قومی زبان

فضا کا حبس چیرتی ہوئی ہوا اٹھے

فضا کا حبس چیرتی ہوئی ہوا اٹھے سفر میں دھوپ ہے بہت کوئی گھٹا اٹھے پھرائے جسم پر مرے وہ انگلیاں ایسے کہ ساز روح میرا آج جھنجھنا اٹھے جو اور کچھ نہیں تو جگنوؤں کو کر رقصاں سیاہ شب ذرا ذرا سی جگمگا اٹھے مری طرح تمام لوگ بے زباں تو نہیں کسی طرف کسی جگہ سے مسئلہ اٹھے مرا فتور خود ...

مزید پڑھیے

ملا نہ کھیت سے اس کو بھی آب و دانہ کیا

ملا نہ کھیت سے اس کو بھی آب و دانہ کیا کسان شہر کو پھر اک ہوا روانہ کیا کہاں سے لائے ہو پلکوں پہ تم گہر اتنے تمہارے ہاتھ لگا ہے کوئی خزانہ کیا فضا کا حبس کسی طور اب نہیں جاتا کہ تلخ دھوپ کیا موسم کوئی سہانا کیا تمام طرح کے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں میاں مذاق گرہستی کو ہے چلانا ...

مزید پڑھیے

میری تجھ سے کیا ٹکر ہے

میری تجھ سے کیا ٹکر ہے میں اک شے تو سوداگر ہے خوابو تم آہستہ آنا میری نیند کا پل جرجر ہے غافل رہنے دو بچوں کو پھر تو آگے ڈر ہی ڈر ہے دکھیاروں کی اس بستی کے ہر گھر میں اک پوجا گھر ہے شام میں دن تبدیل ہوا اب اب ہر سایہ قد آور ہے اچھے موڈ میں ہے وہ دل کی کہنے کا اچھا اَوسر ہے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

حرص و ہوس کے نام یہ دن رات کی طلب

حرص و ہوس کے نام یہ دن رات کی طلب امداد کی امید مفادات کی طلب وہ سانحے کہ سوچ بدلنی پڑی مجھے پیدائشی نہیں تھی خیالات کی طلب میں بھی کسی مسیحا کے ہوں انتظار میں تم کو بھی غالباً ہے کرامات کی طلب خبروں میں ایک لطف کا پہلو تو ہے مگر اچھی نہیں ہے اتنی بھی حالات کی طلب کیسا عجیب روگ ...

مزید پڑھیے

پانی میں کنکر برسایا کرتے تھے

پانی میں کنکر برسایا کرتے تھے وہ دن جب ہم لمحے ضائع کرتے تھے ہوڑ ہوا سے اکثر لگتی تھی اپنی اکثر اس کو دھول چٹایا کرتے تھے دیکھ کے ہم کو راہ گزر مسکاتی تھی پیڑ بھی آگے بڑھ کر چھایا کرتے تھے دھوپ بٹورا کرتے تھے ہم سارا دن شام کو بانٹ کے گھر لے جایا کرتے تھے آج گھٹا افسردہ کرتی ہے ...

مزید پڑھیے

ویرانیوں کے خار تو پھولوں کی چھون بھی

ویرانیوں کے خار تو پھولوں کی چھون بھی اس راہ میں آئے ہیں بیاباں بھی چمن بھی کھلنا تھا فقط ایک دریچہ مرے گھر کا پھر روشنی بھی آئی، ہوئی دور گھٹن بھی بچے نے سجائی ہے کوئی اور ہی دنیا کھینچا ہے جہاں باگھ وہیں رکھا ہے ہرن بھی یاد اپنے وطن کی مجھے آتی نہیں اب تو اب بھول چکا ہوگا ...

مزید پڑھیے

سیاہ رات کے دریا کو پار کرتے چلو

سیاہ رات کے دریا کو پار کرتے چلو بس ایک دوسرے کو ہوشیار کرتے چلو افق کے نور سے گر مطمئن نہ ہو پاؤ نسیم صبح کا تو اعتبار کرتے چلو بٹور لاؤ ذرا خود کو چار سمتوں سے صفیں بنا کے بڑھو اب قطار کرتے چلو قیام طائرو کچھ دیر میرے آنگن میں تمام گھر کو مرے خوش گوار کرتے چلو تمہاری بات سے ...

مزید پڑھیے

ایک روزن کے ابھی کردار میں ہوں میں

ایک روزن کے ابھی کردار میں ہوں میں غور سے دیکھو اسی دیوار میں ہوں میں سب مناظر زرد سے پڑنے لگے ہیں یا بے یقینی کے اسی آزار میں ہوں میں ٹوٹ جائے آسماں دھرتی بھی پھٹ جائے کیا مجھے پروا کہ بزم یار میں ہوں میں ذہن میں اولاد ہے اور گھر کی جانب ہوں رک نہیں سکتا ابھی رفتار میں ہوں ...

مزید پڑھیے

تنہائی کا علاج یہ مہنگا بہت پڑا

تنہائی کا علاج یہ مہنگا بہت پڑا اکتا کے میں نے نیوز کا چینل لگایا تھا بس یہ کہ وجہ ترک تعلق ہی کچھ رہے اس نے ذرا سی بات پہ جھگڑا کھڑا کیا بگڑیل ہو چلے تھے کئی دن سے میرے خواب سچ کی چھڑی سے شام انہیں سیدھا کر دیا کھولا تھا رات ماضی کا ایک البم کہ اف یادوں کا میرے ذہن میں تانتا ...

مزید پڑھیے

یقین مر گیا مرا گمان بھی نہیں بچا

یقین مر گیا مرا گمان بھی نہیں بچا کہیں کسی خیال کا نشان بھی نہیں بچا خموشیاں تمام غرق ہو گئیں خلاؤں میں وہ زلزلہ تھا صاحبو بیان بھی نہیں بچا ندی کے سر پہ جیسے انتقام سا سوار تھا کہ باندھ فصل پل بہے مکان بھی نہیں بچا ہجوم سے نکل کے بچ گیا ادھر وہ آدمی ادھر ہجوم کے میں درمیان بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1125 سے 6203