قومی زبان

خود سے اپنا آپ ملایا جا سکتا ہے

خود سے اپنا آپ ملایا جا سکتا ہے تنہائی کا ہاتھ بٹایا جا سکتا ہے خاموشی جب حملہ آور ہونا چاہے چوراہے پر شور مچایا جا سکتا ہے حیرانی کا قرض چکانا پڑ جائے تو آنکھوں کا احسان اٹھایا جا سکتا ہے دھرتی پر کچھ سبز رتوں کا بھیس بدل کر چرواہے کا خواب چرایا جا سکتا ہے ان کی تیرہ زلفوں سے ...

مزید پڑھیے

خواب زادوں کا دکھ زمینی ہے

خواب زادوں کا دکھ زمینی ہے یہ حقیقت بڑی کمینی ہے اے خدائے گماں کوئی تجویز معرکہ اب کوئی یقینی ہے پتھروں کے مزاج میں شامل آبگینوں پہ نکتہ چینی ہے وہ مرے سامنے سے اٹھ جائے جس کا مقصد تماش بینی ہے گھر کی تزئین میں سر فہرست ایک عورت کی نکتہ چینی ہے ایک پل کے جمال میں یکجا کئی ...

مزید پڑھیے

نظر آتے تھے ہم اک دوسرے کو (ردیف .. ے)

نظر آتے تھے ہم اک دوسرے کو زمانے کو نظر آنے سے پہلے تعجب ہے کہ اس دھرتی پہ کچھ لوگ جیا کرتے تھے مر جانے سے پہلے مزین تھی کسی کے خال و خد سے ہماری شام پیمانے سے پہلے گریباں کے بٹن پہ اونگھتا تھا ستارہ آنکھ کھل جانے سے پہلے رہا کرتا تھا اپنے زعم میں وہ ہمارے دھیان میں آنے سے ...

مزید پڑھیے

غفلتوں کا ثمر اٹھاتا ہوں

غفلتوں کا ثمر اٹھاتا ہوں روز تازہ خبر اٹھاتا ہوں بات بڑھتی ہے طول دینے سے سو اسے مختصر اٹھاتا ہوں ہو کے باشندہ اک ستارے کا انگلیاں چاند پر اٹھاتا ہوں چومتے ہیں جسے اٹھا کر لوگ میں اسے چوم کر اٹھاتا ہوں اب کہاں آسمان چھونے کو زحمت بال و پر اٹھاتا ہوں سوئے منزل میں ہر قدم ...

مزید پڑھیے

ارتقا

آگہی چند سمجھوتوں کا لا متناہی سلسلہ ہے جو مجھے میرے شعور کے انعام میں دیا جا رہا ہے زندگی!! صرف ایک طویل ہجر کا ذائقہ ہے جو مجھے عشق کے الزام میں دیا جا رہا ہے شاعری جذبوں کو لفظ سے گانٹھ کر مار دینے کا حوصلہ ہے جو مجھے بندگی کے نام پر دیا جا رہا ہے

مزید پڑھیے

خاتون خانہ

میں اپنی اولاد کے لئے دودھ کی ایک بوتل اپنے صاحب کے لئے تسکین گھر کے لیے مشین اور اپنے لیے ایک آہٹ بن کے رہ گئی ہوں میرا گھر جہاں مجھے رات اور دن انتظار کے دہکتے ہوئے لمس لپیٹ کر سونا پڑ رہا ہے خیال کی ادھ سلی باس سے کلائیوں کے گجرے گوندھ کر سنگھار کرنا پڑ رہا ہے تنہائیوں کے ...

مزید پڑھیے

فنا کی انجمن سے

بڑی گھٹن ہے سوال ہستی تو ہانپتے ہیں نظر کی عریانیاں ملی ہیں کسے کہوں کہ یہ مرے جذبوں کا باسی پن ہے بڑی گھٹن ہے جو سر بکف تھے، گرے پڑے ہیں جو گل شفق تھے، وہ نالیوں سے ابل رہے ہیں کسی جہنم کی سی جلن ہے بڑی گھٹن ہے کوئی تو روزن کوئی دریچہ کہیں دراڑوں سے کوئی رستہ فنا کی لمحوں کی ...

مزید پڑھیے

گمشدہ لمحے کی تلاش

کسی آنکھ کے پپوٹوں کے کھلنے اور بند ہونے کے درمیان ایک روشنی کا آسمان اپنی چھب دکھا کے کہیں گم ہو گیا ہے اور میں کبھی اپنی آنکھ کی پتلیوں کے جاگتے ہوئے اندھیروں میں اسے ڈھونڈتی ہوں اور کبھی کھلی آنکھ کے قلم سے لکھے گئے عکس میں اسے تراشتی ہوں مگر وہ روشنی کا آسمان مجھے مل نہیں رہا ...

مزید پڑھیے

آگہی کا جال

مرے اپنے حروف کا جال مری روح پر تنگ ہوتا جا رہا ہے اور اب تو مری روح کی ہڈیاں چٹخ رہی ہیں اور سراب آگہی کے سامنے سر پٹخ رہی ہیں ''سکوت'' کے حروف جنہوں نے میری سماعتوں سے شور کا لہو نچوڑ لیا ہے یہ ''روشنی'' کے حروف کہ جنہوں نے مری آنکھ کے کانچ کے دیوں میں رکھا ہوا تیل پی لیا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

کاش

کاش سمجھوتوں کو کانچ کی چوڑیوں کی طرح پیس کر کھایا جا سکتا تنہائی کے زہر کو شیو کے نیل کنٹھ کی طرح گلے میں رکھ کر جیا جا سکتا کاش پیاس کو اسنووہائٹ کے نصف سیب کی طرح حلق میں دبا کر موت کی نیند کا ابدی وقفہ لیا جا سکتا مگر یہ سمجھوتے تو میرے خون کو زہر کی طرح نیلا کرتے جا رے ہیں میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1156 سے 6203