اک طاق میں ہوں جیسے رکھا ہوا اکیلا
اک طاق میں ہوں جیسے رکھا ہوا اکیلا جلتا ہوا اکیلا بجھتا ہوا اکیلا کب تک کرے گا مجھ میں آباد اک جہاں کو شاخوں میں اک پرندہ بیٹھا ہوا اکیلا بڑھتا رہا میں آگے ہٹتا رہا میں پیچھے دن بھر یوں ہی ہوا سے لڑتا ہوا اکیلا آنکھوں سے اس کی ٹپکا کب تک وہاں میں رہتا بن جاؤں گا سمندر بہتا ہوا ...