ٹلنے کے نہیں اہل وفا خوف زیاں سے
ٹلنے کے نہیں اہل وفا خوف زیاں سے یہ بحث مگر کون کرے اہل زماں سے رگ رگ میں رواں بحر فغاں چڑھ گیا لیکن ویرانیٔ جاں کم تو ہوئی ذکر بتاں سے روغن نہ سفیدی نہ مرمت سے ملے گا اک پاس مراتب کہ گیا سب کے مکاں سے آزار و مصیبت سے علاقہ ہے پرانا رشتہ ہے قدیمی مرا فریاد و فغاں سے گھاؤ بھی ...