فضا کا حبس چیرتی ہوئی ہوا اٹھے
فضا کا حبس چیرتی ہوئی ہوا اٹھے سفر میں دھوپ ہے بہت کوئی گھٹا اٹھے پھرائے جسم پر مرے وہ انگلیاں ایسے کہ ساز روح میرا آج جھنجھنا اٹھے جو اور کچھ نہیں تو جگنوؤں کو کر رقصاں سیاہ شب ذرا ذرا سی جگمگا اٹھے مری طرح تمام لوگ بے زباں تو نہیں کسی طرف کسی جگہ سے مسئلہ اٹھے مرا فتور خود ...