قومی زبان

کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہ (ردیف .. ی)

کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہ سمجھ میں لعل کی اب تک حنا نہیں آئی خجل ہے آنکھوں سے نرگس گلاب گالوں سے وہ کون پھول ہے جس کو حیا نہیں آئی امڈ رہا ہے پڑا دل میں شوق زلفوں کا یہ جھوم جھوم کے کالی گھٹا نہیں آئی ہو جس سے آگے وہ بت ہم سے ہم سخن واعظ کہیں حدیث میں ایسی دعا نہیں آئی زباں ...

مزید پڑھیے

بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگے

بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگے بلبلہ آنکھوں سے خونابہ فشانی مانگے بحر الفت میں چلا ہے تو پہلے مستول تیر سے آہ کے کشتئ دخانی مانگے نکتۂ وصل دم عرض قلم پر رکھے بوسہ چاہے تو لب شوق زبانی مانگے تا قیامت دل بیدار سنائے ہر روز خواب راحت ترا گر روز کہانی مانگے دل تو دل افعئ گیسو ...

مزید پڑھیے

نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گی

نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گی اگر جدائی میں جاں رہے گی تمہیں بتاؤ کہاں رہے گی مژہ کے تیروں سے چھان دل کو جو چھاننی ہو نگہ کو گہری کھنچی ہوئی دل سے کب تلک یوں تری بھنؤں کی کماں رہے گی خدا نے منہ میں زبان دی ہے تو شکر یہ ہے کہ منہ سے بولو کہ کچھ دنوں میں نہ منہ ...

مزید پڑھیے

ان کو ہے اعتدال مجھے انتہا پسند

ان کو ہے اعتدال مجھے انتہا پسند ان کی جدا پسند ہے میری جدا پسند جور و جفا پسند ہے شرم و حیا پسند کافر ادا کی ہے مجھے اک اک ادا پسند ان کا مزاج اور ہے میرا مذاق اور ان کو جفا پسند ہے مجھ کو وفا پسند کیا خوب ہے یہ وقت کی رفتار دیکھیے کرتے ہیں میکدے کو بھی اب پارسا پسند رکھتے ہیں دو ...

مزید پڑھیے

ہمارے دل میں مچلے گی کسی کی آرزو کب تک

ہمارے دل میں مچلے گی کسی کی آرزو کب تک جنون عشق میں بھٹکیں گے ہم یوں کو بہ کو کب تک یہ کیا منزل نہ آئے گی ہمارے رو بہ رو کب تک رہیں گے دشت غربت میں اسیر جستجو کب تک غم ہستی کا بھی کچھ تو مداوا ڈھونڈھنا ہوگا غم ہستی مٹائیں گے بھلا جام و سبو کب تک بہاروں کی ہے آمد کا جنہیں دعویٰ وہ ...

مزید پڑھیے

تجھ کو میرے قرب میں پا کر جلتے ہیں دیوانے لوگ

تجھ کو میرے قرب میں پا کر جلتے ہیں دیوانے لوگ میرے تیرے نام سے اکثر گڑھتے ہیں افسانے لوگ آج خزاں کے ہاتھ گلستاں بیچ دئے ہیں یاروں نے فصل گل کو یاد کریں گے دیکھ کے یہ ویرانے لوگ لوگوں کی تشہیر کے ڈر سے ہم نے ملنا چھوڑ دیا بھولی بسری باتیں لے کر کہتے ہیں افسانے لوگ میں نے تجھ سے ...

مزید پڑھیے

ساقی کی ہر نگاہ میں صہبا تھی جام تھا

ساقی کی ہر نگاہ میں صہبا تھی جام تھا کل شغل مے کشی کا ہمیں اذن عام تھا ہم کشتۂ خزاں سہی اے دوستو مگر آسودۂ بہار ہمارا ہی نام تھا میرے بغیر آج وہ کتنے ہیں شادماں جن کو مرے فراق میں جینا حرام تھا دیکھا جو میکدے میں اسے اور بڑھ گیا میری نظر میں شیخ کا جو احترام تھا ہم بے نیازیوں ...

مزید پڑھیے

بہار گل سے اب دور خزاں تک

بہار گل سے اب دور خزاں تک کہاں سے بات آ پہنچی کہاں تک کہاں جائیں گے اب آخر یہاں سے جو آ پہنچے تمہارے آستاں تک ڈبو دے گا ہمیں خود ناخدا ہی نہ تھا اس کا کبھی وہم و گماں تک رفو گر آ کے بھی اب کیا سیے گا نہیں دامن کی باقی دھجیاں تک غضب ہے جل گیا دل کا نشیمن نہیں اٹھا مگر اس سے ...

مزید پڑھیے

دشت تنہائی میں ہم خاک اڑا دیتے ہیں

دشت تنہائی میں ہم خاک اڑا دیتے ہیں شب کی خاموشی میں یادوں کو صدا دیتے ہیں دن گزرتے ہیں طواف در جاناں کرتے اپنی راتوں کو بھی آنکھوں میں گنوا دیتے ہیں رات بھی بیت گئی تارے بھی سب ڈوب چلے اپنے اشکوں کو بھی پلکوں میں چھپا دیتے ہیں اپنے اطوار پہ نادم نہ ہوں محفل میں عزیز چہرے چھپ ...

مزید پڑھیے

شہر دل سلگا تو آہوں کا دھواں چھانے لگا

شہر دل سلگا تو آہوں کا دھواں چھانے لگا شبنمی آنچل مگر یادوں کا لہرانے لگا شام تنہائی میں بھی اک شخص کی یادوں کا ساتھ رنگ اپنے غم کے ویرانوں کا سنولانے لگا تھام کر بیٹھا رہا میں چاندنی کا نرم ہاتھ جب اندھیرا زلف کا ماحول پر چھانے لگا دشت تنہائی میں جی چاہا اسے آواز دوں جب پکارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1120 سے 6203