قومی زبان

ٹلنے کے نہیں اہل وفا خوف زیاں سے

ٹلنے کے نہیں اہل وفا خوف زیاں سے یہ بحث مگر کون کرے اہل‌ زماں سے رگ رگ میں رواں بحر فغاں چڑھ گیا لیکن ویرانیٔ جاں کم تو ہوئی ذکر بتاں سے روغن نہ سفیدی نہ مرمت سے ملے گا اک پاس مراتب کہ گیا سب کے مکاں سے آزار و مصیبت سے علاقہ ہے پرانا رشتہ ہے قدیمی مرا فریاد و فغاں سے گھاؤ بھی ...

مزید پڑھیے

یہی ٹھہرا کہ اب اس اور جانا بھی نہیں ہے

یہی ٹھہرا کہ اب اس اور جانا بھی نہیں ہے یہ دوجی بات وہ کوچہ بھلانا بھی نہیں ہے بوئے صد‌ گل میں بھیگے ہو نہائے ہو دھنک میں محبت کر رہے ہو اور بتانا بھی نہیں ہے درون دل ہی رکھو واں حفاظت میں رہے گا وہ اک راز‌ نہفتہ جو چھپانا بھی نہیں ہے نہ باراں ہے نہیں طوفاں نہ جھکڑ ہے نہ ...

مزید پڑھیے

ہے کوئی درد مسلسل رواں دواں مجھ میں

ہے کوئی درد مسلسل رواں دواں مجھ میں بنا لیا ہے اداسی نے اک مکاں مجھ میں ملا ہے اذن سخن کی مسافتوں کا پھر کھلے ہوئے ہیں تخیل کے بادباں مجھ میں سحابی شام سر چشم پھیلتے جگنو کسی خیال نے بو دی یہ کہکشاں مجھ میں مہاجرت یہ شجر در شجر ہواؤں کی بسائے جاتی ہے خانہ بدوشیاں مجھ میں عجیب ...

مزید پڑھیے

چپ ہیں پاؤں تو رہ گزر خاموش

چپ ہیں پاؤں تو رہ گزر خاموش وقت کی ہیر کا سفر خاموش ہجر کی بد نصیب گلیوں میں چاند پھرتا ہے رات بھر خاموش کون نکلا ہے خانۂ دل سے کچھ دنوں سے ہیں بام و در خاموش کوئی ہنگامہ بولتا ہی نہیں شام کے لب پہ چپ سحر خاموش یاد کے پر ملال موسم میں پھول خوشبو ہوا شجر خاموش ایک کھڑکی سے ...

مزید پڑھیے

کیا بتلائیں یاد نہیں کب عشق کے ہم بیمار ہوئے

کیا بتلائیں یاد نہیں کب عشق کے ہم بیمار ہوئے ایسا لگے ہے عرصہ گزرا ہم کو یہ آزار ہوئے آپ کا شکوہ آپ سے کرنا جوئے شیر کا لانا ہے آپ کے سامنے بولوں کیسے آپ مری سرکار ہوئے تیر کی طرح کرنیں برسیں صبح نکلتے سورج کی لہولہان تھا سارا چہرہ نیند سے جب بیدار ہوئے عدل کی تو زنجیر ہلانے ہم ...

مزید پڑھیے

وہی فرقت کے اندھیرے وہی تنہائی ہو

وہی فرقت کے اندھیرے وہی تنہائی ہو تیری یادوں کا ہو میلا شب تنہائی ہو میں اسے جانتی ہوں صرف اسے جانتی ہوں کیا ضروری ہے زمانے سے شناسائی ہو اتنی شدت سے کوئی یاد بھی آیا نہ کرے ہوش میں آؤں تو دنیا ہی تماشائی ہو میری آنکھوں میں کئی زخم ہیں محرومی کے میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی ...

مزید پڑھیے

سودائے عشق کے تو خطاوار ہم نہیں

سودائے عشق کے تو خطاوار ہم نہیں ہیں عشق کے مریض گنہ گار ہم نہیں ہم جو کھٹک رہے تھے تمہاری نگاہ میں لو اب تمہاری راہ میں دیوار ہم نہیں اس کی خوشی کے واسطے خود کو فنا کیا پھر بھی وہ کہہ رہا ہے وفادار ہم نہیں دل میں ہمارے ایک تلاطم سا ہے بپا خاموش ہیں کہ زینت اخبار ہم ...

مزید پڑھیے

آگ پانی بھی ہے مٹی ہے ہوا ہے مجھ میں

آگ پانی بھی ہے مٹی ہے ہوا ہے مجھ میں میرے خالق کا کوئی راز چھپا ہے مجھ میں ہو نہ جائے تہہ و بالا کہیں دنیا ساری ایک طوفان بلا خیز بپا ہے مجھ میں روک لیتی ہوں قدم خود ہی غلط راہوں سے ایسا لگتا ہے کوئی مجھ سے بڑا ہے مجھ میں ایک مدت سے وہ خاموش ہے سیماؔ لیکن ایک مدت سے وہی چیخ رہا ہے ...

مزید پڑھیے

ذات کی دیوار بیچوں بیچ اک در وا ہوا

ذات کی دیوار بیچوں بیچ اک در وا ہوا آخری لمحوں میں گر ہو بھی گیا تو کیا ہوا رقص میں مدہوش غوغائے سرود و لے میں گم کون ہے یہ شدت‌ آزار سے ہنستا ہوا تیری میری آنکھ کی مٹی ہمیشہ نم رہے ہو ابد سے بھی پرے رخصت کا پل پھیلا ہوا بعد از یک ساعت خاموش ماتم ختم شد کیوں کسی کے سوگ میں رکتا ...

مزید پڑھیے

حصار ذات میں سارا جہان ہونا تھا

حصار ذات میں سارا جہان ہونا تھا قریب ایسے تجھے میری جان ہونا تھا تری جبیں پہ شکن کیوں وصال لمحے میں محبتوں کا یہاں تو نشان ہونا تھا تمہارے چھونے سے کچھ روشنی بدن کو ملی وگرنہ اس کو فقط راکھ دان ہونا تھا تمہاری نفرتوں نے مٹی میں ملا ڈالا جو خواب تارا سا پلکوں کی شان ہونا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1075 سے 6203