کچھ سبز رتوں کا بھیس بدل کر چرواہے کا خواب چرایا جا سکتا ہے ان کی تیرہ زلفوں سے ...