قومی زبان

واقف ہیں خوئے یار سے دیکھے چلن تمام

واقف ہیں خوئے یار سے دیکھے چلن تمام یک آن غمزہ زن کبھی شمشیر زن تمام کس سوز‌ اندرون نے تجھ کو کیا فگار کس شخص واسطے ہے دلا یہ سخن تمام گل رنگ و لالہ فام و شفق تاب و خوش عذار یک ماہ نو سے ماند ہوئے سیم تن تمام سو نامہ بر کو کاہے تھمائیں پیام ہم مستور ہے نگاہ میں اپنا سخن ...

مزید پڑھیے

فراق موسم کے آسماں میں اجاڑ تارے جڑے ہوئے ہیں

فراق موسم کے آسماں میں اجاڑ تارے جڑے ہوئے ہیں ندی کے دامن میں ہنسراجوں کے سرد لاشے گرے ہوئے ہیں چمکتے موسم کا رنگ پھیلا تھا جس سے آنکھیں دھنک ہوئی تھیں اور اب بصارت کی نرم مٹی میں تھور کانٹے اگے ہوئے ہیں ترے دریچے کے خواب دیکھے تھے رقص کرتے ہوئے دنوں میں یہ دن تو دیکھو جو آج ...

مزید پڑھیے

جو اپنے گھر کو کعبہ مانتے ہیں

جو اپنے گھر کو کعبہ مانتے ہیں پس دیوار پھر کیوں جھانکتے ہیں نہیں تیرے جنوں پر شک نہیں ہے تری عادت مگر پہچانتے ہیں یہ آزردہ جبیں ماضی کے باسی نئے زخموں پہ یادیں باندھتے ہیں ترے اہل یقیں سجدوں میں جھک کر مرے کافر ترا غم مانگتے ہیں ردائے شب تو ابر تر سے بھیگی چلو اک دھیان سر پر ...

مزید پڑھیے

دیکھ کیا تیری جدائی میں ہے حالت میری

دیکھ کیا تیری جدائی میں ہے حالت میری کوئی پہچان نہیں سکتا ہے صورت میری میں ترے حسن کا خلوت میں تماشائی ہوں آئینہ سیکھ نہ جائے کہیں حیرت میری آپ نے قتل کیا خیر گلہ مجھ کو نہیں اپنے کوچہ میں تو بنوایئے تربت میری خط پیشانی میں سفاک ازل کے دن سے تیری تلوار سے لکھی ہے شہادت ...

مزید پڑھیے

کہاں فرقت میں ہے دل دار اٹھنا بیٹھنا چلنا

کہاں فرقت میں ہے دل دار اٹھنا بیٹھنا چلنا تیرے عاشق کو ہے دشوار اٹھنا بیٹھنا چلنا تمہارا وحشیٔ لاغر نہ ٹھہرا شہر میں دم بھر پسند آیا سر کہسار اٹھنا بیٹھنا چلنا فقیرانہ کسی کے زیر سائے ہم بھی رہتے ہیں ہمیشہ ہے پس دیوار اٹھنا بیٹھنا چلنا کہیں کیا دوستو اس عشق نے عاجز کیا ہم ...

مزید پڑھیے

کبھی بھول کر بھی نہ بات کی مجھے دل سے ایسا بھلا دیا

کبھی بھول کر بھی نہ بات کی مجھے دل سے ایسا بھلا دیا کہوں کیا میں تیری شرارتیں کہ جگر کو تو نے جلا دیا وہ بناؤ کرنے ہیں بیٹھتے تو سبھوں سے لیتے ہیں خدمتیں کبھی مل دی مسی رقیب نے کبھی سرمہ میں نے لگا دیا غم عشق کی سنی داستاں تو کلیجہ تھام کے یار نے یہ کہا کہ قصہ عجیب تھا مرے دل کو اس ...

مزید پڑھیے

خرد کے جملہ دساتیر سے مکرتے ہوئے

خرد کے جملہ دساتیر سے مکرتے ہوئے پھر آج دل سے لگا بیٹھے نام برتے ہوئے صدائیں دو کہ کوئی کاروان غم ٹھہرے ہمیں تو راس نہ آئیں گے دن سنورتے ہوئے جو محو رقص رہے رنگ و نور کے چو گرد بکھر گئے ہیں تری لو کا طوف کرتے ہوئے وہ تخت جاں تھا جہاں تیری تاج پوشی کی سو کس جگر سے تجھے دیکھ لوں ...

مزید پڑھیے

کوچہ ہائے دل و جاں کی تیرہ شبو آس مرتی نہیں

کوچہ ہائے دل و جاں کی تیرہ شبو آس مرتی نہیں آخری سانس بھرتے ستارو سنو آس مرتی نہیں چشم گریاں ذرا تھم بھی جا اشک میں دل بھی بہہ جائے گا صبر صحرائے وحشت کے ماتم گرو آس مرتی نہیں درد اٹھنے سے دل کے شرارے کہاں بجھ سکے ہیں کبھی لاکھ روشن نگاہوں میں خوں لا بھرو آس مرتی نہیں والیٔ شہر ...

مزید پڑھیے

کھوٹ کی مالا جھوٹ جٹائیں اپنے اپنے دھیان

کھوٹ کی مالا جھوٹ جٹائیں اپنے اپنے دھیان اپنا اپنا مندر منبر اپنے رب بھگوان گھر جانے کی کوئی دوجی راہ نکالی جائے آن کے رہ میں بیٹھ گیا ہے اک جوگی انجان زخمی سورج زہر میں بھیگی لو پیاسے پنچھی ٹوٹی بکھری ہجر گلی میں کچھ شاخیں بے جان اپنے دکھ کا گھونٹ گلا اور یار کے آنسو اوڑھ ان ...

مزید پڑھیے

کون دروازہ کھلا رکھتا برائے انتظار

کون دروازہ کھلا رکھتا برائے انتظار رات گہری ہو چلی رہرو عبث ہے کل پکار آنکھ جل جاتی ہے لیکن خواب جھلساتی نہیں سرمئی ڈھیری کی خنکی سے جنم لے گی بہار کون دشت کرب کے آزار کا عادی ہوا کون جا پایا ہے بحر درد کی موجوں کے پار رنج میں لپٹا رہا مہتاب کا غمگیں بدن رات ٹیرس پر کوئی سجدے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1074 سے 6203