قومی زبان

ترے خیال سے ذرا خوشی ہوئی

ترے خیال سے ذرا خوشی ہوئی اداسی تھوڑی دیر ملتوی ہوئی درخت شب چراغ اور تیرگی تمہارے بعد سب سے دوستی ہوئی ترے بدن کو چھو رہی تھیں انگلیاں ہتھیلیوں میں تیز روشنی ہوئی اسے لگا مجھے یقین ہو گیا وہ خوش بہت ہے جھوٹ بولتی ہوئی بنا دی اس نے چھو کے زندگی مری چلا دی اس نے ریل اک رکی ...

مزید پڑھیے

یہ کسی جسم کی اداسی ہے

یہ کسی جسم کی اداسی ہے جو مسلسل مجھے بلاتی ہے منزلیں ٹھیک ہے الگ ہوں گی بات تو یار راستے کی ہے روتے روتے کسی سہارے کو پیٹھ دیوار سے لگا لی ہے نیند بھی آ چکی ہے آنکھوں تک رات بھی ختم ہونے والی ہے زندگی نے بہت اجاڑا مجھے میں نے تب زندگی اجاڑی ہے

مزید پڑھیے

سیکڑوں دل یہاں کچلتے ہوئے

سیکڑوں دل یہاں کچلتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے اس کو چلتے ہوئے کتنی حسرت سے مجھ کو تکتا ہے رات بھر اک چراغ جلتے ہوئے بارہا کوششوں کے بعد آنسو گر پڑا آنکھ سے سنبھلتے ہوئے اس نے نظروں کو میری دیکھ لیا اپنے رخسار پر ٹہلتے ہوئے وصل کے بعد کی وہ خاموشی صبح کو پیرہن بدلتے ہوئے

مزید پڑھیے

اداس ہونٹوں سے اتنی ہنسی نکلتی ہے

اداس ہونٹوں سے اتنی ہنسی نکلتی ہے کہ تپتی ریت سے جتنی نمی نکلتی ہے وہ جب بھی رات کو چھت پر ٹہلنے جاتا ہے بہت جھجھکتے ہوئے چاندنی نکلتی ہے مجھے سکوں نہیں دیتی ہیں اب تری یادیں اب ان دیوں سے بہت تیرگی نکلتی ہے ہماری آنکھ میں خوشیاں تلاشنے والے کبھی بھی ریت سے کیا جل پری نکلتی ...

مزید پڑھیے

قربتیں نہ بن پائے فاصلے سمٹ کر بھی

قربتیں نہ بن پائے فاصلے سمٹ کر بھی ہم کہ اجنبی ٹھہرے آپ سے لپٹ کر بھی حادثوں نے ہر صورت اپنی زد میں رکھنا تھا ہم نے چل کے دیکھا ہے راستے سے ہٹ کر بھی آگہی کی منزل سے لوٹ جائیں ہم کیسے اس جگہ نہیں جائز دیکھنا پلٹ کر بھی ہم نے لاکھ سمجھایا دل مگر نہیں مانا مطمئن سا لگتا ہے کرچیوں ...

مزید پڑھیے

سحر و شام میں تنظیم کہاں ہوتی ہے

سحر و شام میں تنظیم کہاں ہوتی ہے خواہش صبح کی تجسیم کہاں ہوتی ہے لوٹ لے جاتا ہے بس چلتا ہے جس کا جتنا روشنی شہر میں تقسیم کہاں ہوتی ہے ان محلوں میں جہاں ہم نے گزاری ہے حیات مدرسے ہوتے ہیں تعلیم کہاں ہوتی ہے شہریاروں نے اجاڑا ہو جسے ہاتھوں سے پھر سے آباد وہ اقلیم کہاں ہوتی ...

مزید پڑھیے

روشنی سے تیرگی تعبیر کر دی جائے گی

روشنی سے تیرگی تعبیر کر دی جائے گی رنگ سے محروم ہر تصویر کر دی جائے گی عدل کے معیار میں آ جائیں گی تبدیلیاں بے گناہی لائق تعزیر کر دی جائے گی ہر نظر کو آرزوؤں کا سمندر بخش کر ہر زباں پر تشنگی تحریر کر دی جائے گی دب کے رہ جائیں گے جذبوں کے اجالے ایک دن ظلمت افلاس عالمگیر کر دی ...

مزید پڑھیے

شب تاریک چپ تھی در و دیوار چپ تھے

شب تاریک چپ تھی در و دیوار چپ تھے نمود صبح نو کے سبھی آثار چپ تھے تماشا دیکھتے تھے ہمارے ضبط غم کا مسلط ایک ڈر تھا لب اظہار چپ تھے ہوائیں چیختی تھیں فضائیں گونجتی تھیں قبیلہ بٹ رہا تھا مگر سردار چپ تھے گراتا کون بڑھ کر بھلا دیوار ظلمت اجالوں کے پیمبر پس دیوار چپ تھے متاع آبرو ...

مزید پڑھیے

سرکشی کو جب ہم نے ہم رکاب رکھنا ہے

سرکشی کو جب ہم نے ہم رکاب رکھنا ہے ٹوٹنے بکھرنے کا کیا حساب رکھنا ہے ایک ایک ساعت میں زندگی سمونی ہے ایک ایک جذبے میں انقلاب رکھنا ہے رات کے اندھیروں سے جنگ کرنے والوں نے صبح کی ہتھیلی پر آفتاب رکھنا ہے ہم پہ اس سے واجب ہیں کوششیں بغاوت کی تم نے جس قبیلے کو کامیاب رکھنا ہے رکھ ...

مزید پڑھیے

تلخیص کے بدن میں تفسیر بولتی ہے

تلخیص کے بدن میں تفسیر بولتی ہے تکمیل آرزو میں تدبیر بولتی ہے یہ معجزہ بھی دیکھا ہم نے کمال فن کا چپ ہو اگر مصور تصویر بولتی ہے تزئین انجمن کے ہم نے جو خواب دیکھے اب کرچیوں میں ان کی تعبیر بولتی ہے وہ لب کشا ہو جس دم لگتا ہے ہر کسی کو ہر لفظ میں اسی کی تقدیر بولتی ہے بنتا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1145 سے 6203