واقف ہیں خوئے یار سے دیکھے چلن تمام
واقف ہیں خوئے یار سے دیکھے چلن تمام یک آن غمزہ زن کبھی شمشیر زن تمام کس سوز اندرون نے تجھ کو کیا فگار کس شخص واسطے ہے دلا یہ سخن تمام گل رنگ و لالہ فام و شفق تاب و خوش عذار یک ماہ نو سے ماند ہوئے سیم تن تمام سو نامہ بر کو کاہے تھمائیں پیام ہم مستور ہے نگاہ میں اپنا سخن ...